تحریر: حافظ نصرت علی خان
03335973150
ہر سال جب وفاقی اور صوبائی بجٹ پیش کیے جاتے ہیں تو عوام کی نظریں اس امید پر جمی ہوتی ہیں کہ شاید اس بار ان کی زندگی میں کچھ آسانی آئے گی، مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔ مگر بدقسمتی سے ملک کا سب سے بڑا طبقہ، یعنی غریب اور دیہاڑی دار مزدور، اکثر بجٹ کے ثمرات سے محروم ہی رہتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار، ترقیاتی منصوبے اور معاشی اشاریے اپنی جگہ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مزدوروں، دیہاڑی دار افراد، چھوٹے دکانداروں اور کم آمدنی والے خاندانوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح سویرے اپنے گھروں سے روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو جو کچھ کماتے ہیں، اسی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ آج ایک عام مزدور کی دیہاڑی 800 سے 1000 روپے کے درمیان ہے۔ اگر پورا مہینہ مسلسل کام مل بھی جائے تو اس کی ماہانہ آمدنی تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی کے دور میں اتنی آمدنی ایک خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک غریب آدمی کی آمدنی کا بڑا حصہ مکان کے کرائے، بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص 10 سے 15 ہزار روپے کرایہ دے رہا ہو اور اس کے ساتھ بجلی و گیس کے بل بھی ادا کر رہا ہو تو اس کے پاس بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور خوراک کے لیے بہت محدود رقم بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بے شمار خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں میں کئی کئی دن گوشت تو دور کی بات، مناسب کھانا بھی میسر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات چولہا جلانے کے لیے بھی سوچنا پڑتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں جتنے بالواسطہ ٹیکس لگائے جاتے ہیں، ان کا بوجھ زیادہ تر عام آدمی ہی برداشت کرتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف گاڑی رکھنے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ جب بجلی اور گیس کے نرخ بڑھتے ہیں تو ان کا اثر بھی براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔ یوں مہنگائی کا ہر نیا طوفان سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غریب آدمی کو متاثر کرتا ہے ،
دوسری طرف ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اعلان کیا جاتا ہے، جو یقیناً ان کا حق ہے کیونکہ مہنگائی ان کو بھی متاثر کرتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مزدور، ریڑھی بان، رکشہ ڈرائیور، کسان مزدور اور چھوٹا دکاندار کہاں جائے جس کی آمدنی میں کوئی خودکار اضافہ نہیں ہوتا؟ اس کے لیے نہ کوئی بونس ہے، نہ کوئی الاؤنس اور نہ ہی کوئی مستقل تحفظ۔ مہنگائی بڑھتی رہتی ہے مگر اس کی آمدنی وہیں کی وہیں رہتی ہے ، ملک کی معاشی پالیسیوں کا اصل مقصد عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ اگر ترقی کے دعووں کے باوجود عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو رہی ہو تو پھر ان پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکج متعارف کرائے۔ آٹے، چینی، گھی، دالوں اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش پر سبسڈی دی جائے۔ بجلی اور گیس کے کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو خصوصی رعایت دی جائے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اسی طرح روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک لوگوں کو باعزت روزگار نہیں ملے گا، غربت اور مہنگائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حکومت کو ایسے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے جو نوجوانوں اور مزدور طبقے کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول سکیں۔ چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضے، فنی تربیت اور مقامی صنعتوں کی سرپرستی جیسے اقدامات بھی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ صرف اعداد و شمار کی کتاب نہ ہو بلکہ اس میں عام آدمی کی امیدیں اور ضروریات بھی شامل ہوں۔ ایک ایسا بجٹ جو غریب کے گھر کا چولہا جلانے میں مدد دے، اس کے بچوں کی تعلیم اور علاج کو آسان بنائے اور اسے یہ احساس دلائے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے ، آخر میں یہ سوال ہر صاحبِ اختیار کے سامنے ہے کہ اگر ایک مزدور سارا دن محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، مناسب تعلیم اور علاج فراہم نہیں کر سکتا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یقیناً یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاستی نظام کا مشترکہ سوال ہے۔ جب تک پالیسیوں کا مرکز عام آدمی نہیں بنتا، اس وقت تک ترقی کے دعوے اور معاشی کامیابیوں کے اعلانات غریب کے خالی دسترخوان کا درد کم نہیں کر سکتے۔