اسلام آباد کا سبز حُسن خطرے میں

پولن الرجی پھیلاؤ کے نام پر29ہزار درختوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا
درخت قدرت کی وہ بیش قیمت نعمت ہیں جن کے بغیر زمین پر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ یہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے بھی زندگی کا سہارا ہیں۔ بدقسمتی سے جدید دور میں آبادی میں اضافے، صنعتی ترقی اور شہری توسیع کے باعث درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جا رہی ہے جو ماحول کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔درخت آکسیجن پیدا کرتے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں،

یوں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب درخت کاٹے جاتے ہیں تو فضا میں زہریلی گیسوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے سانس کی بیماریاں اور ماحولیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ درخت زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتے ہیں، ان کی کمی سے عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔درخت بارش کے نظام کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ان کی کٹائی سے بارشوں میں کمی، خشک سالی اور پانی کی قلت جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جب درخت ختم ہو جاتے ہیں تو مٹی کا کٹاؤ بڑھ جاتا ہے اور زمین بنجر ہو جاتی ہے۔جنگلات کی تباہی سے جنگلی حیات بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ جانور اور پرندے اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہو جاتے ہیں جس سے کئی نسلیں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ حیاتیاتی توازن کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے جو بالآخر انسان کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ان دنوں وفاقی دارالحکومت جو قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کے بہترین اور خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے سی ڈی اے کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں درخت کاٹے جانے پر معاملہ زیر بحث ہے،

اس معاملے کو لیکر عوام کے اندر شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے،سوشل میڈیا پیجز پر شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ پہلے ملک کے اندر درختوں کی شدید کمی ہے جو پہلے سے درخت موجود ہیں ان کی نگہبانی کی بجائے کاٹ کر اسلام آباد کو بنجر زمین میں تبدیل کیا جا رہا ہے اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف انکوائری کے بعد سزا و جزا کا فیصلہ کیا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ڈی اے کو معاملے پر بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ پارلیمنٹ ہاؤس بھی پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر فیصل سلیم نے معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔اس حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی 19 جنوری کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا ہے۔ سی ڈی اے کا موقف ہے کہ عدالتی حکم کے تحت صرف وہ درخت ہٹائے گئے ہیں جو پولن الرجی کا سبب بن رہے تھے۔ پولن الرجی کا سبب بننے والے 29 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے ہیں جبکہ یہ آپریشن صرف پولن الرجی کے درختوں، خصوصاً جنگلی شہتوت کے خلاف تین مراحل پر سائنسی بنیادوں پر مکمل کیا گیا ہے۔اسلام آباد کے ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور بڑے سیکٹرز سے پولن الرجی کا سبب بننے والے جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں، ہر ہٹائے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب تک متعلقہ علاقوں میں 40 ہزار سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ پولن الرجی کا سبب بننے والے درختوں کی کٹائی مکمل کرنے کے بعد ان مقامات پر پہلے سے زیادہ تعداد میں نئے درخت لگائے گئے ہیں۔شہری اور ماہرین ماحولیات سی ڈی اے کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر رہے، ان کا کہنا ہے کہ جنگلی شہتوت کے ساتھ بڑی تعداد میں دیگر درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔

شہزادرضا