
گوجر خان میں کسی زمانے میں 2سینماء گھرفلم بینوں کو سستی تفریح فراہم کرنے کیلئے موجود ہوتے تھے، موجودہ پنجاب بینک کے عقب میں دلشاد سینماء تھا،یہ سینماء قیام پاکستان سے قبل قائم ہوا اورقیام پاکستان کے بعد اسکے مالکان میں شیخ رحیم،شیخ قیوم ودیگر شامل تھے۔کیپری سینماء گلیانہ موڑ پر 1982میں قائم ہوا اور2003کے لگ بھگ بند ہوا،اسکے مالک سابق ایم این اے ملک محبوب تھے۔دونوں سینماؤں کی عمارات اب بھی موجود ہیں لیکن اب وہاں سنوکر کلب اور دیگر سرگرمیاں ہوتی ہیں۔
دلشاد سینماء پر نمائش کیلئے پیش کی جانیوالی فلموں کے تشہیری بورڈ ایوب مسیح پینٹرلکھتے تھے۔ایوب مسیح بلدیہ گوجر خان کے شعبہ صفائی سے منسلک تھے۔ناخواندہ ہونے کے باعث جو تحریر لکھ کر دی جاتی اسے دیکھ کر لکھائی کر دیتے تھے۔ناروے میں مقیم گوجر خانی جاوید اقبال کے مطابق ”ایوب مسیح صفائی اور لکھائی کیساتھ ساتھ دلشاد سینماء کے گیٹ کیپر کی ڈیوٹی بھی سر انجام دیتے تھے۔“(1)
پینٹر اینڈ آرٹسٹ محمدندیم بدرنے راقم سے ٹیلی فونک گفتگومیں بتایا کہ ”1982میں جب کیپری سینماء کا آغاز ہوا تو اس وقت شمع آرٹس حیات سر روڈ والے ولایت حسین تابانی اور قاضی ممتازحسین اسکے تشہیری بورڈ بناتے تھے،بعد میں استاد فیاض،اخلاق انجم(خطاط اور پینٹر۔الفت آرٹسٹ کے برادر اکبر)،احمد دین اورفضل دین(دونوں بھائی۔ٹو سٹارآرٹس گلشن کالونی گوجر خان) اور محمد الطاف(الطاف آرٹس گوجر خان) والے بھی بورڈ بناتے رہے۔
1984میں احمد دین نے کیپری سینما کی وال چاکنگ شروع کی،کیپری سینماء پر 1985میں پیش کی جانیوالی فلم ”ہٹلر“کی وال چاکنگ احمد دین نے کی تھی۔چند ماہ بعد پیش کی جانیوالی فلم ”ماں پُتر“اسکے بورڈ احمد دین نے لکھے،اس وقت کیپری سینما کے تشہیری بورڈ استاد فیاض لکھا کرتے تھے۔ 1985 میں استاد فیاض نے کام چھوڑ دیا تواحمد دین نے فلمی تشہیری بورڈ بھی لکھنا شروع کر دئیے۔آخری سالوں میں فضل دین بھی تشہیری بورڈ لکھتے رہے۔
“(2)
پوٹھوہاری خاکہ نگار،ماہر تعلیم اورپینٹر اینڈ آرٹسٹ مبین مرزا روایت کرتے ہیں کہ”انہوں نے کیپری سینماء پر1982میں پہلی فلم ملنگی دیکھی تھی جسکے ہیرو اکمل تھے،دوسری فلم محمد علی زیبا کی ”کورا کاغذ“دیکھی تھی۔“(3)
گوجر خان میں بڑکی جدید کے محلہ ماسٹراں کے ایک نوجوان ولایت حسین تابانی1960کی دہائی میں سکول ٹیچر تعینات ہونے سے قبل راولپنڈی میں باقاعدہ طور پر کتابت سیکھنے گیا تو وہاں موجود اُستاد نے ہولڈرسے آزمائشی طور پر کچھ لکھوایا تو خوش ہوکر حوصلہ افزائی کی اور کہنے لگے ”تم چل جاؤ گے“۔پھر ایک دن فلم کا پوسٹر بنانے کا آرڈر ملا تو دو پنسلوں سے پیسہ لکھا جس پر استاد حیران ہوئے اورکہنے لگے ”کاکا اے کِتھوں سِکھیا ای،توں فلمی پوسٹر تیار کریا کر،توں کر سکناں ایں“۔اس دور میں خفی کتابت زیادہ تھی اور جلی کتابت کرنے والے کم تھے،فلمی پوسٹر بنانے پر ولایت حسین تابانی کو معاوضہ بھی ملنے لگا۔(4)
سکول ٹیچر تعیناتی کے بعد 1970میں ولایت حسین تابانی (پ:06اپریل 1936۔م:08مارچ2026) نے حیات سر روڈ گوجرخان پرقاضی ممتاز حسین(آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد سکول ٹیچر بھرتی ہوگئے تھے) کی شراکت داری میں شمع آرٹس کے نام سے اپنی دکان کھول لی، دونوں احباب ایک طویل عرصہ تک گوجرخان کے ان دونوں سینماء گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جانیوالی فلموں کے تشہیری بورڈ وں پر اپنی خطاطی اور مصوری کے جوہر دکھاتے رہے۔
حوالہ جات
1:جاوید اقبال،راقم سے ٹیلی فونک مکالمہ بوساطت اصغر علی شاہد،ناروے،14مارچ2026
2:محمدندیم بدر،راقم سے ٹیلی فونک مکالمہ،گوجر خان،14مارچ2026
3:مبین مرزا،راقم کیساتھ ٹیلی فونک مکالمہ،گوجر خان،14مارچ2026
4:عبدالرحمن تابانی،راقم کیساتھ ملاقات میں گفتگو،گوجر خان،13مارچ2026