اعتراض سے پہلے خود احتسابی

ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہاں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ “ناانصافی” بن چکا ہے۔ ہر شخص خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھتا ہے۔ ہر فرد یہ دعویٰ کرتا نظر آتا ہے کہ اس کی محنت کی قدر نہیں کی جاتی، اسے اس کی قابلیت کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا، اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے اور اس کے کام کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یہ شکایات سننے میں درست بھی لگتی ہیں کیونکہ واقعی ہمارے معاشرے میں کئی شعبوں میں محنت اور معاوضے کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم صرف شکایت پر اکتفا کرتے ہیں اور خود کو ہر قسم کے احتساب سے بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں کتنا کم مل رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود دوسروں کو کتنا انصاف دے رہے ہیں۔

اگر معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ وہی لوگ جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ “ہمیں ہماری فیلڈ میں بہت کم پیسے ملتے ہیں”، جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ اپنی ہی فیلڈ کے کسی شخص کو انتہائی کم معاوضہ دے کر کام کروانے میں ذرا جھجک محسوس نہیں کرتے۔ جو شخص خود استحصال کا شکار ہونے کا رونا روتا ہے، وہی شخص کسی اور کا استحصال کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ یہ رویہ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر فیلڈ میں پایا جاتا ہے۔ صحافت، میڈیا، ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، تدریس، فری لانسنگ، مارکیٹنگ، آئی ٹی، حتیٰ کہ دینی اور سماجی شعبوں میں بھی یہی روش عام ہے۔

ہم اکثر بڑے اداروں، کارپوریٹ سیکٹر یا سرمایہ دار طبقے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ محنت کش کو اس کا حق نہیں دیتے، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ صرف بڑے اداروں سے نہیں بنتا، معاشرہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے رویوں میں وہی ناانصافی دہرا رہے ہیں تو پھر فرق صرف پیمانے کا رہ جاتا ہے، اصول کا نہیں۔ بڑا ادارہ اگر کم پیسے دیتا ہے تو ہم اسے ظالم کہتے ہیں، لیکن جب ہم خود کم پیسے دیتے ہیں تو اسے “مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہم انصاف کو ہمیشہ اپنی ذات کے گرد گھما کر دیکھتے ہیں۔ ہمیں انصاف تب یاد آتا ہے جب ہمیں نقصان ہو رہا ہو، مگر جب فائدہ ہمیں ہو رہا ہوتا ہے تو انصاف کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہماری فیلڈ بہت مشکل ہے، اس میں مہارت چاہیے، وقت لگتا ہے، سیکھنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ مگر جب سامنے والا شخص اپنی محنت کی قیمت بتاتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ تو بہت زیادہ مانگ رہا ہے۔ ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ بھی بالکل وہی بات کہہ سکتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔

اکثر لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ مارکیٹ نے ہماری فیلڈ کی ویلیو ختم کر دی ہے، مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ مارکیٹ کو کس نے خراب کیا؟ مارکیٹ کوئی آسمان سے اتری ہوئی چیز نہیں، مارکیٹ ہم خود بناتے ہیں۔ جب ہم خود کم ریٹ پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، جب ہم خود اپنی محنت کو سستا ثابت کرتے ہیں، جب ہم خود اصولوں پر سمجھوتہ کرتے ہیں تو پھر مارکیٹ بھی ہمیں اسی نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ایک شخص اپنی فیلڈ کی عزت خود نہیں کرے گا تو کوئی دوسرا کیوں کرے گا؟

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں، اور وہ ہے پیشہ ورانہ اخلاص۔ اخلاص کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ اپنا کام ایمانداری سے کریں، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ اپنے پیشے سے جڑے ہر فرد کے حق کو دل سے تسلیم کریں۔ اگر آپ خود چاہتے ہیں کہ آپ کی محنت کو سنجیدگی سے لیا جائے، تو آپ پر لازم ہے کہ آپ بھی دوسروں کی محنت کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو سستا نہ سمجھیں، تو آپ کو بھی دوسروں کو سستا سمجھنے کی عادت چھوڑنی ہوگی۔

ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ بھی ہے کہ ہم کہتے ہیں “بس تھوڑا سا کام ہے”، “زیادہ ٹائم نہیں لگے گا”، “آپ تو اپنے فیلڈ کے ہی ہو”۔ یہ جملے بظاہر معصوم لگتے ہیں، مگر درحقیقت یہی جملے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہی جملوں کے ذریعے ہم سامنے والے کی محنت کو کم تر ثابت کرتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ چاہے کام چھوٹا ہو یا بڑا، اس کے پیچھے مہارت اور تجربہ ضرور ہوتا ہے۔

جب ہم اپنی فیلڈ کے لوگوں کو ہی مناسب معاوضہ نہیں دیتے، تو پھر باہر والوں سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ایک صحافی دوسرے صحافی کی محنت کی قدر نہیں کرتا، تو وہ کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ غیر صحافی اس کی قدر کرے گا؟ اگر ایک ڈیزائنر دوسرے ڈیزائنر کو کم پیسے دے کر کام کرواتا ہے، تو وہ کلائنٹ سے زیادہ پیسوں کا مطالبہ کس منہ سے کرے گا؟ اگر ایک استاد اپنے جیسے استاد کو کمتر سمجھتا ہے، تو وہ معاشرے سے عزت کی امید کیوں رکھتا ہے؟

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اعتراض کرنے کا حق بھی ایک اخلاقی بنیاد مانگتا ہے۔ ہر شخص کو بولنے کا حق تو حاصل ہے، مگر ہر اعتراض باوزن نہیں ہوتا۔ اعتراض تب ہی معتبر ہوتا ہے جب اعتراض کرنے والا خود اسی معیار پر پورا اتر رہا ہو جس کا وہ مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر ہم خود انصاف نہیں کرتے تو ہماری بات محض شور بن جاتی ہے، دلیل نہیں بن پاتی۔

بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر لوگ خود کو بدلنے کے بجائے دوسروں کو بدلنے پر زور دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر حکومت ٹھیک ہو جائے، اگر ادارے ٹھیک ہو جائیں، اگر امیر لوگ ٹھیک ہو جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم خود بھی اسی معاشرتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ ہماری چھوٹی چھوٹی ناانصافیاں مل کر ایک بڑے ظلم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ہم اپنی فیلڈ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں تو ہم صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جب ایک نیا شخص دیکھتا ہے کہ اس فیلڈ میں محنت کے باوجود عزت اور مناسب معاوضہ نہیں ملتا، تو یا تو وہ اس فیلڈ کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر وہ بھی اسی ناانصافی کو سیکھ لیتا ہے۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور فیلڈ کبھی مضبوط نہیں ہو پاتی۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں شکایت کرنے والا معاشرہ بننا ہے یا اصلاح کرنے والا۔ شکایت کرنا آسان ہے، اصلاح مشکل۔ شکایت میں صرف زبان استعمال ہوتی ہے، اصلاح میں کردار۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری فیلڈ کو عزت ملے، تو ہمیں خود اس عزت کی مثال بننا ہوگا۔ ہمیں اپنی فیلڈ کے لوگوں کو سپورٹ کرنا ہوگا، ان کے حق میں آواز اٹھانی ہوگی اور سب سے بڑھ کر اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم جو کہتے ہیں وہی کرتے بھی ہیں۔

آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ اعتراض کرنے سے پہلے آئینے میں جھانکنا ضروری ہے۔ اگر ہم خود اپنی فیلڈ کے ساتھ مخلص نہیں، اگر ہم خود دوسروں کے حق کا خیال نہیں رکھتے، اگر ہم خود اصولوں پر پورا نہیں اترتے تو پھر ہمارے اعتراضات کھوکھلے ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذات سے انصاف کا آغاز نہیں کریں گے، تب تک ہم کسی اور سے انصاف کا مطالبہ کرنے کے حقدار نہیں ہو سکتے۔

کیونکہ سچ یہی ہے کہ جو شخص خود اپنی فیلڈ کا وفادار نہیں ہوتا، وہ صرف باتوں کا بہادر ہوتا ہے، عمل کا نہیں۔ اور جب عمل نہیں ہوتا تو الفاظ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے: جب تک آپ اپنی فیلڈ کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے، تب تک آپ کسی پر اعتراض نہیں کر سکتے۔