ٹیکسلا۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کے بائیسویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب اور چانسلر سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ اگر ملک کو تعلیمی میدان میں آگے لے جانا ہے تو ہمیں اپنی سابقہ کوتاہیوں کا اعتراف کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان انجینئرز وہ صلاحیت رکھتے ہیں جو پاکستان کو تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مضبوط بنیاد دے سکتے ہیں۔
گورنر پنجاب نے بتایا کہ یو ای ٹی ٹیکسلا کا ایشیا کی بہترین جامعات میں 106 ویں نمبر تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی اور حکومت تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ ہیں انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ماضی کے مسلم سائنسدانوں کی خدمات تو یاد رکھتے ہیں لیکن تحقیق کے میدان میں خود بہت پیچھے رہ گئے ہیں، اس لیے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خلا کو پُر کریں گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل ملے ہیں اور اگر ہم ٹیکنالوجی میں خودکفالت حاصل کریں تو ان وسائل سے حقیقی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تقریب کے دوران اعلان کیا کہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم تک رسائی دینے کے لیے جنڈ (اٹک) میں یو ای ٹی کا نیا کیمپس قائم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی لاہور سابقہ حکومت کے دور میں شدید مالی بحران کا شکار ہوئی تھی جسے موجودہ انتظامیہ نے اقدامات کے ذریعے مستحکم کیا۔
اس موقع پر گورنر پنجاب نے یو ای ٹی ٹیکسلا کے لیے مخصوص کوٹہ نشستوں میں اضافے کا اعلان بھی کیا ان کے مطابق صحافیوں کے بچوں کے لیے ایک اضافی نشست اور ٹیکسلا کے مقامی طلبہ کے لئے بھی ایک نئی نشست مختص کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ صحافیوں کے بچوں کے کوٹے میں اضافے کا مطالبہ چند روز قبل ٹیکسلا پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سید وسیم شاہ اور سابق وائس چیئرمین یونین کونسل عثمان کھٹڑ عبیدالرحمان سواتی نے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کے دوران کیا تھا، جسے گورنر پنجاب نے منظور کر لیا۔

