اقبال کے شاہین اور منشیات کی لعنت

شہباز رشید (نمائندہ پنڈی پوسٹ)
نوجوان کسی قوم کا ایساگرانقدر سرمایہ ہوتے ہیں جس پر ہر دور میں اقوام فخر کرتی ہیں ان کے ہاتھ میں مستقبل کی باگ ڈور ہوتی ہے ان ہی کے دم سے قوم کی ترقی و خوشحالی یقینی بن جاتی ہے اگر ان کی فکر پاکیزہ ہوتو ایک صالح اور باکردار معاشرہ وجود میں آتا ہے جو دوسروں کیلئے مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب کسی قوم کے نوجوان میدان عمل میں کود گئے تو انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجے میں تحریکیں چلیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ تاریخ اسلام بھی نوجوانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم بھی ایسی مثال ہیں جنہوں نے زمانے کا رخ اپنی طرف پھیر لیا۔ مورخ لکھتا ہے کہ دنیا کے عظیم رہبروں نے نوجوانوں کو ہی مخاطب کر کے انقلاب کی طرف قدم برھائے۔ جب نوجوانوں نے ان کی آواز پر لبیک کیا تو تحریکیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئیں اور مورخ یہ بھی لکھتا ہے کہ جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو سب سے پہلے نوجوان اس کی تباہی کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم جس بھی تناظر میں دیکھیں نوجوان نسل ہی ہر شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تحریک آزادی پر نظر دوڑائیں تو علی گڑھ یونیورسٹی کی بہت بڑی کھیپ نظر آتی ہے جس نے آزادی کی تحریک کو برصغیر میں چلا کر ایسا انقلاب برپا کیا کہ آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ایٹمی طاقت کی حیثیت سے موجود ہے‘ آج بھی ہمارے پاس وہی نوجوان ہیں لیکن راہبر نہیں ہیں جنہوں نے ان کو بہتر راستے پر گامزن نہیں کیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ہمارے میر کارواں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ نوجوان کو معاشرے میں اونچا مقام دلوایا جائے۔ بد قسمتی سے ہماری نوجوان نسل کی ایک خاص تعداد تباہی کے راستے پر گامزن ہے جس میں دہشت گردی ‘ اغوا و دیگر سنگین جرائم کے علاوہ منشیات بھی ہے۔ اس وقت راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں منشیات کی فراوانی ہے جس سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان متاثر ہیں اور ان کی بدولت ہزاروں خاندان بھی براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ پولیس کے ذمہ داران اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کبھی کھبی موڈ میں آتے ہیں اور دو چار معمولی منشیات کے عادی افراد کو تحویل میں لے لیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوکر فخر سے تصاویر بھی بنوائی جاتی ہیں جیسے وہ معاشرے کی کوئی کارآمد شخصیات ہوں مگر آج تک ان جرائم کی بیخ کنی نہیں کی جا سکی اور اس لاپرواہی اور کوتاہی کے ذمہ دار بجا طور پر مقامی تھانے ہیں۔ اس وقت تھانہ روات اور تھانہ کلرسیداں کی حدود منشیات فروشوں کیلئے سونے کی کان ہیں جہاں جگہ جگہ سر عام منشیات کی فروخت جاری ہے جس سے لاتعداد نوجوان اور اپنے کنبے کے واحد کفیل اس لعنت میں مبتلا ہوکر لمحہ بہ لمحہ موت کی جانب اپنا سفر رواں رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی تا کلر سیداں چلنے والی ہائی ایس سروس کے مختلف ڈرائیور اور دیگر عملہ بھی اس سے متاثر ہے۔ ذرائع کے مطابق منشیات پیرودھائی سے کلرسیداں اور روات کے علاقوں میں سمگل ہوتی ہے باوجود اس کے کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس ‘موٹر وے پولیس ‘پنجاب ہائی وے ‘پیڑولنگ پولیس اور ٹریفک وارڈن اس روٹ پہ ڈیوٹی پر مامور ہوتے ہیں اور بعض اوقات اینٹی نارکوٹکس کا عملہ بھی خانہ پوری کرتا نظر آتا ہے جبکہ اس کے علاوہ مقامی تھانے جن میں تھانہ سبزی منڈی‘ تھانہ کورال‘ تھانہ لوہی بھیر‘ تھانہ سہالہ ‘ تھانہ روات اور تھانہ کلرسیداں کی حدود بھی استعمال ہوتی ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں ہو پا رہا اور آئے روز کسی نہ کسی خاندان کا چراغ بجھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین جو یوتھ کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے ان کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے کیوں معاشرے کے ان دشمنوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی جاتی اس کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس میں موجود نوجوان افسران سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کریں جس سے منشیات فراوانی کو روکا جا سکے اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل کو ممکن بنایا جا سکے۔ نوجوانوں کی پسندیدہ سیاسی جماعت تحریک انصاف کے قائدین بھی خاموش ہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ این اے باون کے تمام سیاسی قائدین اور منتخب نمائندگان اس ناسور کے خلاف آواز بلند کریں۔ اپنے اپنے حلقوں کو اس سے پاک کر کے اپنا قومی فریضہ ادا کریں ۔ یونین کونسل اور تحصیل سطح پر منشیات کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جائے اسی میں روشن اور صحت مند معاشرہ کی ترقی اور ہم سب کی بقا ہے۔ این اے باون کی کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈا میں یہ بات شامل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی‘ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے حکومت اور چوہدری نثار علی خان کے خلاف بہت سے حربے اور حکمت عملی طے کی جاتی ہے اور مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے دفاعی تحریکیں اور جلسے جلوس اور اقتدار میں آنے کے لیے سرتوڑ کوششیں تو دیکھنے میں آتی ہیں مگر جن پر حکومت کرنی ہے ان کے بال بچوں اور ان سے جڑی تکالیف کا کسی کو ادراک نہیں ہے۔ منشیات کی دہشت گردی ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے مگر سیاسی قائدین اقتدار کی ہوس لئے کھوکھلے اور جھوٹے نعروں سے عوام کو سہانے خواب دکھا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں