مندرہ گرلز کالج11برس بعد بھی فعال نہ ہو سکا

دنیا بھر میں حکمران طبقے کی لوٹ مار کوئی نئی بات نہیں.دلوں میں ہوس زر کے دہکتے آلاؤ روشن کیے یہ لوگ اقتدار کی چوکھٹ پر پیشانیاں رگڑرگڑ کر لہولہان کرنے والے ہر ملک اور ہرخطے میں موجود ہوتے ہیں لیکن ہمارے یہاں کے حکمران دنیا بھر کے حکمرانوں سے الگ مخلوق ہیں ابلاغ کے ذرائع محدود تھے تو ان کے کالے کارناموں کی کہانیاں زیادہ عام نہیں ہوتی تھیں

لیکن جب سے ان ذرائع میں کیمروں اور دیگر الیکڑانک الات کا دخل ہوا ہے ان کی سرگوشیاں بھی سنائی دیتی ہیں۔سیاست دان تو اپنے ملک اور قوم کا چہرہ ہوتے ہیں لیکن ہمارا چہرہ اس قدر بھیانک ہے کہ خود ہمیں ا سے گھِن آتی ہے کہتے ہیں فرد کی ذہنی تربیت اور تہذیب وتمدن کا فروغ تعلیم سے ہوتا ہے کسی بھی قوم اور ملک کی تعلیم کا میعار ہی اس ملک کی سیاست اور سیاست دانوں کے ذہنی رجحان ان کی سوچ اور فکر کی عکاس ہوتی ہے ہماری سیاسی برادری کے لیے تعلیم کبھی بھی ترجیح نہیں رہی زندگی کا بہاو تیز اور وقت کی رفتار تیز تر ہے وقت کا ساتھ نبھانا مشکل سہی

لیکن ہم تو اپنی صیح سمیت کا تعین ہی نہیں کرسکے۔اگر ہمارے رہبر و رہنماء اس قوم سے اور ملک کے مستقبل سے مخلص ہوتے تو آج ملک مکمل طور پر خواندہ ہوتا لیکن یہاں تو سوچ یہ رہی کہ لوٹ مار کرو اور اس لوٹ مار سے اپنے بچے امریکہ برطانیہ میں پڑھا لو جبکہ قوم کے بچوں کو ان پڑھ رکھنے کے لیے پورا زور لگا دو۔

اول تو ان کو اسکول کی عمارتیں ہی میسر نہ ہوں اگر کہیں بناو تو فنگشنل نہ ہونے دو۔پورے ملک میں اسکولز کی عمارتیں یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یا بننے کے بعد انہیں فعال نہیں کیا گیا جس کی ایک بڑی مثال جی روڑ پر مندرہ کے قریب کونتریلہ کے مقام پر گرلز کالج کی عمارت ہے جو گذشتہ دس بارہ برسوں سے اپنی تعمیر مکمل ہونے کے بعد فنگشنل ہونے کی امید لیے خستہ حالی کا شکار ہورہی ہے دس گیارہ برسوں کی حکمرانی پر نظر دوڑائیں تو اس کالج کو فنگشنل کرنے میں کوتاہی کی ذمہ داری اول مسلم لیگ پھر پی ٹی آئی پی ڈی ایم اور پھر مسلم لیگ پر عائد ہوتی ہے

قوم کے ٹیکسوں سے اربوں روپے خرچ کرکے اس عمارت کو مکمل کیا گیا جو فعال نہ کیے جانے کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ بلاآخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی۔ ان گیارہ برسوں میں اس حلقہ سے کامیاب ہونے والے ایم پی اے صاحبان بھی اس کالج کی غیر فعالیت کے گناہ میں برابر کے شریک ہیں جو اسمبلی کے فلور پر اس کے لیے آواز نہ اُٹھا سکے اگر یہ کالج فنگشنل ہوجائے تو روات کلر سیداں مندرہ کی بچیاں جو طویل سفر کرکے گوجرخان کالج جاتی ہیں انہیں بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

لیکن اس کے لیے قومی سوچ کی ضرورت ہے جو ہمارے سیاست دانوں میں سرے نہیں ہمارے سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کا وقت بڑامختصر ہے کوشش کریں کہ وقت کو مثبت کاموں میں صرف کریں عمر رواں ایسے گذاریں کہ۔پیچھے مڑ کر دیکھیں تو کوئی پچھتاوا یا پشمانی دامن گیر نہ ہو اپنے حصے کی شمع کو بے قیمت نہ جانیں کہ سیاہ رات میں اندھیروں کو شکست دینے کے لیے اجالے کی ایک کرن بھی کافی ہوتی ہے مسند نشین یا ان کے جانشین جو بھی اس کار خیر کو سرانجام دے گا وہ مسیحا کہلائے گا۔وہ ان بچیوں کی لیے فرشتے کا روپ ہوگا جو بچیاں دور دراز جانے کے بجائے اس کالج میں پڑھ سکیں گی۔مسلم لیگ کی حکومت سوچے کہ کچھ غلط کرکے پچھتاوا ہونا ایسا کچھ غلط نہیں ہوتا مگر کچھ اچھا کرکے پچھتائے یہ بہتر نہیں۔

کالج کی عمارت بنائی بہت اچھا کیا اب اگر وہ عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کھنڈر بنتی ہے تو پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں حلقہ نو سے منتخب ایم پی اے شوکت بھٹی اور سات سے راجہ صغیر پنجاب اسمبلی میں اس کالج کو فنگشنل کروانے کے لیے ملکر ایک توانا آواز بن سکتے ہیں۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

طالب حسین آرائیں