معصوم بچے حبیب اللہ نے پولیس چوکی قاضیاں کے خلاف فریاد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ان کے والد کو بے گناہ حراست میں لے رکھا ہے۔ بچے کے مطابق محلے میں بچوں کے درمیان معمولی جھگڑے کی درخواست دی گئی تھی، جس پر فریقین کے درمیان راضی نامہ بھی ہو چکا ہے اور مخالف پارٹی اپنے گھر واپس چلی گئی ہے حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے ان سے پچاس ہزار روپے مانگے، جو نہ دینے پر پندرہ ہزار روپے کا تقاضا کیا گیا، تاہم مالی وسائل نہ ہونے کے باعث رقم نہ دے سکے۔ بچے نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کو محض رشوت نہ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔ہم رات آٹھ بجے پولیس چوکی قاضیاں آئے تھے اور اب رات تین بج چکے ہیں مگر پولیس نے میرے والد کو صرف پیسوں کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ہم نے 15 پر کال بھی کی ہے بچے نے بتایا حبیب اللہ اور ان کے اہلخانہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اہم خبریں
14اگست کو پاکستان اپنی عسکری طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کا شاندار مظاہر ہ کرے گا ،ڈی جی آئی ایس پی آر
شنا ختی کا رڈ او ردیگر بنیادی خدمات کا حصول مزید آسان نادرا نے اے ٹی ایم طر ز کی مشین متعارف کر وادی
**راولپنڈی: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا، شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت**
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل اہم دورے پر سعودی عرب روانہ
آئی ایم ایف مخصوص اوقات میں سستی بجلی کی اجازت نہیں دے رہا، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری
جموں 6 تحریک شاد باد کا عبدالخطیب چودھری کی حمایت کا اعلان
قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک،عدالت کا شہری کو پیش ہونے کا حکم
چارسدہ کا بہادر سپوت وطن کی حرمت پر قربان
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کیپٹن(ر) ندیم ناصر کا دورہء کلرسیداں
اسلام آباد میں غیرملکی وفود کی آمد کے موقع پر ڈیوٹی سے غائب پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت ایکشن، 2 اے ایس آئی سمیت 12 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔