​بہاولنگر کے صحافتی افق پر انتخابی معرکہ

​ضلع بہاولنگر کے صحافتی حلقوں میں ان دنوں ایک غیر معمولی ارتعاش، جوش و خروش اور انتخابی گہما گہمی اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے کیونکہ روہی پریس کلب (رجسٹرڈ) ڈسٹرکٹ بہاولنگر کے سالانہ انتخابات کا بگل بج چکا ہے جو محض ایک رسمی انتخابی عمل نہیں بلکہ دو بڑے دھڑوں “جرنلسٹ پینل” اور “اتحاد پینل” کے درمیان وقار، تجربے اور تبدیلی کی ایک ایسی جنگ بن چکا ہے جس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ اس انتخابی معرکے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں جانب سے صرف ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ باقاعدہ ایک “منشور” اور “ایجنڈا” کے تحت مہم چلائی جا رہی ہے، جہاں روہی پریس کلب جو ضلع بھر کے صحافیوں کا سب سے معتبر فورم تسلیم کیا جاتا ہے، اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف “استحکام اور تسلسل” کا بیانیہ ہے تو دوسری طرف “نئی سوچ اور اصلاحات” کا نعرہ بلند ہو رہا ہے۔ اس معرکے میں جرنلسٹ پینل کی قیادت ضلع کے سینیئر ترین اور منجھے ہوئے صحافی صاحبزادہ وحید احمد کھرل کر رہے ہیں جو 2013 سے تواتر کے ساتھ روہی پریس کلب کی صدارت کے منصب پر فائز چلے آ رہے ہیں اور ان کے ہمراہ جنرل سیکرٹری کے لیے طاہر عباس خان ایک مضبوط اور متحرک امیدوار کے طور پر میدان میں موجود ہیں۔ جرنلسٹ پینل کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ صاحبزادہ وحید احمد کھرل نے اپنے طویل دورِ اقتدار میں پریس کلب کو ایک فعال ادارے کی شکل دی اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا جبکہ دوسری جانب اس طویل روایت اور تسلسل کو چیلنج کرنے کے لیے اتحاد پینل نے صدارت کے لیے شیخ محمد رمضان اور سیکرٹری کے لیے ڈاکٹر اکرام کو میدان میں اتار کر انتخابی فضا میں ایک نئی تپش پیدا کر دی ہے۔ اتحاد پینل اس جمود کو توڑنے کے لیے پرعزم ہے اور ان کا موقف ہے کہ صحافت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ادارے میں نئی قیادت اور نئی روح پھونکنے کی ضرورت ہے۔​دونوں پینلز کے امیدوار اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ضلع کی پانچوں تحصیلوں، بہاولنگر، منچن آباد، ہارون آباد، فورٹ عباس اور چشتیاں شریف کے طوفانی دورے کر رہے ہیں، کارنر میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں اور صحافی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کرتے ہوئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ انتخابی مہم صرف زمینی دوروں تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر بھی ایک “ڈیجیٹل وار” جاری ہے جہاں ہر امیدوار اپنی کارکردگی اور مستقبل کے عزائم کی ویڈیوز اور پوسٹرز کے ذریعے ووٹرز کا لہو گرما رہا ہے۔ بہاولنگر کے چائے خانوں سے لے کر تحصیل پریس کلبوں کے دفاتر تک ہر جگہ ایک ہی بحث چھڑی ہے کہ کیا صاحبزادہ وحید احمد کھرل اپنے طویل تجربے اور سابقہ خدمات کی بنیاد پر ایک بار پھر کامیابی کا سہرا سجانے میں کامیاب ہوں گے یا پھر اتحاد پینل کے امیدوار تبدیلی کا نعرہ لگا کر بازی لے جائیں گے۔ فضاؤں میں صرف الیکشن کے چرچے ہیں اور ہر نگاہ اس فیصلہ کن روز پر جمی ہے جب صحافی برادری اپنے ووٹ کی طاقت سے یہ طے کرے گی کہ صدارت اور سیکرٹری کی کامیابی کا تاج کس کے سر سجے گا۔ یہ مقابلہ محض ہار جیت کا نہیں بلکہ ضلع بہاولنگر کے صحافیوں کے اتحاد اور ان کے جمہوری شعور کا امتحان بھی ہے کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے اس جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے پریس کلب کی بہتری کے لیے بہترین فیصلے کا انتخاب کریں، اللہ کریم اس جمہوری عمل کو احسن طریقے سے تکمیل تک پہنچائے کیونکہ انتخابی نتائج جو بھی ہوں، اصل جیت اس ادارے کے وقار اور صحافتی اقدار کی ہونی چاہیے۔ آمین