تحریک شہدائے بالاکوٹ 6 مئی 1831ء

شہر بالاکوٹ میں جہاں جد اولیاء حضرت میاں جمال ولی کنہاروی خاندان گھنیلا شریف جیسے اولیاء زمانہ کا مسکن و مدفن ہے۔وہیں خانوادہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے فیض یافتگان کی تحریک سے اس شہر کی پہچان ہے جن کا مدفن بھی یہ ہی شہر بنا۔سب سے پہلے اس تحریک کا آغاز ایسے ہوا تھا کہ سید احمد شہید رحمہ اللہ پڑھا رہے تھے ان کو خط آیا ایک عورت کا کہ ہمارے اوپر بہت ظلم ہو رہا ہے ہم سکھوں کے بچے جن رہی ہیں سید صاحب نے وہیں کتاب بند کر دی اور جہاد کے لیے تیار ہو گئے فرمایا اب جہاد لازم ہو چکا ہے سکھوں نے واقع ہی میں مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھائے ہیں۔ اس کے بعد انھوں بہت محنت کی اس تحریک کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا اور اس میں مین کردار شاہ عبد العزیز کا تھا ان کے بعد ان کی تحریک کو سید احمد شہید (پیدائش: 1786ء، بریلی) نے آگے بڑھایا۔

سید احمد نے لشکر میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس کا مثبت اثر ہوا۔ اسی دوران انھوں نے دینی میدان میں نام پیدا کیا۔ شاہ اسماعیل، محمد یوسف اور شاہ عبد الحئی آپ کی بیعت میں شامل ہو گئے۔ سید صاحب مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ سے بے حد متاثر تھے۔ سید صاحب نے مسلمانوں میں رائج فضول رسوم کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اسی دوران مسلمانوں پر سکھوں کے مظالم نے مسلمانوں میں ان کی اسلامی حمیت کو بیدار کیا۔

سید احمد شہید نے اپنے ساتھیوں کو جہاد پر آمادہ کیا۔ ہندوستان میں انگریزی تسلط کے بعد چلنے والی اصلاحی تحریکوں میں سب سے زیادہ موثر، دیر پا اور اہم تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کی اصلاحی تحریک ہے۔ یہ تحریک ہندوستان کے مایوس لوگوں کے لئے ایک امید تھی جو بعد میں یقین کے درجہ میں چلی گئی اور ’جنگ آزادی‘ کا سبب ہوئی۔ اس تحریک
کامحرک سوائے دردِ امت کے اور کچھ نہ تھا۔

سید احمد شہید رحمہ اللہ کو بچپن میں حصول علم سے زیادہ گھڑ سواری، سپاہیانہ فنون اور ورزشوں کی طرف مائل تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد آبائی گاوں سے رخت سفر باندھا اور دہلی کارخ کیا جہاں ان کی ملاقات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے بیٹے شاہ عبد العزیز و شاہ عبد القادر سے ہوئی جو بعد ازاں ان کی شاگردی کی شکل اختیار کرگئی۔سید صاحب نے شاہ ولی اللہ کا تحریکی سبق پڑھا اور میدانِ عمل میں اتر گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی قوت مفقود ہوگئی تھی اور پنجاب پرسکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز دندناتے پھررہے تھے۔

مسلمان دبے ہوئے تھے۔ مایوسی کی فضاء بنتی جارہی تھی۔ سید صاحب نے صورتِ حال سمجھی اور مسلمانوں میں صدائے جہاد بلند کی جس پر توحید کے فرزندوں نے لبیک کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے سید صاحب نے ’تحریک مجاہدین‘ تشکیل دے دی۔ جس کا مقصد روئے زمین پر باطل نظام کی بیخ کنی اور نظامِ اسلامی کا قیام تھا۔تحریک کے آغاز میں سید صاحب اور ان کے رفقاء کے پاس اللہ پر توکل واحد سرمایہ تھا جو شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی کی صحبت سے ملا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سید صاحب نے احیائے سنت، استیصال شرک وبدعت اور تزکیہ نفوس کو مقدم رکھا اور اپنے متبعین کو سختی سے سنت کو لازم پکڑنے کی تاکید کی۔ نتیجے کے طور پہ، بقول مورخ ’کتنے اللہ والوں کو چلتی پھرتی خانقاہوں، دوڑتے بھاگتے مدرسوں میں تبدیل کردیا تھا‘۔

یہ تحریک ہندوستان کے لوگوں کے لئے عمل کی نئی راہیں سجھا گئی اور لوگوں کی ایک کثیرتعداد سید صاحب کی ہمنوا ہوئی۔ سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں کہ ”شاہ صاحب کے ہاتھ پر چالیس ہزار سے زیادہ ہندو وغیرہ مسلمان ہوئے اور تیس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی“جہاد کا آغاز سید صاحب نے ہندوستان کے شمال مغربی حصے سے کیا جہاں سکھوں نے اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی۔ سید صاحب نے سکھوں سے جنگ کی اور کچھ علاقوں پر فتح حاصل کرکے وہاں پر اسلامی نظام نافذ کردیا۔

بالآخر 6 مئی کا دن آیا جب بالاکوٹ میں گھمسان کا رن پڑا۔ سید صاحب مقامی لوگوں کی بغاوت سے رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے اور وہیں پر دفن ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے سید صاحب کا جسد خاکی زیر زمیں چھپا تو ان کے نظریات کی بازگشت پورے عالم اسلام میں گونجنے لگی۔ وہ مانند آفتاب تھے جو نظروں سے اوجھل ضرور ہوئے مگر ڈوبے نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ روئے زمین کو روشن کرنے لگے۔ اور ابھی تک ایک دنیا ان کے متعین کردہ راہوں پہ چل کر منزل مقصود تک پہنچ رہی ہے۔
اللہ ان شھداء کی قبور پہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں۔ آمین
یہ بالاکوٹ کی نگری شہیدوں کی نشانی ہے
بیاں کرتی وفائے دین و ملت کی کہانی ہے
اسی دھرتی پہ گونجی تھی صدائے حق نما یارو
اسی خطے سے وابستہ فلک کی ترجمانی ہے
زمین ِ ہند سے تحریک اٹھی گرم جوشوں کی
پلٹ کر رکھ دیں جس نے بازیاں سب دہر پوشوں کی
تھے قائد شاہ اسماعیل اور احمد شہید ان کے
تھی طاری کفر پر ہیبت جیالے سرفروشوں کی
اٹل ان کا عقیدہ تھا اٹل تھے فیصلے ان کے
چلے دل میں لیے شوق ِ شہادت قافلے ان کے
مقابل دہر کی شاہی کا ہیبت ناک لشکر تھا
ہمالہ سے مگر اونچے بہت تھے حوصلے ان کے
”اکوڑہ اور بالاکوٹ میں وہ سر بکف غازی
کٹا کے گردنیں اللہ کو یوں کر گئے راضی ”
طریقت ہے زمانے میں یہی زندہ ضمیروں کی
یہی ہے سنت ِ اسلافِ ملت، رسم ِ شہبازی
سلام اے ارض بالاکوٹ تیرے سب شہیدوں پر
سلام اے وادیء احرار تیرے سبز چیدوں پر
سلام ان کربل ِ کہسار کے حرّان ِ ملت پر
سلام ان شہداء اسلام پر ان کے مریدوں پر
جو یار اپنے لہو سے داستان ِ دار لکھتے ہیں
قصیدہ ان کی جرآت کا ہرے کہسار لکھتے ہیں
محمد کے غلاموں کا مقام اعلی و بالا ہے
سعید اپنا عقیدہ ہست کے بیدار لکھتے ہیں
سعیدالرحمن سعید


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں