اسلام آباد، عالمی سفارت کاری کا محور

​تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو ان کی تقدیر اور عالمی ساکھ کا تعین کر دیتے ہیں اور آج ایک بار پھر وقت کا پہیہ اسی مقام پر آکھڑا ہوا ہے جہاں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ شاہراہِ دستور پر جمی دنیا بھر کی نظریں محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ مسلم امہ اور عالمی طاقتیں پاکستان کی ثالثی، غیر جانبدارانہ پالیسی اور سفارتی حیثیت پر مکمل بھروسہ کرتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پرانی کشیدگی کی دھند چھانٹنے کے لیے پاکستان کا انتخاب ان لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جو کل تک پاکستان کو دنیا میں اکیلا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ یہاں ایک چبھتا ہوا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ دنیا کے مشکل ترین جھگڑوں کے حل کے لیے ہمیشہ پاکستان ہی کی طرف دیکھا جاتا ہے؟ کیا یہ ہماری جغرافیائی مجبوری ہے یا ہماری پرامن پالیسی کا پھل؟ جواب سادہ ہے کہ پاکستان نے کبھی آگ لگانے کا کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ایک مخلص ہمسائے کی طرح آگ بجھانے والے کا کردار ادا کیا ہے، اسی لیے ترکیہ کے ہاکان فیدان، سعودی عرب کے شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصر کے سامح شکری کا اسلام آباد میں اکٹھا ہونا ثابت کرتا ہے کہ عالمی برادری ہمیں مسئلہ پیدا کرنے والا نہیں بلکہ “مسائل حل کرنے والے” ملک کے طور پر مان چکی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی متحرک کوششوں اور وزیراعظم شہباز شریف کے امن پسندانہ وژن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی ضروری عالمی قوت ہے جس کے بغیر خطے کے امن کی کوئی بھی کوشش مکمل نہیں ہو سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1971ء میں جب دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی تھی، تب بھی پاکستان ہی وہ مضبوط پل تھا جس نے امریکہ اور چین کے درمیان رابطے کروا کے عالمی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا تھا مگر حیرت ان پیٹھ پیچھے سازشیں کرنے والوں پر ہے جو آج بھی پاکستان کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے نت نئے جھوٹے پروپیگنڈے پھیلاتے ہیں۔ ان برا چاہنے والوں کے لیے یہ سفارتی چہل پہل کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں کیونکہ “نیت صاف تو منزل آسان” کے اصول پر چلتے ہوئے پاکستان کا مقام ایک ایسا کلیدی دروازہ ہے جس کی چابی کے بغیر خطے کے امن کا تالا نہیں کھل سکتا۔ بزرگ کہتے ہیں کہ اچھے کام کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے لہٰذا اسلام آباد میں سجنے والی یہ محفل دراصل اس عالمی اعتماد کا اعلان ہے جو دنیا کو پاکستان کی صلاحیتوں پر ہے لیکن کیا یہ سفارتی کامیابی ہمارے گھریلو جھگڑوں کے خاتمے کا بھی ذریعہ بنے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر فی الحال پاکستان کا بڑھتا ہوا وقار دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ اسلام آباد کی ان سفارتی رونقوں کو پاکستان کے لیے حقیقی خوشحالی کا پیغام بنا دے اور ہمارا وطن عالمی سطح پر امن کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن کر ابھرے۔ یا اللہ! اس پاک سر زمین کو اتحاد، معاشی ترقی اور غیرت مند خودداری کا وہ مقام عطا فرما کہ اقوامِ عالم میں ہمارا نام ہمیشہ سربلندی اور عزت کے ساتھ روشن رہے۔ آمین


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.