کوٹلی ستیاں سیاحتی انقلاب کی دستک اور سلگتے عوامی مسائل

ضلع مری کی تحصیل کوٹلی ستیاں قدرت کے حسین مناظر، بلند و بالا پہاڑوں اور جفاکش عوام کا مسکن ہے۔ حالیہ دنوں میں اس خطے کے لیے امید کی ایک نئی کرن نمودار ہوئی ہے، جس کا سہرا موجودہ پنجاب حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سر جاتا ہے۔ حکومت نے کوٹلی ستیاں کو ایک “جدید ٹورازم ہب” بنانے کا جو وژن پیش کیا ہے، وہ بلا شبہ اس علاقے کی تقدیر بدلنے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے سیاحتی ترقی ایک مثبت پیش رفت ہے سیاحت کے فروغ کے لیے 14 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم سے مختلف سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے، جو کہ رکن صوبائی اسمبلی بلال یامین ستی اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہےان منصوبوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ کوٹلی ستیاں بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ منتخب نمائندے علاقے کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں، لیکن اس چمکتی ہوئی تصویر کے پیچھے کچھ ایسے تاریک گوشے بھی ہیں جو فوری توجہ کے طالب ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جہاں اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، وہیں عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کوٹلی ستیاں میں آج بھی پینے کے صاف پانی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پختہ راستوں کی شدید کمی ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی سیاحوں کے لیے ہی نہیں بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی ایک عذاب بن چکی ہے تحصیل کوٹلی ستیاں کے ہائی سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز کی کمی اور تدریسی عملے کی خالی آسامیاں نوجوان نسل کے مستقبل کو دھندلا رہی ہیں۔ اسی طرح، صحت کے شعبے میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار یہ ہے کہ اسے محض ایک “ریفرل سینٹر” سمجھا جاتا ہے۔ معمولی نوعیت کی ہنگامی صورتحال میں بھی مریضوں کو راولپنڈی بھیج دیا جاتا ہے، جس سے انسانی جانوں کا ضیاع ایک معمول بن چکا ہے۔ جب تک بنیادی ہیلتھ سینٹرز میں ڈاکٹرز اور ادویات دستیاب نہیں ہوں گی، سیاحتی مرکز بننے کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ سکے گاوزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود پولیس کے رویے میں وہ تبدیلی نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ منشیات فروشوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے محکمہ مال میں پٹواریوں اور انتظامی افسران کی کمی سے عوامی مسائل کے انبار لگ گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی مافیا کا راج ہے؛ نہ تو کوئی باقاعدہ اڈہ ہے اور نہ ہی سرکاری کرایہ نامے پر عملدرآمد، جس سے مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کوٹلی ستیاں کا ایک بڑا مسئلہ لینڈ سلائیڈنگ اور شارٹ سرکٹ سے ہونے والا جانی و مالی نقصان ہے۔ 2016 میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خود علاقے کا دورہ کر کے متاثرین میں چیک تقسیم کیے تھے، لیکن اس کے بعد سے آج تک ہزاروں خاندان امداد کے منتظر ہیں۔ ہر سال سروے ہوتے ہیں، رپورٹیں بنتی ہیں، مگر عملی طور پر متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ہر چھ ماہ بعد لینڈ سلائیڈنگ سے ہزاروں مکانات متاثر ہوتے ہیں سڑکیں تباہی ہو جاتی ہیں سرکاری املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اسے آفت زدہ علاقے قرار دیکر این ڈی ایم اے کی خصوصی توجہ کا مرکز بنایا جاے جب بھی کوئی آ گے آ ے یہاں متاثرین کی فوری مدد کی جاے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز ، سنئیر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اورایم پی اے بلال یامین ستی کی سیاحت کے حوالے سے کوششیں لائقِ تحسین ہیں، مگر “جدید ٹورازم ہب” کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوگا جب یہاں کا مقامی باشندہ بھی خوشحال ہوگا۔ سیاحوں کے لیے سڑکیں بناتے وقت مقامی لوگوں کے لیے ہسپتال، سکول اور پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان 14 ارب روپے کی سکیموں کے ساتھ ساتھ اجتماعی عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی خصوصی فنڈز جاری کرے تاکہ کوٹلی ستیاں صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ تحصیل بن سکے۔