کہوٹہ‘ستھرا پنجاب پروگرام دعوؤں تک محدود

حکومتِ پنجاب کی جانب سے شروع کیا گیا ستھرا پنجاب پروگرام بظاہر ایک انقلابی اقدام تھا جس کا مقصد صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانا، ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرنا اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا تھا۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عملی طور پر یہ پروگرام عوامی توقعات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔

صوبے کے متعدد شہروں اور بالخصوص تحصیل کہوٹہ جیسے علاقوں میں گلیاں، بازار اور رہائشی علاقے گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر معمول بن چکے ہیں، نالیوں کی بروقت صفائی نہیں ہو رہی اور کچرا اٹھانے کا نظام غیر مؤثر نظر آتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا دیا ہے۔ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے، جدید مشینری اور افرادی قوت کی فراہمی کے دعوے کیے گئے،

مگر افسوس کہ یہ سب اقدامات کاغذی کارروائی اور تشہیری مہم تک محدود رہے۔ عملی سطح پر نہ تو نگرانی کا مؤثر نظام قائم ہو سکا اور نہ ہی ذمہ دار اداروں سے جواب طلبی کی گئی۔ نتیجتاً صفائی کا عمل سست، غیر منظم اور ناقص رہا۔تحصیل کہوٹہ آج صفائی کے مسئلے پر صرف گندگی نہیں بلکہ سوالات بھی اٹھا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ شہر گندا کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود یہ گندگی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟صاف ستھرا پنجاب ایک اچھا اور قابلِ تحسین منصوبہ ہے، مگر کہوٹہ میں یہ منصوبہ عملی طور پر صرف فائلوں، تصویروں اور رپورٹس تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ ساڑھے سات کروڑ روپے ماہانہ یہ رقم کوئی معمولی رقم نہیں۔

اگر یہ رقم واقعی صفائی پر خرچ ہو رہی ہوتی تو آج کہوٹہ کی گلیاں، یونین کونسلیں اور مضافاتی علاقے اس حالت میں نہ ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ صفائی صرف مین روڈ اور بازار تک محدود ہے۔ باقی علاقے جیسے گرڈ اسٹیشن، نواز کالونی، آڑا ادوالا، چھننی اور دیگر بستیاں بدستور گندگی کی لپیٹ میں ہیں۔کوئی ڈسٹ بن نہیں، کوئی کوڑا پوائنٹ نہیں، کوئی مستقل روٹ پلان نہیں۔ پھر الزام عوام پر ڈال دیا جاتا ہے کہ لوگ کوڑا غلط جگہ پھینکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب سہولت ہی نہ دی جائے تو عوام کیا کریں؟عوامی حلقوں کی جانب سے راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور ٹھیکیدار کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگیاں کی جا رہی ہیں مگر کام زمین پر نظر نہیں آتا۔پٹرول کی مد میں ہزاروں لیٹر، گاڑیوں کے نام پر درجنوں گاڑیاں، مگر فیلڈ میں چند گاڑیاں ہی نظر آتی ہیں۔ یہ تضاد خود ایک انکوائری کا تقاضا کرتا ہے۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جب صاف ستھرا پنجاب منصوبہ شروع نہیں ہوا تھا اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی تھی، تب صفائی کا معیار بہتر تھا۔ آج وسائل زیادہ ہیں، بجٹ زیادہ ہے، مگر نتیجہ کم ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں، نظام کا ہے۔ مسئلہ بجٹ کا نہیں، نیت اور نگرانی کا ہے۔صفائی کا نظام صرف جھاڑو لگانے کا نام نہیں، یہ ایک مکمل مینجمنٹ سائیکل ہے:پلاننگ، مانیٹرنگ، شفافیت اور جوابدہی۔بدقسمتی سے کہوٹہ میں یہ چاروں عناصر غائب نظر آتے ہیں۔عوام یہ نہیں کہتے کہ منصوبہ بند کیا جائے، عوام یہ کہتے ہیں کہ منصوبے کو ایمانداری سے چلایا جائے۔اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والے دنوں میں یہی گندگی صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ اداروں کی ساکھ پر بھی نظر آئے گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود کہوٹہ کے صفائی نظام کا نوٹس لیں، غیر جانبدار انکوائری کرائیں، اور عوام کو بتایا جائے کہ کروڑوں روپے کہاں جا رہے ہیں۔کیونکہ جب تک نظام صاف نہیں ہوگا، شہر کبھی صاف نہیں ہو سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹھیکیدار کو دی جانے والی ماہانہ ساڑھے سات کروڑ ادائیگیوں کی تفصیلات سامنے لائی جائیں،پٹرول اور گاڑیوں کے اخراجات کی آڈٹ رپورٹ شائع کی جائے،راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے کہوٹہ میں تعینات افسران کے کردار کی غیر جانبدار انکوائری کی جائے اور صفائی کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے

ارسلان کیانی


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.