بے روزگاری‘ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مستقبل تاریک

یہ ملک عجیب تضادات کی آماجگاہ ہے۔ یہاں سڑکوں کے رنگ بدل دیے جاتے ہیں، دیواروں پر پھول کھِل اُٹھتے ہیں، فٹ پاتھ مسکراتے ہیں، مگر ان فٹ پاتھوں پر بیٹھا نوجوان سوال کرتا ہے: میری ڈگری کا کیا بنے گا؟ جواب میں خاموشی ہوتی ہے، یا پھر کوئی افتتاحی تختی۔ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مسئلہ بے روزگاری نہیں، بلکہ اسے مسئلہ ماننے سے انکار ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں اگر کچھ ہے تو وہ تصویریں ہیں، ویڈیوز ہیں، اور سوشل میڈیا پر چمکتی دمکتی کارکردگی ہے۔ اصل زندگی میں مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھ میں فائل اور دل میں مایوسی لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ اس کی ڈگریاں اس کے بوجھ بن چکی ہیں،

اور خواب ایک ایک کر کے کفن اوڑھ رہے ہیں۔یہ عجیب منطق ہے کہ ریاست کے پاس تشہیر کے لیے اربوں ہوں، مگر روزگار کے لیے منصوبہ بندی صفر۔ سڑک کا رنگ بدلنے سے پیٹ نہیں بھرتا، اور دیوار پر بنی پینٹنگ نوکری نہیں دیتی۔ مگر ہماری پالیسیوں میں روزگار ایک ضمنی شے ہے، جیسے یہ خود بخود پیدا ہو جائے گا بس دعا کیجیے اور ربن کاٹتے رہے۔کہا جاتا ہے کہ ملک میں نوجوان آبادی ایک اثاثہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اثاثے کو بیکار چھوڑ دیا جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ بوجھ۔ ایک ایسا بوجھ جو خاموش نہیں رہتا۔ سوشل میڈیا پر پھیلتی بے چینی، غصہ اور طنز اسی بوجھ کی آواز ہے۔ اگر اظہارِ رائے پر قدغنیں نہ ہوں تو شاید ایوانوں کو اندازہ ہو کہ نوجوانوں کے دلوں میں کیسی آگ سلگ رہی ہے۔

دباؤ وقتی ہوتا ہے، مسئلے مستقل۔پنجاب ہو یا مرکز، انتظامی افسران کی توجہ بھی اب کارکردگی سے زیادہ اس کی نمائش پر ہے۔ فائلوں میں تصویریں، رپورٹس میں تعریفیں، اور حقیقت میں صفر۔ حقیقت پسندی کا جنازہ نکل چکا ہے۔ دکھاوے کی سیاست نے حکمرانی کو شو پیس بنا دیا ہے چمک دار، مگر کھوکھلی۔ایک طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سڑکوں پر ہیں، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں قابلیت کے بجائے وفاداری کی حکمرانی ہے۔ انصاف کا ترازو مسلسل ایک ہی طرف جھکا ہوا ہے۔ امیر مزید امیر، غریب مزید غریب یہ محض نعرہ نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہے۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم نے معاشرے کے بیچ ایک موٹی لکیر کھینچ دی ہے، اور اس لکیر کے دونوں طرف کھڑے لوگ ایک دوسرے کو اجنبی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔اگر حکومت سرکاری سطح پر نوکریاں نہیں دے سکتی اور شاید نہیں دے سکتی تو کم از کم نجی شعبے کو متحرک کرنے کی سنجیدہ کوشش تو کرے۔ ٹیکس پالیسی، صنعت کاری، چھوٹے کاروبار، ٹیکنالوجی، اور ہنر مندی یہ سب الفاظ تقریروں میں تو ہیں، عملی منصوبہ بندی میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ الٹا سرکاری اداروں کی ڈاؤن سائزنگ کے نام پر روزگار کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں،

جبکہ ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ جب مخصوص سیاسی قوتیں اقتدار میں آتی ہیں تو روزگار کے مواقع سکڑ جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمین میں بے چینی ہے، پنشن پر سوالیہ نشان ہیں، اور ملازمت کا تحفظ قصہ? پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ امن و امان کے نام پر احتجاج کا حق محدود، مگر مہنگائی اور بے روزگاری کھلی چھوٹ یہ کیسا توازن ہے؟عوام اپنی ریاستی اداروں سے محبت کرتے ہیں، اسی لیے برداشت بھی کرتے ہیں۔ مگر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں میک اپ سے چھپایا جائے تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

جعلی کارکردگی زیادہ دیر نہیں چلتی۔ آخرکار حقیقت دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور اس دن افتتاحی تختیاں کچھ نہیں کر پاتیں۔سوال سادہ ہے؟ اس ملک کے نوجوان کے لیے کیا منصوبہ ہے؟ اگر جواب پھر کوئی تصویر، کوئی رنگ، کوئی ربن ہے تو پھر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ بے روزگاری کے ساتھ نفرت بھی بڑھ رہی ہے۔ مسئلہ نفرت نہیں، مسئلہ نااہلی ہے۔ اور نااہلی کا علاج تشہیر نہیں، دیانت دار حکمرانی ہے۔

اقبال زرقاش