امجد بٹ کا علمی و تحقیقی شاہکار”مری کے اہلِ قلم“

ادب کی دنیا میں تخلیق ہمیشہ اپنے خالق کے لیے کسی عزیز اولاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح ماں باپ کے لیے اپنی اولاد محبوب اور بے مثال ہوتی ہے، اسی طرح شاعر ہو یا نثرنگار، کالم نگار ہو یا محقق اپنی تحریر سے اس کا رشتہ بے حد گہرا اور جذباتی ہوتا ہے۔ ادبی تخلیق کا حسن یہی ہے کہ وہ لکھنے والے کے باطن کی ترجمان بنتی ہے اور پڑھنے والے کے دل میں ایک ماں جیسی نرمی اور اپنائیت پیدا کرتی ہے۔

اسی حُسنِ ادب کی مثال ہمیں امجد بٹ کی گراں قدر تصنیف ”مری کے اہلِ قلم” میں ملتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ قاری کو ایسے احساس سے روشناس کراتا ہے جیسے اس کی نگاہوں سے کوئی پردہ ہٹ جائے اور منظر یک دم روشن ہو جائے امجد بٹ اس لحاظ سے اُس پرندے کے ماند ہیں جو سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ لگا کر قیمتی ہیرا نکال لاتا ہے۔ انہوں نے مری کے علمی و ادبی پس منظر سے وابستہ شخصیات کے وہ گوشے سامنے لائے ہیں جو شاید زمانے کی نظر سے اوجھل تھے اور جن تک پہنچنا عام قاری کے لیے ممکن نہ تھا۔امجد بٹ کے اسلوب کی سب سے نمایاں خوبی سادگی اور شگفتگی ہے۔

ان کی نثر میں پیچیدگی نہیں، صرف سلاست اور روانی ہے۔ ان کے کالم کو اگر کوئی مسافر چلتی گاڑی میں بھی پڑھے تو وہ مفہوم کو فوراً سمجھ لیتا ہے۔ یہ سادگی ان کے فکر اور زبان پر قدرت کی دلیل ہے۔ علامہ مُضطَر عباسی اور مُحمّد آصف مِرزا جیسی بلند پایہ شخصیات کی تربیت نے ان کی تحریر میں وقار اور فکر پیدا کی ہے۔”مری کے اہلِ قلم“ دراصل ایک علمی و ادبی انسائیکلوپیڈیا ہے،

جس میں مذہبی، فکری، علمی اور روحانی خدمات سے آراستہ شخصیات کے تذکرے ایسے گُل دستے کی مانند ہیں جس کی خوشبو وقت کی فضاء میں کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ امجد بٹ نے ان ہستیوں کے کارناموں کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ نئی نسلوں کے سامنے ایسے اسلوب میں پیش کیا ہے کہ قاری خود کو ان عظیم شخصیات کی محفل میں بیٹھا محسوس کرتا ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امجد بٹ نے سینکڑوں شخصیات کے حالات و خدمات قلم بند کیے ہیں یہ ایسا بِیڑا تھا جسے اُٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

اس جہدِ مسلسل کی بدولت ان کی یہ کتاب آنے والے زمانوں میں ایک دریا کی روانی کی مانند تسلسل کے ساتھ اثر انگیز رہے گی اور علم کے مسافروں کو سیراب کرتی رہے گی۔امجد بٹ بنیادی طور پر لسانیات کے ماہر ہیں۔ اردو، پہاڑی، اسپرانتو، کشمیری، ڈوگری، انگریزی اور عربی سے ان کی رغبت انہیں ان چند لوگوں میں شامل کرتی ہے جو صرف زبانیں جانتے نہیں بلکہ زبانوں میں نئے لفظ اور نئے معنی تراشتے ہیں۔ ان کے نزدیک زبان نسلوں کی بقا ہے، تہذیبی شناخت کا سرچشمہ ہے،

اور یہی وجہ ہے کہ وہ زبان کو ایک زندہ وجود سمجھتے ہیں۔ان کی اس علمی کاوش کی معراج تب دیکھنے میں آتی ہے جب انہوں نے علامہ ُمضطَر عباسی کے ترجم قُرآن مجید بزُبانِ اسپرانتو کی نظرِ ثانی اور طباعت کی۔ اِن تحقِیق اور محنت طلب مراحل سے گُزر کر ایسا کارنامہ انجام دیا جسے صدیوں نہیں بلکہ شاید روز ابد تک فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

یہ صرف ادبی خدمت نہیں بلکہ مذہبی، تہذیبی اور فکری عظمت کا نشان ہے، جسے آنے والے ادوار میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔مُتعدّد اخبارات میں چھپنے والا اِن کا کالم ”پہاڑ جاگ رہا ہے“ نہ صِرف ان کی فکری بیداری اور تخلیقی سفر کی علامت ہے۔ بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی امجد بٹ ایسا ضرور پیدا ہوتا ہے جو خاموش پہاڑوں کے باسیوں کو اپنے قلم سے جگاتا رہتا ہے اور خزاں کے درختوں کی شاخوں پر بہار کا پیغام لکھ کر ظُلم کو پنپنے نہِیں دیتا ہے۔ ان کی کتاب خود اس بیداری کا ایک زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت ہے، جہاں سینکڑوں اہلِ علم کی روشن تصویریں ان کے الفاظ میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔تاریخ نگاری میں بھی ان کا قلم غیر معمولی مہارت رکھتا ہے۔

جب وہ کسی تاریخی واقعے کو بیان کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قاری ایک فلم دیکھ رہا ہو یہی ان کے بیان کی قوت ہے کہ وہ ماضی کے واقعات کو محسوسات کی سطح تک لے آتے ہیں، گویا وقت کو مٹھی میں بند کر لیا گیا ہو۔امجد بٹ صرف استاد نہیں، وہ محقق بھی، ادیب بھی اور ایک بے قرار ذہن رکھنے والے مفکر بھی ہیں۔ ایسا ذہن جو ہمیشہ کسی نئی تلاش، نئی دریافت اور نئے سوال کی کھوج میں رہتا ہے۔ ان کا لہجہ دھیمہ ہے مگر فکر کی دنیا میں ہمیشہ تلاطم موجُود رہتا ہے۔

جب وہ لکھتے ہیں تو ان کے جملوں سے ایسی روشنی پھوٹتی ہے جیسے برف کی چاندنی آسمان سے اتر رہی ہو۔ ان کی کتاب ”مری کے اہلِ قلم“ اسی روشن چاندنی کی ٹھوس، زندہ اور پائیدار مثال ہے۔امجد بٹ نے درجنوں موضُوعات کو اپنی تحقِیق کے دامن میں سمیٹا ہے۔ لِسانیات، سوانح خاکوں، لُغات، مُعاشیات، قُرآن و احادیثِ مُبارکہ، سیّاحت، عالمگِیر سیاست اور تارِیخ جیسے موضُوعات پر اُن کی مطبُوعات الگ الگ تعارف کی متقاضی ہیں۔

محمد ثاقب عباسی


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.