دسمبرجب بھی آتا ہے تو دل پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے سانحہ مشرقی پاکستان کی بدولت پاکستان کے وجود پر لگے گھاؤ سے رِسنے والا لہو نمایاں ہوجاتا ہے،مسلمانوں کیلئے علٰیحدہ وطن کے حصول کی جِدوجُہد میں اپنا تن، من اور دَھن نِچھاور کرنے والوں کی سرزمین بنگال کی علٰیحدگی کا صدمہ تازہ ہوجاتا ہے،اُداسی پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے بنگال کی تاریخ پرنگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1872ء میں بنگال میں مسلمانوں کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی جو1941ء میں تین کروڑ اسّی لاکھ تک جا پہنچی،
بنگال کے ایک حصّے میں مسلمان اور دوسرے میں ہندو اکثریت میں تھے مسلمانوں کا مفاد تقسیمِ بنگال میں تھا جب کہ ہندو ایسا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اس طرح مسلمان ان کے زیرِنگیں رہنے کی بجائے آزادی سے زندگی کے روزمرہ کے اُمور انجام دینے لگتے جو انہیں قبول نہ تھا 16اکتوبر 1905ء کو برطانوی حکومت نے بنگال کو تقسیم کردیا
جس کی وجہ سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی مگر ہندوؤں نے اس فیصلے پر سخت مزاحمت کی اورانہوں نے پورے ہندوستان میں احتجاجی جلوس نکالے،بالآخر چھے سال بعد شاہِ انگلستان جارج پنجم نے 12دسمبر1911ء کو تقسیمِ بنگال کی تنسیخ کے حکم نامے پر دستخط ثبت کردئیے بنگال کی سرزمین ڈھاکہ میں ہی 30دسمبر1906ء کو نواب محسن الملک کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں نواب سلیم اللٰہ خان نے مسلمانوں کی علٰیحدہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی قرارداد پیش کی جسے اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اسی سرزمین بنگال کے سپُوت شیرِبنگال مولوی فضل الحق نے 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قراردادِ لاہور پیش کی،اس قرارداد کو بعد میں قراردادِ پاکستان کہا جانے لگا،اس قرارداد کی منظوری نے تحریکِ آزادی میں نئی روح پھونک دی اور مسلمان نئے جوش وولولے سے علٰیحدہ وطن کے حصول کیلئے سرگرم ہوگئے جس کی بدولت 14اگست 1947ء کو ہندوستان تقسیم ہوگیا اور مسلمانوں کیلئے الگ وطن پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔بنگال کے وزیرِاعظم حسین شہیدسُہروردی نے قیامِ پاکستان سے پہلے 1946ء کے انتخابات میں زبردست مہم چلائی جس کی وجہ سے آل انڈیا مسلم لیگ نے 200مسلم نشستوں میں سے 194نشستوں میں کامیابی حاصل کرلی۔آپ ہی وہ پہلے راہ نُما تھے جنہوں نے نہرو رپورٹ کے خلاف آواز بلندکی تھی.
بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی برداشت نہیں کیا،1965ء کی جنگ کی ناکامی کے بعد اس نے شیخ مجیب الرحمٰن سے گٹھ جوڑ کرلیا اور مکتی باہنی کے تربیت یافتہ تخریب کاروں کو مشرقی پاکستان میں مخصوص ذمہ داریاں سونپ کر بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں میں ہندوانہ سوچ پیدا کریں
اور پاکستان سے نفرت کے جذبات اُبھاریں شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنے چھے نکات کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کیا اور بنگالی کو قومی زبان کے طور پر رائج کرنے پرزور دیا اگرچہ آئین میں بنگالی اور اُردُو کو قومی زبان قرار دے دیا گیا تھا 1970ء کے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کرلی تھی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اُدھر آپ اِدھر ہم کا نعرہ لگا یا اور صدرِپاکستان جرنل یحیٰ خان نے اس کی تائید کی اس اقدام سے پاکستان کے دولخت ہونے کی راہ ہموار ہوئی،
بھارت نے اپنی فوج مشرقی پاکستان میں اُتار دی اور مسلح کاروائیوں کا آغاز کردیا،مغربی پاکستان سے مزید کمک بروقت نہ پہنچ سکی جس کے نتیجے میں 16دسمبر1971ء کو سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ وقوع پذیر ہوگیامشرقی پاکستان کے عوام اپنے وطن سے بے پناہ محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے تقسیم کی بھرپور مزاحمت کی جماعت اسلامی نے وطن کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے بیشمار قربانیاں دیں اور قیدوبند کی سختیاں برداشت کیں اور بعض راہنماؤں کی اسیری کئی دہائیوں تک قائم رہی شیخ مجیب الرحمٰن کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت میں جماعت اسلامی کے بے شمار راہنماؤں کو تختہء دار پر چڑھا دیا گیا مگر اُن کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہ کی جا سکی۔مشرقی پاکستان کے شُعراء نے ملی نغمات تخلیق کئے اور گلوکاروں نے اپنی مدھر آواز کا جادو جگایا، شہناز بیگم اور آئرن پروین کی آواز میں گائے ہوئے یہ ملی نغمات آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں
جیوے جیوے پاکستان
سوہنی دھرتی اللٰہ رکھے قدم قدم آباد تجھے
ان گلوکاراؤں کے علاوہ رونا لیلٰی،بشیراحمداور نذیربیگ(ندیم) کے گائے ہوئے فلمی گیت آج بھی مقبول ہیں ندیم،رحمان،شبانہ اور شبنم کی اداکاری اور روبن گھوش کی موسیقی سے مزیّن بیشمار فلمیں پاکستان کی فلمی تاریخ کا روشن باب ہیں، اس سانحے کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ندیم کے علاوہ سب نے بنگلہ دیش میں رہنا پسند کیا۔
بنگال کے ناول نگار فضل احمدکریم فضلی نے اپنے ناول ”خونِ جِگر ہونے تک” میں بنگال کی قحظ زدہ دیہی زندگی کی منظرکشی اس طرح کی کہ جسے پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔وطن دولخت ہوا تو بہت کچھ تقسیم ہوگیا،گھر،خاندان،رشتیناطے،محلہ دارتقسیم ہوگئے،کچھ اُدھررہ گئے،کچھ اِدھر،محبتیں تقسیم ہوگئیں،قُربتیں دُوریوں میں بدل گئیں،محبتوں نے نفرتوں کا لبادہ اوڑھ لیا،اپنے بے گانے بن گئے اور بے گانوں میں اپنا پن نظر آنے لگا
اس عظیم سانحے کو سیّد ضمیرجعفری نے یوں بیان کیا ہے
دل زخمی ہے،جاں بے کَل ہے،بچھڑے تھے بھری جوانی میں
پچیس برس تک دھڑکے ہیں ہم دونوں ایک کہانی میں
اِک درد کی ٹِیس تواُٹھے گی،تیری بے مہر روانی میں
اپنے اپنے آنسو چھوڑآئے،پدما تیرے ستیل پانی میں
اس سانحے کی منظر کشی شاہدہ لطیف یوں کرتی ہیں
آج جذبوں میں وہ شورِبے کراں باقی نہیں
زخم دل میں وہ لگا ہے آہ،جاں باقی نہیں
دل کے ٹکڑے ہوگئے،چھلنی یہ سینہ ہوگیا
ملک کیا ٹوٹا،لگا جیسے جہاں باقی نہیں
نصیر تُرابی نے بھی اس سانحے کے پس منظر میں یہ غزل کہی ہے
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالَم رہا،جدائی نہ تھی
سلیم اختر راجپوت