دربار عالیہ کلیام شریف حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کا 134واں سالانہ عرس اس سال روحانیت، محبت، نظم و ضبط اور عوامی عقیدت کا ایک عظیم مظہر بن کر سامنے آیا۔ 31 دسمبر سے 9 جنوری تک جاری رہنے والی یہ تقریبات نہ صرف اپنی روحانی تاثیر کے اعتبار سے منفرد رہیں بلکہ عقیدت مندوں کی غیر معمولی تعداد نے تمام سابقہ عرسوں کے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔ ہزاروں افراد کی شرکت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کی تعلیمات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہیں۔عرس کی کامیابی میں سجادہ نشین آستانہ عالیہ کلیام شریف صاحبزادہ سائیں محسن فقیر کی قیادت، خلوص اور انتھک محنت بنیادی ستون ثابت ہوئی۔ ان کی سرپرستی میں تمام تقریبات نہایت وقار، ترتیب اور روحانی ماحول میں منعقد ہوئیں۔

ان کی شخصیت میں عاجزی، بردباری اور خدمت کا جذبہ نمایاں نظر آیا جو صوفیانہ روایت کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی کوششوں نے عرس کو صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک روحانی تحریک کی صورت دے دی۔انتظامی امور میں صاحبزادہ سائیں محسن فقیر کی شبانہ روز محنت نے عرس کو مثالی بنا دیا۔ ان کے مختلف علاقوں کے دورے، عقیدت مندوں سے مسلسل رابطے اور بہترین انتظامی حکمتِ عملی نے اس اجتماع کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی قیادت میں عرس نہ صرف نظم و ضبط کا شاہکار تھا بلکہ محبت اور اخوت کی زندہ تصویر بھی بن گیا۔عرس کے دوران محافلِ نعت، محافلِ سماع اور شعر خوانی کی محفلوں نے روحانی فضا کو مزید معطر کر دیا۔
نعت خوانوں نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبی آوازوں سے دلوں کو منور کیا۔ محافلِ سماع میں صوفیانہ کلام نے حاضرین کے دلوں کو جھکا دیا اور روحوں کو سرشار کر دیا۔ شعر خوانی کی محفلوں میں پیش کیے گئے صوفیانہ اشعار نے محبت، برداشت اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔ یہ محافل اس بات کا عملی ثبوت تھیں کہ تصوف آج بھی معاشرے کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ ہے۔پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر، اور بیرونِ ملک سے بھی عقیدت مند بڑی تعداد میں کلیام شریف پہنچے۔ دربار اور اطراف کا منظر ایک روحانی سمندر کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ لوگ نذرانے، دعائیں، آنسو اور عقیدت کے پھول لے کر دربار پر حاضری دے رہے تھے۔ یہ منظر بتا رہا تھا کہ حضرت بابا جیؒ کی تعلیمات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔عرس میں خصوصی شرکت و سرپرستی دیوان احمد مسعود چشتی سجادہ نشین دربارہ معلی پاک پتن شریف نے کی جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیئرمین پاکستان سویٹ ہوم زمرد خان، سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات، مشائخ عظام اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
تمام مہمانوں کو دربار عالیہ کلیام شریف کی صوفیانہ روایت کے مطابق نہایت احترام اور محبت کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ ان شخصیات کی شرکت نے عرس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ صاحبزادہ سائیں محسن فقیر، صاحبزادہ سائیں حسن فقیر اور دیگر ذمہ داران کی مشترکہ کوششوں نے اس عرس کو تاریخ کا یادگار باب بنا دیا۔ یہ عرس نہ صرف حاضری کے لحاظ سے بلکہ روحانی تاثیر کے اعتبار سے بھی مثالی ثابت ہوا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سائیں محسین فقیر نے تمام مہمانانِ گرامی، عقیدت مندوں، مریدین اور چاہنے والوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا:”دربار عالیہ کلیام شریف سے یہ برکات ہمیشہ جاری رہیں گی۔
حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کا جو مشن تھا، ہم ان شاء اللہ خادم بن کر اسی راستے پر چلتے ہوئے اسے آگے بڑھاتے رہیں گے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت، اللہ کے احکامات پر عمل اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ دربار عالیہ کلیام شریف ہمیشہ محبت، امن، اخوت اور اتحاد کا مرکز رہے گا اور یہی پیغام پوری دنیا تک پہنچایا جاتا رہے گا۔عرس کے دوران پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ علماء و مشائخ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، باہمی احترام اور صوفیانہ تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔
یہ لمحات اس حقیقت کی یاد دہانی تھے کہ صوفیاء کرام کی تعلیمات ہی معاشرے میں امن و محبت کی بنیاد رکھتی ہیں۔حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کی تعلیمات محبت، برداشت، صبر اور انسانیت پر مبنی تھیں۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ 134واں عرس اسی پیغام کی عملی تفسیر بن کر سامنے آیا۔یہ عرس صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک ایسی روحانی درسگاہ تھا جہاں ہر شخص نے محبت، عاجزی اور خدمت کا سبق سیکھا۔ یہ اجتماع نفرتوں کو مٹانے اور دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنا۔ حضرت بابا فضل الدین شاہ کلیامی چشتی صابریؒ کا مشن آج بھی زندہ ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ارسلان اصغر کیانی