پیدائش و اموات کے قواعد 2025 پر آگاہی سیمینار، ضلعی کونسل ہال اٹک میں انعقاد

پنجاب لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام پیدائش و اموات کے قواعد 2025 کے حوالے سے ایک اہم آگاہی سیمینار ضلعی کونسل ہال اٹک میں منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد عوام اور متعلقہ اداروں کو نئے قواعد و ضوابط سے آگاہ کرنا اور ان کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

سیمینار میں ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر افسران نے قواعد کی تفصیل پر مبنی جامع بریفنگ اور پریزنٹیشن دی۔ اس موقع پر حلقہ پی پی 3 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک حمید اکبر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اٹک انیل سعید، اسسٹنٹ کمشنر محترمہ انزہ عباسی، مرکزی صدر آل پاکستان سیکرٹری یونین کونسل ایسوسی ایشن ملک آفتاب احمد آف بولیانوال، نائب صدر بار ایسوسی ایشن اٹک ثمینہ ایڈووکیٹ، سول سوسائٹی کی نمائندہ تنظیموں انجمن انمول، منزل، ویسا ویلفیئر ایسوسی ایشن حضرو کے عہدیداران، اور جنرل سیکرٹری اٹک تاجران مارکیٹ نے بھی شرکت کی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے سیمینار میں بتایا کہ 2025 کے نئے قواعد کے مطابق پیدائش و اموات کے اندراج کو آسان، شفاف اور عام فہم بنایا جا رہا ہے۔ قاعدہ نمبر 03 کے تحت ایک سال کے اندر اندراج کا اختیار یونین کونسل کے سیکرٹری کو حاصل ہے، جبکہ سات سال کے اندر اندراج اسسٹنٹ ڈائریکٹر LG&CD کے ذریعے ہوگا (قاعدہ 04)۔ سات سال سے زائد تاخیر کی صورت میں اندراج ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کرے گا (قاعدہ 05)۔

موت کے اندراج کے لیے مخصوص مدت گزرنے پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی (قاعدہ 11-12)، جبکہ قاعدہ 13 کے تحت سات سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد موت کا اندراج عدالتی حکم سے مشروط ہوگا۔ قاعدہ 17، 18 اور 19 ریکارڈ کی درستگی، تبدیلی اور جعلی اسناد کی منسوخی سے متعلق ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ قاعدہ 21 کے مطابق پیدائش یا موت کا پہلا اندراج مکمل طور پر مفت ہوگا۔

سیمینار میں پیدائش کے اندراج کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے کہا کہ قانونی شناخت، شہریت، تعلیم، صحت، CNIC، اور دیگر سہولیات تک رسائی کے لیے اندراج اولین قدم ہے۔ اندراج کے ذریعے بچوں کو استحصال، چائلڈ لیبر، اور کم عمری کی شادی جیسے جرائم سے تحفظ ملتا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A کے مطابق 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے۔ بچوں کو صحت، خوراک، اور محفوظ ماحول کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بچے کو نام، شہریت اور قانونی شناخت کا حق حاصل ہے، جو پیدائش کے بروقت اندراج سے مشروط ہے۔

تقریب کے اختتام پر کہا گیا کہ پیدائش و اموات کا اندراج محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ نئے قواعد نہ صرف نظام کو مؤثر بنائیں گے بلکہ پالیسی سازی، سماجی سہولتوں کی فراہمی، اور شہریوں کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ بچوں کے حقوق کی ابتدا ان کے وجود کے باقاعدہ اعتراف سے ہوتی ہے، اور پیدائش کا اندراج ان کی پہچان کا پہلا قدم ہے۔