سال 2024 اور 2025 کے دوران پاکستان کے مختلف حصوں اور شمالی علاقہ جات میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے جو تباہی مچائی ہے، وہ کسی المیے سے کم نہیں۔ ہزاروں گھر مٹی کے ڈھیر بن گئے، قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متاثرین آج بھی حکومتی امداد کے بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بے یار و مددگار متاثرین اور حکمرانوں کی بے حسی: ایک سوالیہ نشان ہے پاکستان میں ہر سال بدلتا ہوا موسم اپنے ساتھ نئی آزمائشیں لے کر آتا ہے،

لیکن 2024 اور 2025 کا سال ان ہزاروں خاندانوں کے لیے کسی قیامت سے کم ثابت نہیں ہوا جو طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئیمٹی کے تودے گرے تو محنت مزدوری سے بنائے گئے کچے پکے مکانات مٹی کے ڈھیر میں بدل گئے، لیکن اس انسانی المیے سے بھی بڑا دکھ یہ ہے کہ متاثرین آج بھی امداد کی آس لیے سرکاری دفاتر اور منتخب نمائندوں کی راہ تک رہے ہیں۔حکومتی وعدے اور زمینی حقیقت قدرتی آفات کے وقت بلند و بانگ دعوے کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ جب آفت آتی ہے تو کیمروں کی چمک دمک میں امدادی چیک تقسیم کرنے کے فوٹو سیشن ہوتے ہیں، مگر جیسے ہی میڈیا کی توجہ ہٹتی ہے،
متاثرین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سال 2024 کے نقصانات کا ازالہ ابھی تک نہیں ہوا تھا کہ 2025 کی بارشوں نے مزید تباہی مچا دی۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا سوال سادہ مگر سنگین ہے: ”آخر یہ حکومتی ناانصافی کب تک چلے گی منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی جن عوام نے ووٹ دے کر نمائندوں کو ایوانوں میں بھیجا تاکہ وہ مشکل وقت میں ان کا سہارا بنیں، وہی نمائندے آج اپنے عوام کی اس پریشانی پر تاحال خاموش دیکھائی دے رہے ہیں لینڈ سلائیڈنگ سے کٹی ہوئی سڑکیں، تباہ حال انفراسٹرکچر اور بے گھر خاندان چیخ چیخ کر ان کی بے حسی کی دہائی دے رہے ہیں۔ یہ منتخب نمائندے اسمبلیوں میں تو ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں،
لیکن اپنے حلقے کے متاثرین کے لیے فنڈز کی فراہمی یا بحالی کے کاموں میں ان کی دلچسپی“مایوس کن ہے۔امداد میں تاخیر یا اقربا پروری؟متاثرین کی ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ اگر کہیں امداد پہنچتی بھی ہے تو وہ شفافیت سے محروم ہوتی ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد ریلیف حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ وہ بیوہ عورت، وہ یتیم بچہ یا وہ بوڑھا باپ جس کا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، وہ نادرا کے دفاتر اور سرکاری فائلوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتا ہے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس وصول کرنا ہے؟کیا ان بے گناہ شہریوں کا کوئی حق نہیں جن کے سر سے چھت چھن گئی؟یہ صورتحال ملک کے انتظامی ڈھانچے اور آفات سے نمٹنے والے اداروں (NDMA/PDMA) کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
محض ”ریلیف فنڈز“ کے قیام سے پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے گھر دوبارہ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب تک نچلی سطح پر بحالی کے کاموں کی نگرانی نہیں کی جائے گی اور منتخب نمائندوں کا محاسبہ نہیں ہوگا، تب تک یہ متاثرین اسی طرح بے یار و مددگار رہیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ فوٹو سیشنز سے نکل کر فوری طور پر متاثرین کی فہرستیں مرتب کرے اور بلا امتیاز مالی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔
اگر آج ہم نے ان کے آنسو نہ پونچھے، تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی خطہ کوہسار کا وہ خوبصورت علاقہ جسے دنیا ’کوٹلی ستیاں‘ کے نام سے جانتی ہے، سال 2024 اور 2025 کی طوفانی بارشوں اور خوفناک لینڈ سلائیڈنگ نے اس تحصیل کے باسیوں پر وہ قیامت ڈھائی ہے جس کے زخم شاید دہائیوں تک نہ بھر سکیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں قدرت نے اپنی ستم ظریفی دکھائی، وہاں ریاست اور منتخب نمائندوں نے اپنی بے حسی سے ان زخموں پر نمک پاشی کی ہے تباہی کے اعداد و شمار: ایک انسانی المیہ کوٹلی ستیاں کی مختلف یونین کونسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہونے والی تباہی کے اعداد و شمار روح فرسا ہیں۔
محتاط اندازے کے مطابق، اس عرصے کے دوران کئی گھر مکمل طور پر زمین بوس ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں مکانات ایسے ہیں جن میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور وہ کسی بھی وقت ملبے کا ڈھیر بن سکتے ہیں۔ متاثرہ گھرانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دن بدن متاثرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ غریب عوام جائیں تو جائیں کہاں؟کوٹلی ستیاں کے عوام کا سب سے بڑا گلہ ان کے اپنے منتخب نمائندوں سے بھی ہے ووٹ مانگتے وقت جو چہرے گلی کوچوں میں نظر آتے تھے، آج وہ اسلام آباد اور لاہور کے ایوانوں کی رونق بنے ہوئے ہیں۔ مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں بلاک ہوئیں، بجلی کا نظام درہم برہم ہوا اور بستیاں اجڑ گئیں،
مگر کسی وزیر یا مشیر نے یہاں کے متاثرین خبر تک نہ لی ہمدردی کے دو بول بولنا بھی گوارا نہ کیا۔ کیا کوٹلی ستیاں کے عوام کا کام صرف ووٹ دینا ہے؟ کیا آفت کی ایسی گھڑی میں ان کی بحالی ان نمائندوں کی ترجیح نہیں ہونی چاہیے تھی؟امداد کی منتظر ”سفید پوش“ عوام کوٹلی ستیاں کے لوگ غیرت مند اور جفاکش ہیں، وہ بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکیجز محض کاغذوں تک محدود ہیں۔
کئی ماہ گزر جانے کے باوجود، متاثرین کی اکثریت تاحال ”ریلیف چیک“ کے انتظار میں در بدر ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ بارشوں کے موسم میں جب پہاڑ سرکتے ہیں، تو ان کے ساتھ ان غریبوں کے خواب اور زندگی بھر کی جمع پونجی بھی دفن ہو جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے نقصانات کا سروے تو بارہا کیا گیا، لیکن جب عملی مدد کی باری آئی تو”فنڈز کی کمی“ کا بہانہ بنا کر فائلیں دبا دی گئیں۔کوٹلی ستیاں کی جغرافیائی صورتحال دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔ یہاں لینڈ سلائیڈنگ ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے لیے متبادل اراضی اور گھروں کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضے یا گرانٹ فراہم کریتباہ شدہ انفراسٹرکچر کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے۔منتخب نمائندے فیلڈ میں آ کر عوام کے نقصانات کا ازالہ کریں۔اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور ان ہزاروں متاثرہ گھرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، تو یاد رکھیے کہ عوامی غم و غصہ کسی بھی وقت ایک بڑے احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ کوٹلی ستیاں کے پہاڑ صرف مٹی نہیں اگل رہے، وہ موجودہ نظام کی ناکامی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔
تحریر۔ نوید ستی
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.