پاکستان کی موروثی سیاست


پروفیسر محمد حسین
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر دراصل خاندانی اشرافیہ راج کر رہی ہے۔ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ملک کے سیاسی افق پر چند درجن خاندانوں کا سورج غروب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ یہ خاندان نہ صرف اپنی اپنی ریاستوں کے بے تاج بادشاہ ہیں بلکہ وفاق اور صوبوں میں اقتدار کی بندر بانٹ بھی انہی کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستان کی پارلیمان کو دیکھ کر اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ عوامی نمائندوں کا ایوان نہیں بلکہ چند بااثر اور طاقتور قبیلوں اور موروثی خاندانوں کا ایک خصوصی کلب ہے۔

سندھ کی سیاست کا ذکر شروع کیا جائے تو بھٹو اور زرداری خاندان کا ذکر ناگزیر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہونے والا یہ سیاسی سفر بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری تک پہنچ چکا ہے۔ 2024ء کے انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سندھ کی دیہی سیاست پر اس خاندان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ وہاں کسی غیر موروثی قیادت کا ابھرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

اسی صوبے میں جتوئی خاندان، مہر خاندان اور پیر پگارا خاندان اپنی روحانی، قبائلی اور سیاسی طاقت کے بل بوتے پر دہائیوں سے ایوانوں کا حصہ بنتے آ رہے ہیں۔ یہاں اکثر ووٹ نظریات کو نہیں بلکہ سائیں، وڈیروں اور بااثر خاندانوں کو دیا جاتا ہے۔

پنجاب، جو پاکستان کی سیاست کا اصل مرکز ہے، وہاں شریف خاندان نے اقتدار کی نئی جہتیں متعارف کرائی ہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف اور اب مریم نواز شریف کی صورت میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا سامنے آنا اس موروثی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ مریم نواز شریف نے بھی مستقبل میں وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پنجاب میں اس خاندان کی گرفت کو چیلنج کرنا کسی عام سیاسی کارکن کے لیے آسان نہیں رہا۔

دوسری طرف گجرات کے چوہدری خاندان نے کنگ میکر کا ایسا فن سیکھا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کو بھی اکثر ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین اور اب ان کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین اسی سیاسی ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب کی طرف رخ کریں تو موروثیت کے رنگ مزید گہرے اور قبائلی ہو جاتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے لغاری، مزاری اور کھوسہ خاندانوں کی باہمی رقابتیں اور سیاسی اتحاد اس خطے کی پہچان ہیں۔ فاروق لغاری مرحوم سے لے کر اویس لغاری تک، جبکہ بلخ شیر مزاری سے دوست محمد مزاری تک، یہ چہرے مختلف ادوار میں اقتدار کے ایوانوں میں نظر آتے رہے ہیں۔

ملتان کی سیاست تو گویا قریشی، گیلانی اور ہاشمی خاندانوں کے گرد طواف کرتی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی گدی نشینی ہو یا یوسف رضا گیلانی کا سیاسی اثر و رسوخ، یہ سب موروثیت کی ان کڑیوں کی عکاسی کرتے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہیں۔ 2024ء کے انتخابات میں گیلانی خاندان کے تینوں بیٹوں کا ایک ساتھ ایوان میں پہنچنا اس موروثی طاقت کی واضح مثال ہے۔

رحیم یار خان میں مخدوم خاندان اور خسرو بختیار کی سیاسی بساط اتنی پھیلی ہوئی ہے کہ وہاں عام شہری اکثر صرف ووٹ دینے کی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ سرگودھا کے لون اور ٹوانہ خاندانوں کی داستانیں قیامِ پاکستان سے بھی پرانی ہیں، جبکہ ترین خاندان نے دولت اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے سیاسی نقشہ بدلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں باچا خان، ولی خان اور اسفندیار ولی کے خاندان نے پشتون قوم پرستی کی سیاست میں ایک طویل عرصے تک مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح مفتی محمود کے سیاسی خاندان سے مولانا فضل الرحمن تک مذہبی سیاست بھی خاندانی تسلسل سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

بلوچستان میں تو سیاست قبائلی سرداری کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ مگسی، مری، بگٹی، مینگل اور اچکزئی خاندانوں سمیت کئی بااثر قبائل صوبے کی سیاست میں دہائیوں سے فیصلہ کن کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ جام کمال خان ہوں یا سرفراز بگٹی، ان کا تعلق بھی انہی بااثر سیاسی و قبائلی حلقوں سے ہے جو مختلف ادوار میں صوبے کی باگ ڈور سنبھالتے رہے ہیں۔

ان تمام خاندانوں کی بقا کا ایک بڑا راز ان کا ’’الیکٹیبل‘‘ ہونا ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت ہو، مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلز پارٹی ہو یا تحریک انصاف، ان بااثر خاندانوں کے بغیر انتخابی سیاست میں کامیابی کا تصور مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹیاں بدلتی ہیں، نظریات بدلتے ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، مگر چہرے وہی رہتے ہیں۔

اس موروثی نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر میرٹ اور جمہوریت کمزور پڑ چکی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان سیاسی جماعت میں صرف کارکن بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ قیادت کا حق اکثر صاحبزادوں، سردارزادوں اور بااثر خاندانوں کے وارثوں کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کی آمد اور نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور نے اس قدیم سیاسی ڈھانچے میں کچھ دراڑیں ضرور ڈالی ہیں۔ 2024ء کے انتخابات میں کئی مقامات پر بڑے سیاسی برجوں کو دھچکا بھی لگا، مگر مجموعی طور پر سیاسی نظام اب بھی بڑی حد تک انہی خاندانوں کے شکنجے میں ہے۔

پاکستان کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاست خاندانوں کی جاگیر سے نکل کر عوام کی ملکیت نہیں بن جاتی۔ یہ پچیس کروڑ عوام کا ملک ہے، چند خاندانوں کی لمیٹڈ کمپنی نہیں۔

جب تک پارلیمان میں عام آدمی کی آواز نہیں پہنچے گی اور جب تک متوسط طبقے کا نوجوان قیادت کے منصب پر فائز نہیں ہوگا، تب تک حقیقی جمہوریت ایک خواب ہی رہے گی۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم موروثی سیاست کے اس شکنجے کو توڑیں اور ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھیں جہاں قیادت کا معیار خون کے رشتے نہیں بلکہ صلاحیت، کردار، اہلیت اور عوامی خدمت ہو۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جو سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کی بحالی اور مضبوطی کی بات کرتی ہیں، وہ اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت قائم کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایک بار پھر شریف خاندان کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر پارٹی کا ایک عہدہ کوئی ایک فرد سنبھالے تو اس کے بعد بھائی، پھر بیٹی، پھر بھتیجا اور پھر دیگر خاندانی افراد کے لیے راستہ کھلتا چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر عام کارکن کہاں جائے؟

پیپلز پارٹی کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ بھٹو خاندان سے شروع ہونے والا سیاسی سفر آج زرداری خاندان تک پہنچ چکا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ پیپلز پارٹی کے دونوں دھڑوں کی قیادت بھی ایک ہی خاندان کے گرد گھومتی ہے؛ ایک کی صدارت آصف علی زرداری کے پاس ہے جبکہ دوسری کی چیئرمین شپ بلاول بھٹو زرداری کے سپرد ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کی دعویدار بیشتر سیاسی جماعتوں میں اقتدار کا ہما باپ، بیٹے، بھائی یا دیگر خاندانی وارثوں کے سر ہی بیٹھنے کو تیار ہے۔

خیبر پختونخوا میں ولی خاندان بھی اپنی جماعت کے اندر خاندانی میراث کے اس تصور سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔ اسی طرح شیرپاؤ، ملتانی پیر، وڈیرے، سردار، شاہ اور دیگر بااثر خاندان مختلف سیاسی جماعتوں میں اپنے خاندانی اثر و رسوخ کے ذریعے اپنی جگہ مضبوط کیے ہوئے ہیں۔

آخر میں صرف جماعت اسلامی ایسی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آتی ہے جس نے ایک طویل عرصے سے اپنی جماعتی قیادت کو نسبتاً جمہوری انداز میں چلانے کی روایت قائم رکھی ہے۔ اس کے اندر قیادت کا انتخاب خاندانی وراثت کے بجائے جماعتی نظام اور داخلی انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتیں خود جمہوری نہیں ہوں گی تو وہ ملک میں حقیقی جمہوریت کیسے قائم کریں گی؟

پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جہاں قیادت کسی خاندان کی میراث نہ ہو، جہاں کارکن صرف نعرے لگانے اور جھنڈے اٹھانے کے لیے نہ ہو، جہاں عام آدمی بھی پارٹی کی قیادت تک پہنچ سکے اور جہاں اقتدار خون کے رشتوں سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، اہلیت اور خدمت سے منتقل ہو۔

کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ جمہوریت اختیار کی منصفانہ تقسیم، میرٹ، جواب دہی اور عام آدمی کی حکمرانی کا نام ہے۔پاکستان کے عوام کو ایسی سیاسی پارٹیوں سے کوئی غرض نہیں جو ملک میں جمہوریت کی دعوے دار ہوں لیکن اپنی جماعتوں کے اندر آمریت کا نظام قائم رکھیں۔ ہمیں پاکستان میں جمہوریت کے نام پر ہونے والے اسی ظلم و ستم پر اعتراض ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادتیں شاید یہ سمجھتی ہیں کہ وہ عوام کو ہمیشہ اسی طرح اپنے حصار میں رکھ سکتی ہیں، مگر اب وقت تبدیل ہو چکا ہے، سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور عوام بھی اپنے سیاسی شعور کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

آپ کو جمہوریت عزیز ہے تو سب سے پہلے اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت قائم کریں۔ کارکن کو اس کا حق دیں، میرٹ کو تسلیم کریں اور قیادت کو خاندانی جاگیر سمجھنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں، عامرانہ طرزِ عمل زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ وقت کا پہیہ بدل چکا ہے اور اگر سیاسی جماعتوں نے اپنے رویوں اور طرزِ سیاست میں تبدیلی نہ لائی تو بہت جلد یہی عوامی شعور اس موروثی اور آمرانہ سیاست کو منہ کی کھانے پر مجبور کر دے گا۔

یہ ملک کسی خاندان، گروہ یا سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کا وطن ہے۔ اس کے فیصلے بھی عوام کی مرضی، اہلیت اور حقیقی جمہوری اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی بدلیں، سیاست بھی بدلے اور قیادت کے انتخاب کا معیار بھی بدلے۔