اسلام آباد(اویس الحق سے)پاکستان اور چین نے افغان طالبان کو ایک مضبوط اور مربوط پیغامدیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والی تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہ ہو۔
یہ پیغام پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹرٹیجک مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں دیا گیا۔
فریقین نے افغان معاملے پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تاکہ افغان حکومت کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ بنانے، معتدل پالیسیاں اپنانے، ترقی پر توجہ مرکوز کرنے، خوشگوار ہمسائیگی برقرار رکھنے اور افغانستان کی مستحکم ترقی اور عالمی برادری میں شمولیت میں تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
دونوں ممالک کے درمیان سی پیک سمیت مشترکہ مفادات کے تحفظ پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے وانگ ای کی دعوت پر 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا اور یہ مذاکرات 4 جنوری کو ہوئے۔ فریقین نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل اور سیاسی، سٹریٹجک، دفاعی، سکیورٹی، اقتصادی اور عوامی سطح پر تعاون کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر 2026 میں یادگاری سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا۔دونوں اطراف نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تعلقات کی مسلسل ترقی علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے نئے دور میں ایک اور بھی قریبی پاک چین مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی (2025-2029) کے فروغ کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد نے صدر شی جن پنگ کے دور میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کی تعریف کی۔ 14 ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیاب تکمیل اور آنے والے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے پر بیجنگ کو مبارکباد دی اور چین کے عوام دوست ترقیاتی فلسفے کو سراہا۔
بدلے میں چین نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے اور پاکستان کے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’’ اڑان پاکستان 2024تا 2029‘‘ کے تحت ترقی کی بنیاد رکھنے پر پاکستان کی قیادت کو مبارکباد دی۔
فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم، قومی اتحاد کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت اور تائیوان کی آزادی کی کسی بھی شکل کی مخالفت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق مسائل پر بھی چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چین نے دہشت گردی سے نمٹنے اور چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے جامع اقدامات کی تعریف کی۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپ گریڈ شدہ ورژن 2.0 کی تعمیر پر اتفاق کیا جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک پیش رو منصوبہ ہے۔ اس میں صنعت، زراعت اور کان کنی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
گوادر بندرگاہ کی ترقی کو تیز کیا جائے گا، شاہراہِ قراقرم پر بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔ دونوں نے نے تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون مزید بڑھانے