بلال یامین ستی کے ترقیاتی منصوبوں کی گونج

سیاست کے سینے میں دل ہو نہ ہو، لیکن سیاست دانوں کی زبان سے نکلے الفاظ بسا اوقات وہ طوفان کھڑا کر دیتے ہیں جن کی لہریں دور تک محسوس کی جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مری کوٹلی ستیاں کی سیاست میں ایک ایسا ہی واقعہ رونماء ہوا جس نے سوشل میڈیا سے لے کر عوامی بیٹھکوں تک ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پی ٹی آئی کے دیرینہ رہنما اورسابق تحصیل ناظم مری، سردار سلیم خان کی جانب سے ایک چہلم کی تقریب میں مخالف سیاسی جماعت (ن لیگ) کے ایم پی اے بلال یامین ستی کے کاموں کی تعریف نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ”تعریف وہ جو غیر بھی کریں ”، لیکن جب یہ تعریف ایک ایسے سیاسی ماحول میں کی جائے جہاں نظریاتی خلیج بہت گہری ہو، تو اسے محض خوش اخلاقی نہیں بلکہ ”سیاسی حکمت عملی” یا ”اندرونی اختلافات” کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔

واقعے کا پس منظر اور کریڈٹ کی جنگ کچھ یو ں ہے کہ پہاپا شکیل ستی (مرحوم) کے چہلم کے موقع پر گزشتہ دنوں سردار سلیم خان نے نہ صرف بلال یامین ستی کے ترقیاتی کاموں کو سراہا، بلکہ ٹیکنیکل کالج کے فنڈز کی منظوری اور اسے مرحوم کے نام سے منسوب کرنے کے اعلان پر شکریہ بھی ادا کیا۔ سونے پر سہاگا یہ کہ انہوں نے بلک واٹر سپلائی سکیم کی بحالی کا مطالبہ بھی کر ڈالا اور کہا کہ ہم ق لیگ میں اس منصوبے کو لایا تھا۔مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم کے لیے یہ ایک غیر متوقع ”گفٹ” تھا، جسے انہوں نے خوب کیش کرایا اور سردار سلیم خان کو ‘زیرک سیاستدان’ اعلی سوچ کا مالک جیسے القابات سے نوازنا شروع کر دیا۔

دوسری طرف، پی ٹی آئی کے حلقوں میں ایک صفِ ماتم بھی ہے اور غصہ بھی۔ پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے میجر (ر) لطاسب ستی نے جوابی محاذ سنبھالتے ہوئے ثبوتوں کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکنیکل کالج کا منصوبہ اور اس کے رکے ہوئے فنڈز ان کی اپنی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ اب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اس سارے منصوبے کا کریڈٹ میجر لطاسب کو دے رہی ہے، جس سے پارٹی کے اندر موجود واضح دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایسی صورتحال پر مختلف سوالات اٹھنے لگے اس صورتحال نے مری کے سیاسی حلقوں میں دو بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ سلیکٹو تعریف کیوں؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سردار سلیم خان کو ترقیاتی کام ہی سراہنے تھے، تو مری میں ہونے والے اربوں روپے کے دیگر منصوبوں پر وہ خاموش کیوں رہے؟ صرف ایک مخصوص حلقے اور ایم پی اے کی تعریف کرنا کیا کسی نئے سیاسی اتحاد کا پیش خیمہ ہے؟ سیاسی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر سردار سلیم خان ن لیگ کی کارکردگی سے اتنے ہی متاثر ہیں، تو پھر پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار رہ کر مخالف لہروں کی تعریف کرنے کے بجائے باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیوں نہیں کر دیتے؟

دوسری جانب اخلاقیات اور تقریب کے تقدس کا ایک اہم پہلو جس کی جانب صحافتی اور سماجی حلقوں نے اشارہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں نے چہلم جیسی غمناک تقریب کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیوں کیا حالانکہ چہلم کی تقریب مرحوم کی مغفرت اور دعا کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی بیان بازی اور مطالبہ جات کے لیے۔ لواحقین کے غم میں شریک ہونے کے بجائے وہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا کسی طور بھی مناسب عمل قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایک اور بات کہ کوٹلی ستیاں و مری کی سیاست ہمیشہ سے دلچسپ رہی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اور کریڈٹ کی یہ جنگ اب سوشل میڈیا کی زینت بن چکی ہے۔

سردار سلیم خان کا بیان محض ایک ”شکریہ” تھا یا پارٹی کے اندرونی اختلاف کی بھڑاس یا کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال میجر لطاسب ستی اور سردار سلیم خان کے حامیوں کے درمیان چھڑی یہ ”ڈیجیٹل جنگ” پارٹی کے لیے نیک شگون نہیں جس کامسلم لیگ ن مری و کوٹلی ستیاں کو بھر پور استفادہ حاصل ہو رہا ہے سیاست میں نظریات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن جب ذاتی مفادات اور اندرونی چپقلش عوامی اجتماعات میں ظاہر ہونے لگے تو نقصان ہمیشہ سیاسی جماعت کا ہی ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت مری کے ان بڑھتے ہوئے اختلافات پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔

نوید ستی