ٹریفک کے نظام کو دیکھنے کیلئے انتظامیہ کے پاس مختلف عہدے ہیں جن میں اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور آر ٹی اے اور سی ٹی او وغیرہ شامل ہے۔ تمام انتظامی عہدوں کا اپنا اپنا دائرہ کار اور قانون موجود ہیں۔ بات کی جائے پبلک روٹس اور اڈوں کی تو سٹی ٹریفک پولیس تمام قانونی پہلوؤں کو چیک کرسکتے ہے اور اس پہ جرمانہ و گاڑی بندش اور ایف آئی ار تک کا اختیار حاصل ہے۔ ہائی ویز سمیت لنک سڑکوں پہ چیکنگ ناکے لگا کر ٹریفک مسائل کو کم کرنا بنیادی مقصد ہے۔ جبکہ بات آر ٹی اے کی جائے تو روٹ جاری کرنا، پرمٹ جاری کرنا،اڈوں کی نگرانی سمیت کرایہ نامہ جاری کرنا اور اس پہ چیک اینڈ بیلنس رکھنا اس ادارے کی اہم ذمہ داری ہے۔

لیکن راقم جب سے ہوش سنبھالا ہے ضلع راولپنڈی بالعموم اور تحصیل کہوٹہ و تحصیل کلرسیداں میں آر ٹی اے کی عملداری صفر ہے۔ شہروں میں روڈ کنارے اڈوں کا ہونا، فٹ پاتھ اور کمرشل مقامات پہ گاڑیاں کھڑکی کرنا جہاں غیر مہذب ہے وہیں شہریوں کیلئے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس کا عملہ اپنی کوشش کے باوجود ان مسائل پہ قابو پانے میں ناکام ہے۔ کہوٹہ سمیت کلرسیداں میں بیشتر اڈے اس وقت میں شاہراہوں پہ قائم ہیں بیور، نارہ تھوہا خالصہ بھورہ حیال جو ٹورازم ہائی وے پہ موجود اڈے آر ٹی اے کی سستی اور لاپرواہی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔
جس سے وجہ مقامی ٹرانسپورٹرز اپنی مدد آپ تحت لب سڑک ہی اڈہ بنا لیتے ہیں۔ جہاں متعلقہ ٹرانسپورٹرز کا خاص بندہ ہی سب مینج کرتا ہے۔ جب آر ٹی اے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرسکے اور اس طرح کے مسائل اٹھتے ہیں۔ کچھ دن پہلے کہوٹہ تھوہا خالصہ میں سوزوکی اڈے پہ دو فریقین کے مابین معمولی رنجش پہ سیاسی آشیرباد پہ آر ٹی اے کو بلا کر اڈے کا دفتر سیل اور کچھ گاڑیاں بند کردی گئی۔ جس پہ ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کردی اور اہل علاقہ بھی سیاسی قیادت سے اس اقدام پہ خاصے متنفر ہوئے۔ آر ٹی اے پکڑی گئی گاڑیوں کو بغیر کسی کاروائی کے پھر چھوڑ دیا البتہ 1 گاڑی تادم تحریر بھی تھانہ کہوٹہ میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے حکم پہ تاحال 8 دنوں سے بغیر کسی قانونی کاروائی کے بند ہے جو انتظامیہ کی ساکھ پہ سوالیہ نشان ہے۔
سب سے پہلے آر ٹی اے سیکرٹری اسد شیرازی نے سیاسی دباو پہ تھوہا اڈے کو سیل کیا جس کو غلط اقدام کہا جائے تو درست ہوگا کیونکہ جس بنیاد پہ اس اڈے کو سیل کیا گاڑیاں بند کہ گئی، تحریر پڑھتے وقت بھی اس جیسے لاتعداد اڈے آر ٹی اے کی حدود میں قائم ہیں۔اگر ادارہ انکو ختم نہیں کرسکا تو کہوٹہ کے دور افتادہ دیہی علاقے میں اس قسم کی کاروائی خود ادارے کیلئے بدنامی کا باعث ہے کہ میرٹ کو نظر انداز کرکے کاروائی کی گئی۔ہونا تو یہ چاہیئے کہ سیکرٹری صاحب کہوٹہ کلرسیداں سمیت سارے اڈے سیل کرتے
اور آخر میں اس اڈے کو سیل،کردیتے پھر قانونی کی بالادستی قائم ہوتی اور جانبداری کا عنصر بھی سامنے نہ آتا۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت ہر ضلع کا آر ٹی اے اپنی حدود میں روٹ پرمٹ،کرائے نامے جاری کرنے اور ان پہ سختی سے عملدرآمد کروانے کا پابند ہے جو فی الحال نہیں ہورہا۔
جس طرح پنجاب حکومت دیگر اداروں کو ضم یا ختم کررہی ہے اسی طرح عوام پہ بوجھ بننے والے اور اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے والے اداروں کو ختم کرکے اس کی ذمہ داری پنجاب ٹریفک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ لگائی جاسکتی ہے راقم سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہے کہ ٹریفک کے تمام مسائل سٹی ٹریفک پولیس بخوبی حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بشرطیکہ اس میں سیاسی مداخلت نہ کی جائے۔
میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر سے گزارش ہے آر ٹی اے کو اپنی ذمہ پوری کرنے کی ہدایت کی جائے، نئے روٹس جاری کئے جائیں، کرائے نامہ جاری کرکے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے اور کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کو تبدیل کیا جائے
عثمان مغل