چک بیلی خان اور ماضی کے شب وروز

چک بیلی خان کی بنیاد رائے بلوچ خان نے ایسی جگہ پر رکھی جہاں سے آس پاس کے دیہات آسانی سے نظر آتے تھے اور ان سب دیہاتوں کے باشندوں کی نگاہیں ہر وقت چک بیلی خان پر رہتی تھیں اور ان کا دل یہاں آنے اور یہاں کے رہنے والوں سے راہ ورسم بڑھانے کو مچلتا تھا۔ جیسے یہ کوئی عجوبہءروزگار ہو۔ اس کا محلِ وقوع ہی اتنا جاذبِ نظر تھا۔شمالاً جنوباً ندیوں میں بہتا شفاف پانی، چاروں طرف بلندوبالا ہرے بھرے پیڑوں کی بہتات ، فصلوں کیلئے زرخیز زمین ، ہنس مکھ اور ملن ساز لوگ ۔ کسی بھی شخص کیلئے اس بستی میں آنے کی آرزو کیلئے یہ سب لوازمات کافی ہیں۔ اسی وجہ سے دیگر بستیوں سے آکر کسی نے دکان بنائی، کسی نے مال مویشی ، کسی نے اناج فروخت کرنے کی خاطر یہاں کا رخ کیا۔ ہنرمندوں نے اپنے ہنر سے چک بیلی خان کو مرکز بنایا، انگریزسرکار نے یہاں تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی اور آس پاس کے افراد یہاں بچوں کوزیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے یہاں بھیجنے لگے اور یوں میرا یہ گائوں ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔میری یادوں کے دھندلکے میں جو مناظر دکھائی دے رہے ہیں ان میں سے چند آپ کو دکھارہا ہوں۔ان دنوں لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے ،سادہ لباس،سادہ خوراک اور سادہ اندازِ گفتگو۔ کسی چیز میں دکھاوا نہیں تھا۔کھانے مٹی کی ہانڈی میں، مٹی سے بنے چولہے ،لکڑی اور خشک ٹہنیاں جلا کر،پھونک پھونک کر دھویں سے آگ جلا کر جو شوربے والا سالن،دال اور سبزی خواتین تیار کرتیں ان میں محنت اور محبت کا ذائقہ بھی شامل ہوتا۔ سرسوں کا ساگ مجھے بہت پسند تھا اور اب بھی ہے،محلے کی دوچار عورتیں مل کر کھیتوں سے ساگ توڑنے جاتیں ،پھر سارا دن اس کی تیاری میں لگ جاتا لیکن کھانے والا انگلیاں چٹخانے لگتا۔چائے اور میٹھا بنانے کیلئے چک بیلی خان میں گڑ استعمال ہوتا تھا ،چینی کبھی کبھی چچا بابوریاض کے ڈپو میں آتی تھیں اور وہ گھر کے افراد کی تعداد کے لحاظ سے تول کر دیتے تھے۔ بڑے سے بڑے گھرانے کے حصے میں بھی دو اڑھائی سیر چینی ہی آتی تھی۔ میٹھے میں ان دنوں عام طور پر سوجی کا حلوہ ہی پکتا تھا۔ شادی بیاہ کے موقع پر بھی گوشت اور حلوہ ہی تیار ہوتا تھا آج کل کی طرح کھانوں کی کثرت نہیں تھی۔ روٹی میں جو تنور کی روٹی تھی اس کی خوش بو ہی جدا تھی ،اگر کوئی خاتون تنور میں آگ جلاتی تو محلے کی دو تین خواتین کو بھی پیغام بھجواتی کہ تنور میں روٹی لگا لیں،اگر ہانڈی تیار ہوتی تو ہمسائے میں ضرور بھجوائی جاتی۔چک بیلی خان کی عورتیں چھٹی والے روز چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر ندی پر کپڑے دھونے جاتیں اور بچوں کو بھی ندی کے بہتے پانی سے نہلاتیں۔اسی روز پہلے بچوں کو حجام سے حجامت بنوانے کیلئے بھیجتیں ہم چچا شریف حجام سے حجامت بنوانے جاتے وہ ایک ہموار پتھر پر ہر بچے کو بٹھاتے اور خود ایک چھوٹی سی چارپائی پر بیٹھ کر حجامت بناتے ،فیشن نام کی کوئی چیز نہیں تھی سب کے بال ایک ہی طرح کاٹتے۔نہانے کیلئے رنگ برنگے صابن نہیں تھے سب کپڑے دھونے والے صابن سے نہا لیتے تھے اور نہ ہی کپڑے دھونے والے سَرف دستیاب تھے ،برتن دھونے کیلئے بھی کالا صابن اور ریت استعمال ہوتی تھی.بالوں پر لگانے والے شیمپو بھی نہیں تھے عورتیں بیری کے پتے وغیرہ ابال کر بال دھوتی تھی۔اسی طرح جب چوڑیاں بیچنے والی گلی میں آتی تو بلند آواز سے پکارتی ونگاں چڑھا لو کڑیو، تو محلے کی لڑکیاں اکٹھی ہوجاتیں اور کانچ کی چوڑیاں پسند کرتیں اور اسی میں خوش ہو جاتیں۔کانچ کے سوا کسی قسم کی چوڑیاں ان دنوں نہیں ملتی تھیں۔ان کی خوشی کپڑے سے بنی گڑیوں اور ان کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں جنہیں پٹولے کہا جاتا ان میں پنہاں تھی۔چک بیلی خان میں فصل کی کٹائی اور گہائی مل کر کرنے کا رواج تھا کھانے کے اوقات میں عموماً گھر کی عورتیں کھانا زمین تک لے جانے کیلئے سرکنڈوں کے کانوں سے بنی ٹوکرا نما کھاری کا استعمال کرتیں۔ مکئی کے بھٹے بھوننے کیلئے ہم بچپن میں بھٹے کو درانتی کے آگے لگا کر انگاروں کے اوپر رکھتے،گھر والے مکئی اور چنے کے دانے بھنانے کیلئے ایک ادھیڑ عمر کی عورت کے پاس بھیجتے جس کے پاس بہت سے بچے اپنے اپنے دانے لے کر موجود ہوتے،اس نے اس کام کیلئے عصر کے بعد وقت مقرر کررکھا تھا وہ باری باری سب بچوں سے دانے لیتی اور ان میں سے اپنا حصہ الگ کرکے ایک برتن میں ڈالتی جاتی اور اپنی اپنی باری پر سب کو دانے بھون کر دیتی جاتی۔فصل کی کٹائی کے موقع پر درانتیاں تیز کروانے کیلئے ہم بابا روشن دین کے پاس جاتے تھے جو قیامِ پاکستان کے بعد پونچھ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.