کرسمس کی سرکاری تقریبات نہ ہونے پر مسیحی برادری کا اظہارِ تشویش

کلر سیداں (نمائندہ پنڈی پوسٹ) میونسپل کمیٹی کلر سیداں میں کرسمس کے موقع پر سرکاری سطح پر مسیحی برادری کے لیے کسی بھی قسم کی تقریب کا انعقاد نہ کیے جانے پر مقامی مسیحی برادری میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔کرسمس جو کہ مسیحی برادری کا سب سے بڑا اور مقدس مذہبی تہوار سمجھا جاتا ہے، اس موقع پر نہ تو کوئی سرکاری تقریب منعقد کی گئی اور نہ ہی روایتی طور پر کیک کاٹا جا سکا۔

جس کے باعث برادری کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال کرسمس کو مذہبی عقیدت، جوش و جذبے اور خوشی کے ساتھ مناتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح دیگر مذہبی تہواروں پر سرکاری سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح کرسمس کو بھی اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری تقریبات نہ صرف اقلیتی برادریوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔مقامی مسیحی رہنماؤں اور سماجی شخصیات نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں کرسمس سمیت دیگر اقلیتی تہواروں کے موقع پر سرکاری سطح پر تقریبات کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے تاکہ اقلیتی برادریوں میں احساسِ محرومی کا خاتمہ ہو اور انہیں بھی قومی دھارے میں شامل ہونے کا بھرپور احساس مل سکے۔

شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک کثیرالمذاہب ملک ہے جہاں آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے اقلیتی تہواروں پر سرکاری سطح کی عدم توجہی مناسب نہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مستقبل میں اقلیتی برادریوں کے مذہبی تہواروں کو مناسب اور باوقار انداز میں منانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.