پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران بم دھماکوں، خودکش حملوں، ٹرین حملوں اور سیکیورٹی فورسز پر کارروائیوں میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کوئٹہ میں حالیہ ٹرین بم دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ بنوں، وزیرستان، لکی مروت اور دیگر علاقوں میں بھی دہشتگرد حملوں نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا۔کہیں ٹرین پر حملہ ہوتا ہے، تو کہیں بازار اور مساجد خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ یہ واقعات صرف چند علاقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے امن، معیشت اور مستقبل کے لیے ایک خطرناک چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
ٍ حال ہی میں بلوچستان میں ٹرین پر ہونے والا خوفناک حملہ، بنوں اور وزیرستان میں خودکش دھماکے اور مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشتگرد تنظیمیں ایک بار پھر منظم ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف سیکیورٹی اہلکار بلکہ عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ معصوم بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ رہا ہے، ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں اور عام شہری خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
دہشتگردی صرف جانوں کا نقصان نہیں کرتی بلکہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتی ہے۔ جب کسی علاقے میں دھماکہ ہوتا ہے تو صرف ایک عمارت نہیں گرتی بلکہ وہاں کاروبار، تعلیم، سرمایہ کاری اور روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے مسلسل بدامنی کی وجہ سے ترقی کے عمل سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں، سیاحت تباہ ہو چکی ہے اور نوجوان بے روزگاری اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر دہشتگردی کی اس نئی لہر کے محرکات کیا ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک طرف خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی حالت، اور سرحدی چیلنجز ہیں، تو دوسری طرف داخلی کمزوریاں بھی اس آگ کو ہوا دے رہی ہیں۔ بعض شدت پسند تنظیمیں بیرونی حمایت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ منظم ہو رہی ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم بعض گروہوں نے اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کی ہے۔
لیکن صرف بیرونی ہاتھ کو موردِ الزام ٹھہرا دینا کافی نہیں۔ ہمیں اپنی داخلی پالیسیوں، کمزور گورننس، سیاسی انتشار اور معاشی بدحالی کو بھی دیکھنا ہوگا۔ جب نوجوان بے روزگار ہوں، تعلیم کمزور ہو، انصاف کا نظام سست ہواور عوام کو ریاست سے دوری محسوس ہو تو شدت پسند عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔ دہشتگردی صرف بندوق سے نہیں پھیلتی بلکہ ناانصافی، محرومی اور کمزور ریاستی نظام بھی اسے طاقت دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر واقعے کے بعد چند مذمتی بیانات آتے ہیں، سیکیورٹی ہائی الرٹ ہو جاتی ہے اور پھر کچھ دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردی جیسے مسئلے کا حل صرف وقتی آپریشنز میں نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی میں ہے۔سب سے پہلے انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حملوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ کے بغیر دہشتگردی کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔ دوسرا، سرحدی نگرانی کو مزید سخت کرنا ہوگا تاکہ دہشتگردوں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم ضرورت قومی اتحاد کی ہے۔ دہشتگردی کسی ایک جماعت، ایک صوبے یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ سیاسی قیادت کو الزام تراشی کے بجائے مشترکہ قومی پالیسی پر متفق ہونا ہوگا۔ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام نہیں ہوگا، دہشتگرد عناصر اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔معاشی ترقی بھی دہشتگردی کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینا ہوگی۔ ایک نوجوان کے ہاتھ میں کتاب اور روزگار ہوگا تو وہ شدت پسندی کی طرف کم جائے گا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور افسران اس جنگ میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دے کر ملک کو بڑے خطرات سے بچایا ہے۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ صرف قربانیاں نہیں بلکہ مستقل استحکام کی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ دہشتگردی صرف سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدہ، متحد اور دیرپا اقدامات نہ کیے تو یہ آگ مزید پھیل سکتی ہے۔ مگر اگر ریاست، عوام اور قیادت ایک صفحے پر آ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان دوبارہ امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر نہ چل سکے کیونکہ یہ ملک صرف خوف کے سائے میں زندہ رہنے کے لیے نہیں بنا تھابلکہ امن، امید اور ترقی کے خواب کی تعبیر کے لیے وجود میں آیا تھا۔
ضیا ء الرحمن ضیاءؔ