تفصیلات کے مطابق ڈھوک فردوس جہلم کی رہائشی عریشہ ارسلان کو زچگی کے شدید درد کی شکایت پر ڈی ایچ کیو اسپتال جہلم لایا گیا
مگر اسپتال میں مناسب طبی معائنہ اور علاج فراہم کرنے کے بجائے درد کے لیے ہینا ڈول کیی گولی ایک اور گولی لکھ کر بتایا گیا کہ باہر میڈیکل سٹور سے لے لو۔۔۔اور خاتون کو گھر بھیج دیا گیا۔اہلخانہ۔ نے یہ بھی کہا کہ وہاں پر موجود لیڈی سٹاف بے کہا کہ ہمارا ٹائم ضائع نہ کرو اور جاو یہاں سے اور ہمیں شدید ڈانٹا گیا۔۔۔اہلِ خانہ کے مطابق خاتون کی حالت مسلسل بگڑتی رہی،۔گھر پہنچنے سے قبل ہی نارمل ڈلیوری سے بیٹی کی پیدائش ہوئی۔۔اہلخانہ نے اسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے واقعے کی شفاف انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔۔دوسری جانب ایم ایس ڈاکٹر زاہد تنویر کا کہنا تھا کہ صاف شفاف انکوائری کر کے غفلت کے مرتکب عملے کو محکمانہ سزا دی جائے گی
