سکوٹ (انوار الحق راجہ سے )دل دو نظام اسلامی پاکستان کے تحت جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے پورے پنجاب میں بلدیاتی ترمیمی ایکٹ (کالا قانون) کے خلاف 15 جنوری 2026 کو عوامی ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے اپنے کارکنان کے ہمراہ قرطبہ مسجد کلر سیداں میں مقامی میڈیا سے پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کو عوام دشمن اور کالا قانون قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے باوجود پنجاب حکومت دانستہ طور پر انتخابات نہیں کروا رہی جو آئین اور جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتیں جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہیں مگر پنجاب حکومت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی اس ناانصافی کے خلاف عوامی سطح پر ریفرنڈم شروع کر رہی ہے تاکہ اس کالے قانون کو مسترد کرایا جا سکے۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سیاست دانواں نے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کو اپنے کندھے پیش کیے، فاطمہ جناح ، ذولفقارعلی بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان سب کو طاقت کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا، سیاست دانوں کو کم ازکم ایجنڈہ پر متحد ہونا ہوگا ، جماعت اسلامی کسی کو بھی سیاسی بنیادوں پر قید میں ڈالنے کے حق میں نہیں ، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا ہونا چایۓ
پریس کانفرنس کے بعد سپورٹس گراؤنڈ کلر سیداں کے مین گیٹ کے سامنے بلدیاتی کالا قانون اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے خلاف احتجاجی کیمپ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا، جہاں شہریوں کو اس قانون کے نقصانات اور مطالبات سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر لیاقت بلوچ سابق رکن قومی اسمبلی و نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، سید عارف شیرازی امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی، راجہ محمد جواد نائب امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی، بلال ظہور ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی، محمد توقیر اعوان امیر جماعت اسلامی کلر سیداں و سیکرٹری جنرل خدمت فاؤنڈیشن ضلع راولپنڈی اور قاری قاسم الحق سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کلر سیداں بھی موجود تھے۔