شادی کیلئے جمع رقم فلسطین کے مسلمانوں کو تحفہ

اللہ تعالیٰ کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں، اللہ کا سب سے بڑا احسان یہ کہ اس نے ہمیں ہدایت کی دولت سے نوازا، انبیاء علیہم السلام کے ذریعے ہمارے سامنے حلال و حرام کو واضح کردیا، اللہ کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل انسان حلال وحرام کو بھول چکا تھا، سب سے بڑا فساد یہ رونما ہوا کہ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا،

معصوم بیٹی جاہلیت کی بھینٹ چڑھ رہی تھی، خاندان نظام کی اس تباہی سے پورا معاشرہ بکھر گیا تھا، جاہلیت کے اس معاشرے میں سب سے زیادہ مظلوم عورت تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانوں تک اسلام کا سچا پیغام پہنچایا، کل جو عورت مظلوم تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق جو معاشرہ تشکیل پایا،

اس میں سب زیادہ عزت اور وقار بہن، بیٹی، بیوی اور ماں کی صورت میں اس عورت کو نصیب ہوا ایک بیٹی کی پرورش پر ماں باپ کو جنت کی بشارت دی گئی،انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ کیا کہ مرد اور عورت کو اپنی آزاد مرضی سے زندگی کے بجائے نکاح کا بابرکت راستہ دکھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نکاح میری سنت ہے جس نے اس سنت سے اعراض برتا وہ ہم میں سے نہیں، آج کی دنیا دو بڑی تہذیبوں میں تقسیم ہوگئی ہے ایک طرف یورپ کا مادر پدر آزاد معاشرہ ہے جس میں ایک عورت اور ایک مرد بغیر نکاح کے زندگی گزار سکتے ہیں، عورت کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں، وہ ایک مشین ہے،

وہ ایک مشین کی طرح دوڑتی اور چلتی رہتی ہے پھر جب بوڑھی ہوتی ہے تو وہ ایک Old Home ہیں زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہوتی ہے۔ دوسری طرف اسلام نے وہ پاکیزہ خاندانی نظام عطا کیا، جس میں ایک بیٹی باپ کی گود میں پلتی ہے وہ ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تھوڑی بڑی ہوتی ہے بھائیوں کی آنکھوں تارا بن جاتی، ماں باپ اپنی پیاری بیٹی کی پرورش بڑے ارمانوں سے کرتے ہیں، پھر بڑی سوچ بچار کے بعد اس کا رشتہ ڈھونڈتے ہیں، ماں،باپ اور بھائی بڑی چاہتوں سے اس کی شادی کی تیاریاں کرتے ہیں، پھر وہ دن آتا ہے جب وہ اپنی بیٹی کا نکاح ایک نوجوان سے کردیتے ہیں، نکاح کی تقریب چھپ کر نہیں بلکہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں مسجد میں، شادی ہال میں یا کسی اجتماع میں منعقد ہوتی ہے،

جب ماں باپ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنی لخت جگر گلے لگا کے رخصت کرتے ہیں،جب بہن بھائیوں کے گلے لگتی ہے تو بھائی اور بہن کی چیخیں نکل جاتی ہیں، جب بھائی اپنی معصوم بہن کو گلے لگا کر رخصت کرنے لگتا ہے تو بہن بہتے ہوئے آنسوؤں میں اپنے بھائی کے ہاتھوں کو چومتی ہے اور بھائی اپنی بہن کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنی بہن کو گاڑی میں بٹھانے لگتا ہے وقت تھم جاتا ہے، پاس کھڑے ماں باپ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں، بھائی بہنیں، ماں باپ اپنی لخت جگر کو الوداع کہتے ہیں، نکاح کے پاکیزہ رشتے کے زریعے وہ بیٹی اور وہ بہن ایک مضبوط مرد کی عزت بن چکی ہے،جس بچی نے بائیس تئیس سال ماں باپ کی گود میں اور اپنے بھائیوں کے مضبوط بازوؤں میں گزارے ہیں، بھائیوں کی محبتوں کو سمیٹا، آج نکاح جیسی پاکیزہ سنت کے ذریعے اپنی نئی زندگی میں داخل ہوچکی ہے،

یہ ساری برکتیں نکاح کی ہیں جب باپ بیٹی کو رخصت کر کے گھر داخل ہوتا ہے بیٹی کے کمرہ کو دیکھتا ہے، بیٹی کا کمرہ خالی دیکھ باپ کے آنسو نکل آتے ہیں اگلے لمحے وہ اپنے دل میں اطمینان محسوس کرتا ہے میری لخت جگر سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں نکاحِ کے بابرکت اور پاکیزہ سنت کے ذریعے ایک نوجوان کی زندگی کا حصہ بن گئی ہے، اس رات ماں باپ مصلے پر بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ہماری لخت جگر باوقار انداز میں نئی زندگی شروع کر چکی ہے،جب کہ یورپ کا معاشرہ اس سے محروم ہے، لیکن آج کے مسلم معاشرے میں بھی نکاح کو مشکل بنا دیا گیا ہے، بیٹے کی شادی ہو یا بیٹی کی رخصتی مشکل سے مشکل تر ہوگی ہے، اس حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہمارے سامنے واضح ہیں

حضرت عبداللہ بن مسعود رضہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانو۔تم میں سے جو نکاح کی زمہ داریاں اٹھانے کی سکت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچا اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے

بخآری و مسلم
دوسری حدیث میں جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، اس کے مال کی بنیاد پر، اس کی خاندانی شرافت کی بنیاد پر، اس کی خوبصورتی کی بنیاد پر، اس کے دین کے بنیاد پر تو تم دین دار عورت کو حاصل کرو، تمہارا بھلا ہو

متفق علیہ،
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرضیت مہر کے حوالے سے امت کو تعلیم دی،اس حدیث کے راوی عقبہ بن عامر رضہ ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شرطوں سے وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے جس کے ذریعے تم عورتوں کی عصمت کے مالک بن جاتے ہیں

اب اس شادی کا تذکرہ کرنے لگا ہوں جو ہر لحاظ سے خوبصورت ترین شادی تھی، سروبہ سے ہمارے بزرگ قائد اور مربی محترم جناب حاجی ناصر خان صاحب کے پوتے اور ہمارے بھائی ملک عبد الرؤف کے صاحب زادے ملک محمد ابراہیم کی شادی سروبہ کی علمی اور سنجیدہ شخصیت ملک محمد صابر کی بیٹی سے نومبر 2025 طے پائی، میرے بھائی ملک عبد الرؤف کی خواہش تھی کہ بچی دین دار ہو، الحمدللہ ہم سے انھوں نے ہر قدم پر مشورہ کیا اور اپنی فیملی کے سنجیدہ افراد کے مشورے سے رشتہ طے کیا، الحمدللہ دونوں گھرانے دین دار ہیں، دونوں گھرانوں نے طے کیا کہ کوئی جاہلیت کی رسم نہیں کریں گے پھر ایسے ہی ہوا،

نکاح کی تقریب کے موقع پر حضرت مولانا مطیع اللہ فاروقی صاحب نے درس قرآن ارشاد فرمایا، پھر بچی اپنے ماں باپ کی دعاوں کے ساتھ اور بھائیوں کے پیار کو سمیٹ کر رخصت ہوکر اپنے نئے گھر آگئی، اب اس کے والد ملک صابر نہیں لکہ اس کے والد ملک عبد الرؤف ہیں، اب اس کے دادا ممتاز مذہبی سکالر حاجی ناصر خان ہیں، پھر ولیمہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے شادی ہال میں منعقد ہوا، تقریباً ایک ہزار مہمان تھے، مہمان خصوصی قائد محترم جناب لیاقت بلوچ صاحب تھے، دیگر مہمانان گرامی سابق ناظم یوسی کولیاں حمید کرنل ریٹائرڈ نواز صاحب، سابق ممبر ضلع کونسل ملک دبیر صاحب اور علاقے کے معززین موجود تھے،

اس موقع پر درس قرآن حضرت مولانا مطیع اللہ فاروقی صاحب نے ارشاد فرمایا، ایک خاص کام دونوں خاندانوں نے،دولہن بیٹی نے اور دولہا ملک محمد ابراہیم نے طے کیا نکاح،رخصتی اور ولیمہ کی تقریبات کے علاؤہ کوئی غیر اسلامی تقریب نہیں ہوگی، انھوں نے مہندی اور دیگر ساری غیر اسلامی رسومات کو چھوڑ کر وہ رقم مبلغ پانچ لاکھ روپے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے غزہ فنڈ میں جمع کرادی گئی، اس کے بعد ہمارے شہزادہ ملک محمد ابراہیم اور ہماری دولہن بیٹی عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حرمین شریفین چلے گئے،

اللہ تعالیٰ اس خوبصورت شادی میں برکت عطا فرمائے، ہماری بیٹی اور بیٹے کو دائمی خوشیاں اور سکون نصیب فرمائے، دونوں گھرانوں کو باہمی محبت اور احترام عطا فرمائے، ہر طرح کی شرور سے محفوظ فرمائے، ہم سب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کی غیر اسلامی رسومات سے محفوظ فرمائے آمین، آج ہم نے جاہلیت کے جو بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں، ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم بوجھوں کو کندھوں سے اتار کر پھینک سکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔آمین

خالد محمود مرزا