خاموشی سے طاقت تک: پاکستان نے کرکٹ کی دنیا کو چونکا دیا

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی

پاکستان نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت میں نہیں کھیلے گا تو یہ محض ایک کرکٹ شیڈول سے متعلق فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرے سیاسی، سفارتی اور اصولی مؤقف کا اظہار تھا۔ اس اعلان نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی کرکٹ حلقوں میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا اور واضح کر دیا کہ معاملہ کھیل کی حدوں سے کہیں آگے جا چکا ہے۔

بھارت کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے آیا اور یہ تجویز دی گئی کہ اگر مسئلہ میزبان ملک کا ہے تو میچ سری لنکا میں کھیلا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ بھارت پاکستان سے کھیلنے کے لیے سری لنکا جانے پر بھی آمادہ ہے۔ بظاہر یہ ایک لچکدار اور مفاہمتی پیشکش تھی، مگر اس کے پس منظر میں مالی دباؤ، عالمی اداروں کی تشویش اور براڈکاسٹرز کے مفادات نمایاں تھے۔

پاکستان نے اس پیشکش کو فوراً قبول یا مسترد کرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ اس پر غور کیا جائے گا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب عالمی میڈیا، کرکٹ بورڈز اور شائقین کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں اور ہر کوئی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اگلا قدم کیا ہوگا۔

یہ چند دن محض رسمی مشاورت کے نہیں تھے بلکہ عالمی کرکٹ کی معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کا میچ کسی بھی ورلڈ کپ کی جان سمجھا جاتا ہے اور اسی ایک مقابلے سے پورے ایونٹ کی کشش اور اہمیت جڑی ہوتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کا مقابلہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ایسا ایونٹ ہے جو ناظرین کی تعداد، اشتہارات کی قیمت اور براڈکاسٹنگ ریکارڈز توڑ دیتا ہے۔ اسی لیے اس ایک میچ کی موجودگی یا عدم موجودگی پورے ٹورنامنٹ کی مالی بنیاد کو ہلا سکتی ہے۔

براڈکاسٹنگ کمپنیوں، اسپانسرز اور تجارتی اداروں کے مفادات اسی فیصلے سے وابستہ تھے۔ ہر ادارہ یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ کسی نہ کسی صورت یہ میچ کھیلا جائے اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ان دنوں میں پاکستان پر مختلف انداز میں دباؤ ڈالا گیا۔ کبھی نرم لہجے میں بات کی گئی، کبھی مفاہمت کے پیغامات آئے اور کبھی خاموش اشارے دیے گئے، مگر پاکستان نے جلد بازی یا جذباتی ردِعمل سے خود کو دور رکھا۔

پاکستان کی خاموشی دراصل اس بات کا اعلان تھی کہ فیصلہ وقتی فائدے یا نقصان کو دیکھ کر نہیں بلکہ اصولوں اور خودداری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہی خاموشی کئی حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا سبب بن گئی۔

بالآخر پاکستان نے اپنا فیصلہ واضح اور دو ٹوک انداز میں سامنے رکھ دیا۔ پاکستان نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ میں شریک ہوگا، تمام ٹیموں کے خلاف کھیلے گا، مگر بھارت کے خلاف میدان میں نہیں اترے گا، چاہے میچ کہیں بھی رکھا جائے۔

یہ فیصلہ سامنے آتے ہی پورے ٹورنامنٹ کا مالیاتی پہلو لرز کر رہ گیا۔ وہ منصوبہ بندی جو پاکستان اور بھارت کے میچ کو بنیاد بنا کر کی گئی تھی، یکدم غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی۔

یوں محسوس ہوا جیسے ایک مضبوط اور محفوظ سمجھی جانے والی عمارت کی بنیاد ہی ہل گئی ہو۔ اس ایک فیصلے نے ثابت کر دیا کہ عالمی کرکٹ کی معیشت کس قدر چند مخصوص مقابلوں پر انحصار کرتی ہے۔

اسی مرحلے پر دنیا کو اندازہ ہوا کہ اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہے۔ جو فریق اکثر دباؤ میں دکھائی دیتا تھا، وہی فریق اب پورے نظام کو آئینہ دکھا رہا تھا اور توازن کو نئے سرے سے متعین کر رہا تھا۔

اسی دوران بنگلہ دیش نے بھی بھارت جانے سے انکار کر دیا۔ یہ فیصلہ بظاہر الگ تھا، مگر مجموعی ماحول میں اس نے پاکستان کے مؤقف کو مزید وزن اور اخلاقی تقویت فراہم کی۔

پاکستان کا بھارت سے کھیلنے سے انکار محض ایک وقتی ضد یا جذباتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل پس منظر، مسلسل تجربات اور ماضی کے رویّوں کا منطقی نتیجہ تھا۔ برسوں سے یکطرفہ فیصلوں اور امتیازی سلوک کو برداشت کرنے کے بعد پاکستان نے یہ واضح کر دیا کہ اب ہر صورت میں خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں رہا۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کھیل کے اندر سیاست کو داخل کرنے کی شروعات خود بھارت نے کی تھیں۔ مختلف مواقع پر کرکٹ کو دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جس نے کھیل کی روح کو متاثر کیا اور تعلقات میں دراڑیں ڈالیں۔

پاکستان نے ایک طویل عرصے تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوشش کی کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ مگر جب عدم مساوات مستقل رویّہ بن گئی اور فیصلے یکطرفہ ہونے لگے تو ردِعمل ناگزیر ہو گیا۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے نہ تو الزام تراشی کی اور نہ ہی اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔ اس نے خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ اپنا مؤقف برقرار رکھا، جو اس فیصلے کو وقتی شور سے نکال کر ایک سنجیدہ مثال بناتا ہے۔

رافیل کی مثال اسی تناظر میں دی جاتی ہے کہ جس چیز کو طاقت، برتری اور ناقابلِ شکست حیثیت کی علامت سمجھا جا رہا تھا، وہی ایک علامتی اور اخلاقی دھچکے سے بے اثر ہو گئی۔

پاکستان نے کسی ہتھیار یا دھمکی کا سہارا نہیں لیا، بلکہ ایک اصولی فیصلے سے پورا منظرنامہ بدل دیا۔یہ استعارہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل طاقت جدید جہازوں، مالی وسائل یا بڑے اسٹیج میں نہیں بلکہ درست وقت پر درست فیصلہ کرنے اور اس پر قائم رہنے میں ہوتی ہے۔

اب عالمی کرکٹ کو سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ واقعی کھیل کو سب کے لیے یکساں اور منصفانہ رکھنا چاہتی ہے یا پھر مخصوص ممالک اور مارکیٹس کے مفادات ہی اس کے فیصلوں کی سمت طے کریں گے۔

یہ معاملہ وقتی خبروں یا چند دن کے شور تک محدود نہیں رہے گا۔ آنے والے برسوں میں اس فیصلے کو ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس پر بحث ہوتی رہے گی۔

یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ کرکٹ صرف میدان میں نہیں کھیلی جاتی، بلکہ مؤقف، استقلال اور فیصلوں کے ذریعے بھی کھیلی جاتی ہے۔ تاریخ کے اس باب میں پاکستان ایک خاموش مگر مضبوط، باوقار اور اصولی کردار کے طور پر نمایاں نظر آئے گا۔