
ہمارے فیصل آباد سے نو منتخب بلا مقابلہ سینیٹر چوہدری عابد شیر علی اپنے عظیم باپ اور محسن فیصل آباد چوہدری شیر علی کی طرح مسلم لیگ اور اس کے سربراہ میاں نواز شریف کے لیے بے شمار قربانیو ں اور وفاداروں کی عظیم داستان رکھتے ہیں مسلم لیگ پر جب بھی ابتلا و ازمائش کا دور ایا تو چوہدری شیر علی سے عابد شیر علی تک اپنے قائد کے ساتھ ڈٹ کر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے سختیاں جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ان پر بلا جواز مقدمات بنائے گئے
مگر وہ سرخرو ہوئے قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف نے اپنے وفادار سپاہی چوہدری عابد شیر علی کو بلا مقابلہ ایوان بالا کا رکن بنا دیا قربانیوں اور وفاداریوں کے صلے میں ممبر سینٹ منتخب کر کے انہیں عزتوں کی بلندیوں پر فائز کر دیا اس میں شک نہیں کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ وفاداری کے بدلے اپنے چھوٹے ورکر سے لے کر بڑے سیاست دان تک کو خوب عزت سے نوازا ہے
وہ جس عہدے یا منصب کا اہل تھا اسے دے دیا عزت و توقیر میں کمی نہ آنے دی اسے بھی پتہ چلا کہ مسلم لیگ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی جس نے برے وقت اپنے قائد کا ساتھ دیا تھا آج وہ سب مسلم لیگ کی حکومت اور عروج کے دور کو خوب انجوائے کر رہے ہیں سیاسی جماعتوں پر عروج و زوال آتے ہیں اور ہمارے ملک میں یہ 70 سالوں سے ہو رہا ہے
کل کے حکمران اور عروج کی بلندیوں پر فائض آج قید و بند اور سختیوں کے دور سے گزر رہے ہیں وہ بھی سیاہ و سفید کے مالک تھے اپنے دور حکومت میں ہر وہ کام کر گزرے جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھے مگر اقتدار کا خمار اور اقتدار کی طاقت تھی جو سوچا کر گزرے اب اس کردہ گناہوں کا خمیازہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھگت رہے ہیں اور اپنی رہائی کے منتظر ہیں اج مسلم لیگ بھی عروج کی بلندیوں اور اقتدار کی طاقت پر فائض ہے یہ بھی بعض کام ایسے کر رہی ہے جس سے عوام ذہنی مریض بن رہی ہے
اگرچہ ان کی سوچ بہتر ہوگی مگر عوام کے نزدیک ان کو اذیت اور پریشانی دینے کے سوا کچھ نہیں دیا جا رہا ہمیں اپنے سے پہلے اقتدار میں رہنے والوں سے سبق سیکھنا ہوگا تاکہ کل کے آنے میں دیر نہیں لگتی آنکھ جھپکتے اقتدار کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔سینٹر چوہدری عابد شیر علی ممبر سینٹ منتخب ہو چکے ہیں یہ ان کے لیے بڑی خوش بختی اور اعزاز کی بات ہے جب ایک دوست نے بتایا کہ عابد شیر علی کو سینٹ کی خالی ہونے والی سیٹ پر کھڑا کیا جا رہا ہے تو میں نے فورا کہا تھا کہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں گے پھر دو تین دن بعد ایسا ہی ہوا ایسا کیوں نہ ہوتا جسے قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کھڑا کیا ہو
اور پوری مسلم لیگ اس کے کندھے پر کھڑی ہو اس کا مقابلہ کون کرے گا۔ ہمارے محسن و مربی سینیئر کالم نگار سنجیدہ اور باوقار شخصیت محترم عرفان صدیقی مختصر علالت کے بعد گزشتہ ماہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے اللہ تعالی ان کو کروٹ کروٹ جنت دے وہ مسلم لیگ نون کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے وہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ کے سنجیدہ اور باوقار سپاہی تھے میری محترم عرفان صدیقی صاحب سے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں مجھے یاد ہے ان کے کالموں کے مجموعہ پر لکھی کتاب”دائروں کا سفر“کی تقریب رونمائی تھی
چناب کلب فیصل آباد میں اور اس کے مہمان خصوصی اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ اور مہمان اعزاز جناب احسن اقبال صاحب تھے کالم نگار انور نیازی اور ستارہ کیمیکلز کے بانی میاں بشیر احمد و دیگر بڑی شخصیات اس تقریب مدعو تھے تقریب کا اہتمام ہمارے سینیئر صحافی دوست مجاہد منصوری اور شفیق کاشف نے کیا تھا جو آج بھی ہمارے دلوں میں نقش ہے۔ سینیٹر عابد شیر علی گزشتہ الیکشن میں ممبر قومی اسمبلی منتخب نہ ہو سکے تھے مسلم لیگ نے ان کو اس کے بدلے سینٹ کا ممبر بنا کر ایوان بالا میں بھیج دیا اب دیکھتے ہیں وہ سینٹ میں اپنے شہر اور ملک کے مسائل کا مقدمہ کس طرح پیش کرتے ہیں
ان کے والد گرامی کے ساتھ میری شعبہ صحافت سے وابستہ ہونے کے ناطے بے شمار ملاقاتیں ہوئی ان کی رہائش گاہ پر بھی پریس کانفرنس اور دیگر پروگرامات اٹینڈ کیے ہیں بلا شبہ چوہدری شیر علی سے مل کر اپناہیت کا احساس ہوتا ہے زندہ دل ہونے کے ساتھ اپنے قریبی دوستوں اور ورکروں صحافیوں اور تاجروں سے دلی محبت رکھتے ہیں وہ بابائے سیاست اور فیصل آباد کی سیاست کا بے تاج بادشاہ ہیں آج بھی ان کی پیرانہ سالی اور بزرگی کے باوجود بڑے بڑے سیاستدان اور بالخصوص رانا ثنا اللہ خان جیسے سنجیدہ سیاستدان بھی ان سے رہنمائی لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں
اللہ تعالی محسن فیصل آباد چوہدری شیر علی کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطاء فرمائے فیصل آباد کے لیے ان کی خدمات پر الگ سے ایک کالم بہت جلد لکھوں گا۔
ساجد علی