ہر بحران میں تعلیم کی قربانی 

پاکستان میں جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے جس شعبے کو قربان کیا جاتا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور اس کے بعد ملک میں ایندھن کی ممکنہ کمی کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اقدامات میں سرکاری اداروں کے ایندھن کے استعمال میں کمی، دفاتر میں چار دن کا ہفتہ اور سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کی بندش تھا۔
یہ فیصلہ بظاہر ایندھن بچانے کے لیے کیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بحران کا بوجھ آخر تعلیم ہی پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟ حکومت نے اعلان کیا کہ اسکول دو ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں گے جبکہ جامعات کو آن لائن تعلیم پر منتقل کیا جائے گا تاکہ طلبہ اور اساتذہ کے سفر میں کمی آئے اور پیٹرول کی بچت ہو سکے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کرے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ان اقدامات کا ہدف اکثر وہ شعبہ بنتا ہے جو کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتا ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، شعور اور قومی تعمیر کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جنگوں اور بحرانوں کے باوجود تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اگر تعلیمی عمل رک جائے تو ایک پوری نسل کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی بندش ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ کبھی سکیورٹی خدشات، کبھی سیاسی احتجاج، کبھی موسم کی شدت اور اب پیٹرول بحران — ہر مسئلے کا فوری حل تعلیمی اداروں کی بندش ہی سمجھا جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کو ایک ہی فیصلے کے تحت بند کر دینا کسی طور مناسب نہیں۔ ملک میں ہزاروں ایسے اسکول موجود ہیں جو گلی محلوں میں قائم ہیں جہاں بچے پیدل آتے جاتے ہیں۔ ان اداروں کا پیٹرول کے استعمال سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن حکومتی فیصلے کی زد میں وہ بھی آ جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا مسئلہ جس کا تعلق بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ سے ہے، اس کا حل تعلیم کو روک کر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس طرح کے فیصلوں کے اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔ جب تعلیمی ادارے بار بار بند ہوتے ہیں تو طلبہ کا تعلیمی تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ اساتذہ کے لیے نصاب مکمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور امتحانات کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ دیہی اور کمزور معاشی پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے تو یہ صورتحال مزید مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس آن لائن تعلیم کی سہولیات بھی موجود نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً تعلیم کا نقصان سب سے زیادہ انہی طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے جو پہلے ہی تعلیمی مواقع سے محروم ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پیٹرول بحران کا اصل تعلق حکومتی پالیسیوں اور توانائی کے نظام سے ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ مگر اس کا حل تعلیمی اداروں کو بند کرنا نہیں بلکہ ایک جامع توانائی پالیسی، بہتر منصوبہ بندی اور متبادل ذرائع کی تلاش ہے۔ حکومت اگر واقعی ایندھن کی بچت چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومتی قافلے، پروٹوکول گاڑیاں اور غیر ضروری سرکاری سرگرمیاں تو جاری رہتی ہیں مگر اسکولوں کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس سے ایک غلط پیغام بھی جاتا ہے کہ گویا تعلیم قومی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر تعلیمی نظام بار بار متاثر ہو تو اس کے اثرات صرف چند دن یا چند ہفتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ایسی قوم جو پہلے ہی تعلیمی مسائل، کم شرحِ خواندگی اور تعلیمی سہولیات کی کمی کا شکار ہو، وہاں تعلیمی اداروں کی بندش مزید نقصان کا باعث بنتی ہے۔
حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بحرانوں کا مقابلہ کرے، نہ کہ ان کے بوجھ کو تعلیم پر ڈال دے۔ اگر حالات خراب ہیں تو انہیں درست کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بہتر منصوبہ بندی، موثر توانائی پالیسی، عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ایسے مسائل کا زیادہ مؤثر حل ہو سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تعلیم کو قومی ترجیح کے طور پر دیکھے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو تعلیمی نظام کو متاثر کرتے ہوں۔ تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کے فکری اور علمی مراکز ہوتے ہیں۔ اگر یہ مراکز خاموش ہو جائیں تو معاشرہ بھی فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔پیٹرول کی بچت یقیناً ضروری ہے، مگر اس کی قیمت تعلیم کی بندش نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ ایک قوم پیٹرول کے بغیر کچھ عرصہ گزار سکتی ہے، لیکن تعلیم کے بغیر اس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ

Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.