راولپنڈی ڈویژن میں کئی عشروں سے ڈیم بنانے کے اعلانات سنائی دئیے جارہے ہیں لیکن ڈیموں پر عملی کام نہیں ہوتا۔پاپین ڈیم،مجاہد ڈیم سمیت سواں ڈیم کی باز گشت سنائی دیتی رہتی ہے۔اگر یہ ڈیم بروقت بنائے گے ہوتے تو گزشتہ مون سون میں راولپنڈی کے دیہی علاقے جو اب پوش ہائوسنگ سوسائٹی کا روپ دھار چکے ہیں کبھی سیلابی پانی میں نہ ڈوبتے۔2018میں 8609ملین روپے سےراولپنڈی میں چک بیلی روڈ پر پاپین ڈیم تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔111فٹ بلندڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت89ہزار600ایکٹر فٹ ہوگی۔لیکن تاحال ایکوزیشن ہی مکمل نہیں ہوسکی۔ ایشیائی ترقیاتی بنک اور پنجاب حکومت کی مشترکہ مالی اعانت سے 35 ارب روپے مالیت کا چہان ڈیم بن رہا ہے جو دسمبر 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔دوچھا ڈیم پر بھی کام جاری ہے۔لیکن ساتھ معاملات عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہیں۔ حالیہ مون سون کی بارشوں کے باعث راولپنڈی کےدیہی علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والے دریائے سواں پر ڈیم کیلئے1955سےتجویز موجود ہے۔لیکن 70برسوں میں کوئی حل نہیں نکالا جاسکا۔موجودہ حکومت نے دریائے سواں کے پانی کی فزیبیلٹی سٹڈی کا فیصلہ کیا۔جس پر لاگت کا تخمینہ301اعشاریہ058ملین روپے ہے۔رواں مالی سال میں اس کیلئے150ملین روپے مختص ہیں۔