والدین اور بچوں کے درمیان عدم فہم کا بڑھتا ہوا فاصلہ

آج کا دور تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے جہاں ٹیکنالوجی، سماجی اقدار اور طرزِ زندگی میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں نے انسانی تعلقات کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ انہی متاثر ہونے والے رشتوں میں سب سے زیادہ حساس اور اہم رشتہ والدین اور بچوں کا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو محبت، اعتماد اور رہنمائی پر قائم ہوتا ہے، آج عدم فہم، خاموشی اور فاصلے کا شکار نظر آتا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان نہ صرف گھریلو ماحول کو متاثر کرتا ہے بلکہ بچوں کی شخصیت، ذہنی صحت اور سماجی رویّوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ماضی میں خاندانی نظام مضبوط تھا۔ والدین اور بچے ایک ہی چھت تلے زیادہ وقت گزارتے تھے، مشترکہ خاندانی نظام میں بزرگوں کی موجودگی رہنمائی اور تربیت کا ذریعہ بنتی تھی۔ بچوں کو اپنی بات کہنے کے لیے والدین تک آسان رسائی حاصل تھی اور والدین بچوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ تاہم جدید دور میں خاندانی ڈھانچے میں تبدیلی، نیوکلیئر فیملی سسٹم اور مصروف طرزِ زندگی نے والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیا ہے۔

والدین کی بڑھتی ہوئی مصروفیات اس فاصلہ پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ روزگار کی دوڑ، معاشی دباؤ اور سماجی ذمہ داریوں نے والدین کو جسمانی طور پر تو گھر میں رکھا ہے مگر ذہنی طور پر وہ اکثر اپنے بچوں سے دور ہوتے ہیں۔ ایسے میں بچے اپنی الجھنیں، سوالات اور جذبات والدین سے شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر اپنی بات باہر کے لوگوں یا سوشل میڈیا پر بیان کرنے لگتے ہیں۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی نے بھی والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسمارٹ فون، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ نے بچوں کی دنیا بدل دی ہے۔ والدین اکثر ان نئی تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں جبکہ بچے والدین کو قدامت پسند یا غیر متعلق سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی فرق سوچ، دلچسپیوں اور طرزِ اظہار میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے جو مؤثر بات چیت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

عدم فہم کی ایک اور بڑی وجہ والدین کا آمرانہ رویّہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب بھی یہ تصور موجود ہے کہ والدین کی بات حرفِ آخر ہے اور بچوں کو سوال کرنے یا اختلاف کی اجازت نہیں۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں بچے اپنی رائے دبانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور والدین سے گفتگو کو بے فائدہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جب بچے اپنی بات کہنے کا حوصلہ کھو دیتے ہیں تو خاموشی ایک مستقل رویّہ اختیار کر لیتی ہے۔

تعلیمی دباؤ بھی والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے۔ والدین اکثر اپنی ناتمام خواہشات بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں اور ان سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ نمبرز، گریڈز اور مقابلے کی فضا میں بچوں کی ذہنی کیفیت اور جذبات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں بچے خود کو سمجھا نہ جانے والا محسوس کرتے ہیں اور والدین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔

اس عدم رابطے کے نتائج نہایت تشویشناک ہیں۔ والدین سے بات نہ کرنے والے بچے ذہنی دباؤ، اضطراب اور کم اعتمادی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خاموشی بغاوت، منفی رویّوں یا غلط فیصلوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو یہی فاصلے نسلوں کے درمیان عدم ہم آہنگی کو جنم دیتے ہیں جس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔

یہ صورتحال اگرچہ سنگین ہے مگر ناقابلِ حل نہیں۔ سب سے پہلے والدین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بچے صرف احکامات سننے والے نہیں بلکہ احساسات اور خیالات رکھنے والی شخصیات ہیں۔ ان کی بات توجہ سے سننا، بغیر فوری فیصلہ کیے سمجھنے کی کوشش کرنا اور اعتماد پر مبنی ماحول قائم کرنا بے حد ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے لیے مخصوص کریں جہاں وہ موبائل فون اور دیگر مصروفیات سے ہٹ کر صرف بچوں سے بات کریں۔

بچوں کے لیے بھی یہ لازم ہے کہ وہ والدین کے تجربے، قربانیوں اور نیت کو سمجھیں۔ والدین کی سختی اکثر محبت اور تحفظ کے جذبے سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی نیت سے مکالمہ کریں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطے سے متعلق آگاہی پروگرامز متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگرامز، ڈرامے اور مضامین پیش کرے جو خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر بات چیت ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نے اس بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں تنہائی، بے اعتمادی اور ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سننے کی ثقافت کو فروغ دیں، مکالمے کو اہمیت دیں اور اپنے گھروں کو خاموشی کے بجائے مثبت گفتگو سے بھر دیں۔