بہاولنگر ضلع کونسل: ترقی کا سفر یا کرپشن کا میلہ

بہاولنگر کی خاموش فضا میں ان دنوں ایک ایسا سوال گونج رہا ہے جس نے نظام کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے کہ کیا عوام کا پیسہ محفوظ ہے یا امانت ہی سب سے بڑا شکار بن چکی ہے؟

ضلع کونسل بہاولنگر میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا یہ میلہ دراصل اس بوسیدہ ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں برسوں سے فائلوں کے پیچھے لوٹ مار کی کہانیاں رقم کی جا رہی تھیں مگر اب اینٹی کرپشن کی کارروائی نے اس طلسماتی نظام کے پردے چاک کر دیئے ہیں۔

سابق ایکسئین چودھری عبدالرزاق اور ان کے پانچ “جری” سب انجینئرز اطہر محمود، ارشد، دلشاد، شہزاد اور ارشد طاہر آج اس لئے قانون کی گرفت میں ہیں کیونکہ کل تک وہ جن ترقیاتی کاموں کے نگران کہلاتے تھے، آج انہی کا حساب دینے کی باری آ چکی ہے تاہم سابق چیف آفیسر محمد ارشد ورک کی تاحال عدم گرفتاری قانون کی برابری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا انصاف کا ترازو صرف “چھوٹی مچھلیوں” کے لئے حرکت میں آتا ہے؟

اس کہانی کی جڑیں 2017ءتک جاتی ہیں جہاں ٹریکٹر ٹرالیوں اور کمپیوٹرز کی خریداری میں ایسی “برکت” ڈالی گئی کہ سرکاری خزانہ تو خالی ہو گیا مگر افسران کے وارے نیارے ہو گئے۔ جس کی سب سے مضحکہ خیز اور ہوش ربا مثال وہ آٹھ لاکھ کا جنریٹر ہے جسے سرکاری کاغذات کے جادو سے بیالیس لاکھ روپے کا کر دیا گیا۔ غالباً اس جنریٹر میں بجلی کے بجائے شہد نکلنے والی موٹر لگی ہوگی، ورنہ اتنی معصومانہ قیمت تو کسی الہ دین کے چراغ ہی کی ہو سکتی ہے۔

یہ مقدمہ 15 اکتوبر 2024ءکو شہری بہادر شاہ بودلہ کی مدعیت میں درج ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ادارے مصلحت کی چادر تان کر سو جائیں تو ایک عام شہری کا شعور ہی سچ کا الارم بجاتا ہے۔ اب جبکہ تفتیش کا دائرہ گوجرانوالہ ریجن تک پھیل چکا ہے اور بیانات قلمبند ہو رہے ہیں تو اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ کیس بھی ماضی کے مقدمات کی طرح فائلوں کے قبرستان میں دفن ہو جائے گا یا واقعی انصاف کا کوئی چراغ روشن ہوگا؟

یاد رہے، جب خزانے کے رکھوالے ہی اس پر ہاتھ صاف کرنے لگیں تو عوام کے پاس خالی کشکول اور ادھورے سوالوں کے سوا کچھ نہیں بچتا اور سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم کبھی اس “منظم لوٹ مار” کے نظام سے نجات پا سکیں گے یا ہر بار صرف مہرے بدلتے رہیں گے؟ اب فیصلہ ہونا باقی ہے کہ یہ نظام لٹیروں کو تحفظ دے گا یا حقدار کو اس کا حق کیونکہ ریاست تبھی بچتی ہے جب منصب پر بیٹھنے والا شخص ضمیر کا سچا اور امانت دار ہو۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔