میرا دیس میرا گاؤں اراضی پنڈ

تحصیل کلرسیداں میں واقع گاؤں اراضی پنڈ جسے مقامی طور پر اکثر پنڈ یا اراضی پنڈ بھی کہا جاتا ہے موضع اراضی خاص گاؤں کا حصہ ہے اور تاریخ پوٹھوہار کے ان مخصوص علاقوں میں شامل ہے جو خالصتاً عسکری اور قبائلی پس منظر رکھتے لفظ پنڈ سنسکرت کے لفظ پنڈا سے نکلا ہے جس کے معنی جسم یا اکٹھ کے ہیں تاریخی طور پر یہ ایک ایسی بستی کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں ایک ہی جدِ امجد کی اولاد یا ایک ہی قبیلے کے لوگ مل کر رہتے ہوں 1883ء کے ریکارڈ اور مقامی روایات کی روشنی میں اراضی پنڈ کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے

اراضی پنڈ دراصل سابق تحصیل کہوٹہ اور موجودہ تحصیل کلرسیداں کی یونین کونسل بشندوٹ کا ایک گاؤں ہے اس پنڈ کے قدیم بزرگوں کے خاندانوں کو سلطان مقرب خان کے دور میں یہ اراضی یعنی زمین ایک قطعے کے طور پر ملی تھی اور پنڈ کے قدیم خاندانوں کو سلطان مقرب خان نے یہاں لا کر آباد کیا تھا،

سلطان مقرب خان گھگڑ کا عہد 1740تا 1769 عیسوی تک کا ہے سلطان مقرب خان گھگڑ خاندان کے آخری طاقتور حکمران تھے مغل حکمرانوں اور کلیال بھٹیوں کی آپس میں چپقلش رہتی تھی پوٹھوہار کی سزمین سے گزرنے والے قافلے دلا بھٹی اور اسکے ساتھیوں کے نشانے پر رہتے مغلوں کے دور میں جب اکبر بادشاہ کی حکومت تھی اور دلا بھٹی کی مغلوں کیساتھ ان بن تھی تو اکبر بادشاہ نے اسی کشمکش میں دلا بھٹی کو گرفتار کرا کر لاہور میں پھانسی دے دی 27 اکتوبر 1605میں اکبر بادشاہ کی وفات کے بعد اسکے بیٹے جہانگیر نے کلیال بھٹیوں کے سرکردہ مزاحمتی سرداروں کو گرفتار کیا تاریخی روایات میں گرفتار سرداروں کی تعداد 54 بتائی جاتی ہے

جہانگیر نے مغل حکومت کو للکارنے کی پاداش میں ان بھٹی سرداروں کو موت کی سزا سنائی لیکن بعدازاں بزرگ شاہ حسین کی درخواست پر جہانگیر نے ان سرداروں کی پھانسی کی سزا کو معطل کر کے علاقہ بدری کے احکامات جاری کیے ساندل بار میں بھٹیوں کی آبائی زمینوں کے بدلے مختلف علاقوں میں جاگیریں دے کر ان بھٹی سرداروں کے خاندانوں کو آباد کیا گیا اس کا واضح تزکرہ اراضی خاص میں آباد کلیال بھٹی قبیلے کے شجرہ بابت ریکارڈ 1883/84 قانون گو دفتر راولپنڈی کے شجرے میں سلطان مقرب خان کے نام کیساتھ بھٹیوں کی آبادکاری کی واضح عبارت درج ہے،

سلطان مقرب خان نے نندنہ جٹال درکالی معموری درکالی شیر شاہی سلجور بشندوٹ سے کچہ کچہ ارضیات کاٹ کر نظر ترددو دیہہ رقبہ ہذا کو علحیدہ کیا اور انہی موضعات میں زمینداروں کو لاکر قابض و مالکانہ حقوق دیے گئییہ تحریر اس تاریخی روایات کو قانونی جواز فراہم کرتی ہے کہ کلیال بھٹی قبیلے سلطان مقرب خان کے دور 1740تا 1769 میں پنڈی بھٹیاں سوہاوہ اور جہلم کے علاقوں سے علاقہ بدر ہو کر گوجرخان اراضی خاص راولپنڈی کے گردونواح توپ کلیال میرپور آزاد کشمیر میں جا بسے کلیال بھٹیوں کا مرکز اراضی پنڈ بشندوٹ اور درکالی کے درمیان ایک تزویراتی مقام پر واقع ہے یہاں رائے واصل خان اور رائے اعظم خان المعروف عظمت خان کی اولاد آباد ہے زمینی بندوبستِ دوامی 1883 برطانوی ریکارڈ کے مطابق بشندوٹ کی اراضی چاہی کنوؤں والی اور بارانی دونوں اقسام پر مشتمل تھی

یہاں کے بھٹی راجپوتوں کو اعلیٰ درجے کا زمیندار تسلیم کیا گیا کیونکہ ان کا تعلق پنڈی بھٹیاں کے شاہی خاندان سے تھا۔ مقرب خان نے بشندوٹ اور اراضی پنڈ کے لیے کلیال بھٹیوں کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ کلر سیداں کی طرف سے آنے والے کسی بھی حملے کو روکا جا سکے،1883ء قانون گو دفتر کے ریکارڈ میں اراضی پنڈ اور بشندوٹ کے حوالے سے چند اہم باتیں درج ہیں یہاں نمبرداری کا نظام بہت قدیم ہے اور یہ عموماً رائے باقی خان اور ان کے قریبی عزیزوں کے خاندان میں رہی ہے شجرہ پارچہ یعنی اس دور کے نقشوں (مسادی) میں ان زمینوں کی حد بندیوں کا ذکر ہے جو رائے اعظم خان المعروف عظمت خان کے دور سے چلی آ رہی تھیں

ان دیہات کی زمینوں کو موروثی قرار دیا گیا، یعنی یہ وہ زمینیں تھیں جو نسل در نسل منتقل ہو رہی تھیں اور ان پر کوئی کرایہ یا لگان بطور مزارع نہیں تھا۔اراضی پنڈ کے بھٹیوں کو علاقے میں رائیاور سردار کے القابات سے پکارا جاتا تھا بعد ازاں چوہدری کا ٹائٹل استعمال کرنے لگے ان کا اثر و رسوخ صرف اپنی زمینوں تک محدود نہیں تھا بلکہ آس پاس کے دیہات میں ہونے والے فیصلوں اور جرگوں میں بھی ان کی رائے کو اولیت حاصل تھی اراضی پنڈ محض ایک گاؤں نہیں بلکہ یہ پنڈی بھٹیاں سے آنے والے ان جنگجو مہاجرین کی جرات کی علامت ہیں جنہوں نے سلطان مقرب خان کے دور میں اجنبی سرزمین پر قدم رکھا

اور اسے اپنی تلوار اور ہل سے اپنا وطن بنا لیا مذکورہ 1883ء کے ریکارڈ کی روشنی میں پنڈ کا مطلب محض گاؤں نہیں بلکہ ایک خود مختار معاشی اکائی تھا:جس بستی کے ساتھ پنڈ کا لفظ جڑا ہو وہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہاں کے رہنے والے اس زمین کے اصل مالک پنڈ واسی ہیں نہ کہ کرایہ دار یا مزارع۔تاریخی طور پر ایک پنڈ کی پہچان تین چیزوں سے ہوتی تھی جو اراضی پنڈ میں بھی موجود رہی ہیں سانجھی زمین (شاملات): پنڈ کے تمام مالکان جیسے کلیال بھٹی ایک مشترکہ زمین کے مالک تھے

جہاں مویشی چرائے جاتے تھے اور نظم نسق چلانے کیلیے باقاعدہ نمبرداری کا نظام رائج تھا بھٹی راجپوتوں کے لیے پنڈ صرف رہنے کی جگہ نہیں تھی بلکہ ان کی پت (عزت) کی علامت سمجھا جاتی تھی۔ جب کوئی خاندان پنڈی بھٹیاں جیسے بڑے مرکز سے ہجرت کر کے کسی چھوٹی جگہ کو پنڈ کا درجہ دیتا تھا، تو وہ دراصل وہاں اپنی ایک چھوٹی ریاست قائم کرتا تھا۔آج بھی جب کوئی شخص کہتا ہے کہ ”میرا پنڈ اراضی ہے تو وہ دراصل اپنے ان اسلاف رائے واصل، رائے اعظم اور رائے باقی خان کی وراثت اور اس اراضی ریکارڈ کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے جو ڈیڑھ سو سال پہلے مرتب کیا گیا تھا بزرگوں کے دور میں اراضی پنڈ کی قدیمی آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی

ڈاکٹر سچا نند، موہن لال، بخشی، حولدار سیتا رام جمیتا رام،پرمہشری دیوی ڈولو رام گلشن لال،کپل دیو بخشی اسکی بیوی نرملا بخشی دادا کا نام موہن لال بخشی بیلی رام جیسے ہندو گھرانوں کے سربراہان کا گاؤں پنڈ میں بسیرا ہندو مسلم دو ثقافتوں کا آئینہ دار تھا گاؤں پنڈ کے رہائشی ڈاکٹر سچا نند کا نام ظاہر کرتا ہے کہ اراضی پنڈ اس دور میں اتنا ترقی یافتہ تھا کہ وہاں صحت کی سہولیات موجود تھیں ہندو ڈاکٹر و مالک وید یا حکیم پورے علاقے میں معزز مانے جاتے تھے کلیال بھٹی بطورِ مالکان و سردار ان ہندو خاندانوں کی جان و مال کے محافظ تصور کیے جاتے تھے جہاں بھٹی سرداروں کے پاس زمینیں اور گھوڑے تھے،

وہیں ان ہندو خاندانوں کے پاس دکانیں، ادویات اور حساب کتاب کا علم تھا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے شیوا مندر اور ہندو محلہ اراضی پنڈ کا شیوا مندر غالباً انہی متمول امیر ہندو خاندانوں نے تعمیر کروایا تھا۔ڈاکٹر سچا نند اور بخشی خاندان جیسے لوگ مندر کی دیکھ بھال اور مذہبی تقریبات کے اخراجات اٹھاتے تھے بزرگوں کی زبانی روایت ہے کہ گاؤں پنڈ میں جب مسلمانوں کے ہاں کوئی خوشی ہوتی تھی تو یہ ہندو خاندان تحائف لے کر آتے تھیاور ہندوؤں کے تہواروں پر مسلمان سردار ان کی حفاظت اور خوشی کا خیال رکھتے تھے اور انکے دکھ سکھ میں برابر شریک ہوتے۔

ساجد محمود


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.