پنجاب میں کرائم سین سسٹم کو قانونی حیثیت مل گئی، نئے قواعد منظور

لاہور (پنڈی پوسٹ نیوز) پنجاب حکومت نے برسوں بعد کرائم سین سسٹم کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی ہے جس سے تفتیشی نظام مزید مضبوط اور شفاف ہونے کی توقع ہے۔پنجاب کابینہ نے کرائم سین یونٹس کے قواعد منظور کر لئے تاہم کرائم سین سے شواہد اکٹھا کرنے کے عمل کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے (CSU) PFSA رولز 2026 کی منظوری دے دی، کرائم سین یونٹس اہلکاروں کو پہلی بار باقاعدہ لیگل بیکنگ فراہم کر دی گئی ہے۔

پہلے کرائم سین یونٹس افسران شواہد اکٹھا کرتے تھے مگر قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا، شواہد اکٹھا کرنے سے لے کر عدالت میں پیشی تک مکمل پراسس ریگولیٹ ہوگا۔

قواعد میں ویڈیو ریکارڈنگ کو بھی بطور ثبوت شامل کرنے کی تجویز منظور کردی گئی، ایف آئی آر نمبر، تاریخ، تھانہ اور ضلع کی تفصیل شامل کرنا لازمی ہوگا، جبکہ عدالت میں گواہی ویڈیو لنک یا بالمشافہ دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔