ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم سچے عاشق رسول اور قائد و اقبال کے شیدائی تھے،تفاخرگوندل/ممتاز عارف

پھالیہ منڈی بہاءالدین( خصوصی رپورٹ)دائرۂ علم و ادب کے زیر اہتمام علم و ادب کے مرکز مغیرہ ہاؤس میں نامور علمی و ادبی شخصیت،محقق،دانشور اور ماہرِ اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم مرحوم کی یاد میں ایک بھرپور تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ملک کے معروف شاعر،ادیب اور کالم نگار پروفیسر تفاخر محمود گوندل نے کی جبکہ نامور شاعر،ادیب،صحافی،براذکاسٹر،کالم نگار ممتاز عارف مہمان خصوصی تھے۔تنظیم ہذا کے سرپرست اعلیٰ محمد ضیغم مغیرہ،ماہر تعلیم سید افتخار حسین شاہ اور نامور پنجابی شاعر لیاقت گڈ گور مہمانانِ اعزاز تھے۔

نظامت کے فرائض مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیر آباد کے پرنسپل اور صاحبِ دیوان شاعر پروفیسر سید ارشد بخاری نے انجام دئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر تبسم کے دیرینہ رفیق خاص پروفیسر تفاخر محمود گوندل نے کہا کہ ڈاکٹر تبسم سچے عاشق رسول تھے، وہ علم و ادب کا بحر بے کراں تھے۔ان کی حیات بخش اور روح افزا کتابیں اہل علم و ادب کی روح کو ہمیشہ سیراب کرتی رہیں گی۔ممتاز عارف نے ڈاکٹر تبسم سے اپنی ساٹھ سالہ دوستی اور ادبی رفاقت کی روشنی میں یادوں کے در وا کرتے ہوئے کئی اہم واقعات سے شرکائے محفل کے قلوب و اذہان کو معطر و منور کیا اور کہا ڈاکٹر تبسم قائد و اقبال کے شیدائی تھے، وہ دبستانِ سرگودھا کے سب سے زیادہ کتب لکھنے والے لکھاری ہیں۔

ان کا اقبالیاتی سرمایا اپنی مثال آپ ہے ۔محمد ضیغم مغیرہ نے کہا کہ ڈاکٹر تبسم کی دل پذیر شخصیت اہل علم و دانش کے لئے مشعلِ راہ ہے، ان کا ذخیرۂ کتب تشنگانِ علم و ادب کی پیاس بجھاتا رہے گا۔سید افتخار حسین شاہ نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر تبسم کی خدمات کا احاطہ کرنے کے لئے درجنوں کتابیں بھی لکھیں تو کم ہیں۔پروفیسر امجد مرید حیدری نے پروفیسر تفاخر محمود گوندل کی کتاب”تبسم چمنستانِ ادب”کی روشنی میں ڈاکٹر تبسم کے فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر عمدہ انداز میں روشنی ڈالی۔

معروف شعراء و نقاد نعیم رضا چھٹی اور توقیر احمد نے بڑے جامع انداز میں ڈاکٹر تبسم کی علمی و ادبی خدمات اور فنی کمالات پر روشنی ڈالی۔ نام ور پنجابی شاعر لیاقت گڈ گور نے ڈاکٹر تبسم کے سانحۂ ارتحال پر درد و سوز میں ڈوبے ہوئے اشعار پیش کرکے محفل کی فضا کو اور سوگوار کر دیا۔تقریب کے اختتام پر ضیغم مغیرہ کی طرف سے شرکائے محفل کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔