
یوں تو ہم مسلمان ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں اور دیگر فرائض و واجبات کی ادائیگی میں بھی کوشاں رہتے ہیں، مگر جب رمضان المبارک آتا ہے تو ہمارے اجتماعی رویّوں کا ایک مختلف اور افسوسناک رخ سامنے آتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو صبر، تقویٰ، ہمدردی اور ایثار کا درس دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے ایک عجیب روایت پروان چڑھ چکی ہے کہ جوں ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء کو گویا پر لگ جاتے ہیں۔
پاکستان میں رمضان کے دوران مہنگائی کی شدت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور گوشت جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں عام دنوں کی نسبت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ غربت کی چکی میں پستا وہ شخص، جو دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہے، جب افطار کی تیاری کے لیے بازار کا رخ کرتا ہے تو فروٹ اور سبزیوں کے نرخ سن کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ وہ اکثر ویسے ہی خالی ہاتھ واپس لوٹ آتا ہے جیسے خالی ہاتھ گھر سے نکلا تھا۔ہم اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ایک اور مسلمان بھائی آکر ان کو جرمانہ کرے گا اور جب جرمانہ ہو جاتا ہے تو اس جرمانے کی ادائیگی کے لیے دی جانے والی رقم سود سمیت گاہکوں سے وصول کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کی بنیاد اخوت اور مساوات پر رکھی گئی تھی؟ رمضان تو وہ مہینہ ہے جس میں صاحبِ حیثیت افراد کو زیادہ سے زیادہ سخاوت کرنی چاہیے، لیکن یہاں بعض عناصر اس بابرکت مہینے کو زیادہ منافع کمانے کے موقع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنا ایک منظم روش اختیار کر چکی ہے، جس کا خمیازہ صرف اور صرف عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔یہ رویہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ہمارے دینی شعور پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ روزہ ہمیں دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس دلاتا ہے، تاکہ ہم ان کی مدد کریں۔ اگر ہم خود ہی اپنے مسلمان بھائیوں کا استحصال کرنے لگیں تو پھر عبادات کی روح کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ صرف ظاہری عبادات کافی نہیں ہوتیں، جب تک ہمارے معاملات اور کاروبار میں دیانت داری شامل نہ ہو۔اس کا حل صرف حکومت یا انتظامیہ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔اس مسئلے میں ہمارا اجتماعی رویّہ بھی شامل ہے۔
جوں ہی رمضان قریب آتا ہے، ہم میں سے بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ خریداری شروع کر دیتے ہیں۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، مشروبات اور دیگر اشیائے ضروریہ بڑی مقدار میں ذخیرہ کر لی جاتی ہیں، حالانکہ ان کی فوری ضرورت نہیں ہوتی۔ اس عمل کو معاشی اصطلاح میں طلب میں غیر معمولی اضافہ کہا جاتا ہے۔ جب طلب اچانک بڑھ جاتی ہے تو مارکیٹ میں اشیاء کی قلت محسوس ہونے لگتی ہے، چاہے حقیقت میں پیداوار یا رسد میں کمی نہ بھی ہو۔یہی وہ موقع ہوتا ہے جس سے بعض تاجر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، بعض اوقات مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس کا شکار آخرکار ہم خود ہی بنتے ہیں۔ یعنی ایک طرف ہم ذخیرہ اندوزی کر کے قلت پیدا کرتے ہیں اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی قیمتوں کا شکوہ بھی کرتے ہیں۔
رمضان المبارک تو اعتدال اور سادگی کا مہینہ ہے۔ ہمیں اس مہینے میں اسراف سے بچنے اور ضرورت کے مطابق خریداری کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر ہر گھرانہ صرف اپنی حقیقی ضرورت کے مطابق سامان خریدے تو مارکیٹ میں مصنوعی دباؤ پیدا نہیں ہوگا، قیمتیں مستحکم رہیں گی اور تاجر بھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔لہٰذا یہ مسئلہ صرف انتظامیہ یا تاجروں کا نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا بھی ہے۔ جب تک ہم اپنی عادات اور رویّوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک مہنگائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے۔رمضان المبارک ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر احتساب پیدا کریں۔ اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو ہمیں اپنے اعمال، معاملات اور رویّوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔