پاکستانی سیاست کا ایک المیہ کہ اس میں بہت کم سیاستدان ایسے جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں کیونکہ ہمارا سیاسی کلچر ایسا ہے کہ بہت کم پڑھے لکھے لوگ سیاست میں آتے ہیں جو گنے چنے چند ایک ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں
ان میں سے ایک سیاسی شخصیت کا تعلق راولپنڈی سے ہے جی ہاں وہ سیاسی شخصیت انجینئر قمرالاسلام راجہ کی ہے جنھوں نے ایک متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے سیاسی میدان میں اپنا لوہا منوایا اور ایک منفرد مقام حاصل کیا یہ ضلع راولپنڈی کے گاوں بھکڑال کلرسیداں میں نوشیروان کے گھر پیدا ہوئے
انکے ایک چھوٹے بھائی میجر(ر) طارق ہیں جنھوں نے فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی جنکا انکی سیاست میں اہم کردار رہا ہے اور وہ انکو ہر جگہ سپورٹ کرتے نظر آتے ہیں انکا خاندان روایتی طور پر کوئی سیاسی خاندان نہیں ہے بلکہ چار نسلوں سے ان کے خاندان کے افراد سرکاری نوکریوں بالخصوص فوج، پولیس اور تعلیم جیسے شعبہ سے وابستہ ہیں
ان کے والد ملٹری اکاؤنٹس کے محکمے میں ہیڈ کلرک تھے اور والدہ سرکاری سکول کی معلمہ تھیں والد کا انتقال اس وقت ہوا جب انکی عمر صرف چھ برس تھی والد کی وفات کے بعد ان کے دادا نے انکی پرورش کی جو انکو گاؤں سے شہر لے آئے اور راولپنڈی کے ایک بڑے پرائیوٹ ادارے سینٹ میریز سکول میں داخلہ کروایا
میٹرک سینٹ میریز سکول سے کرنے کے بعد انھوں نے ایف ایس سی راولپنڈی کے گارڈن کالج سے کی جہاں انھوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی جس کے بعد انھوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے پانچ سالہ سول انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی مگر انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران ہی انھوں نے اسکے ساتھ ساتھ تاریخ، سیاسیات اور فارسی مضامین میں پنجاب یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔
جس کے بعد انھوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی اور ایم فل کیا اور پھر بعد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی انجینئر قمر اسلام راجہ نے مختلف مقابلوں کے امتحانات میں بھی حصہ لیا اور سول سروس کا امتحان پاس کیا جس کے بعد کچھ اہم عہدوں پر فائز رہے انجینئر قمر اسلام راجہ کا شمار نیب جیسے ادارے کے قیام کے دنوں کا ہوتا ہے
جب اس ملک میں احتساب کا عمل شروع ہوا اور نیب بطور ادارہ متحرک ہوا تو انھوں نے چار سال تک بطور پرنسپل سٹاف آفسر برائے چیف احتساب کمشنر آف پاکستان کے عہدے پر قائم رہے جس کے بعد وہ اس عہدے سے مستعفی ہوئے اور باقاعدہ عملی طور پر سیاست میں قدم رکھا
انھوں نے اپنی سیاسی کمپین کا آغاز 2007 میں کیا اور مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے بطور ایم پی اے 2008 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اس وقت جب وفاق میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو واضع برتری حاصل ہوئی تب راولپنڈی میں واحد ایم پی اے کی سیٹ ق لیگ کو ملی
اور وہ انجنیئر قمر اسلام راجہ کی تھی اس کے بعد انھوں نے فروری 2009 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے حالانکہ اس وقت کی ڈوگر کورٹ نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تھا اور پنجاب میں میاں شہباز شریف کی حکومت برخاست ہونے کے بعد گورنر راج نافذ کر دیا تھا مگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے اسکے بعد 2013 کے عام انتخابات میں انھوں نے بطور ایم پی اے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور دوسری مرتبہ بطور ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
مسلم لیگ ن نے انکو انکی تعلیمی قابلیت کے سبب بہت عزت دی اور یہی وجہ تھی کہ 2013 میں انتخابات کے بعد جب انکی وفاق اور پنجاب دونوں جگہوں پر حکومت بنی تو اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے چائنہ کا دورہ کیا جس میں سی پیک کی بنیاد رکھی گئی اس دورے میں جو وفد وزیر اعظم کے ہمراہ
چین گیا ان میں ایک نام قمرالاسلام راجہ کا تھا ۔
پنجاب میں مسلم لیگ ن نے انکو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چئیرمین کی ذمہ داری دی جس پر انھوں نے کافی محنت کی اور اپنی تعلیمی قابلیت کے سبب اس ادارے کو بہت بہتر کیا جسکی مثال غیر ملکی جریدوں نے بھی دی اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی کارکردگی پر فیچر شائع کیے اسی عرصے کے دوران انکو پنجاب صاف پانی کمپنی اور پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے چئیرمین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کی سربراہی کے ساتھ ساتھ وزیراعلی پنجاب سپیشل سیل کی چیئرمین شپ بھی دی گئی ۔
یہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین کے طور پر بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے 2018 کے عام انتخابات میں جب مسلم لیگ ن کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار علی خان نے ان سے راہیں جدا کی تو اس وقت انجینئر قمر اسلام راجہ نے جو اس سے قبل دو دفعہ ایم پی اے رہے انھوں نے پارٹی سے مشاورت کے بعد ایم این اے کے لیے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد پارٹی نے انکو ٹکٹ بھی دیا اور وہ بیک وقت دو سیٹوں پر الیکشن لڑے ایک حلقہ این اے 59 سے بطور ایم این اے اور دوسرا حلقہ پی پی 10 سے بطور ایم پی اے کے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر امیدوار تھے۔
مگر انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل انکو نیب نے صاف پانی کیس میں گرفتار کر لیا جس کے بحث انکی الیکشن کمپین ادھوری رہی مگر انکی گرفتاری کے بعد انکے دس سالہ بیٹے سالار اسلام راجہ اور بیٹی اسوہ اسلام نے اپنے والد کی الیکشن کمپین چلائی جس پر مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ سمیت پاکستان کے دیگر حلقوں نے بھی بڑا سراہا مگر ان انتخابات میں انکو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ انتخابات کے چند ماہ بعد جیل سے باہر ضمانت پر آئے اور بعد میں عدالت سے اس کیس میں باعزت بری بھی ہوئے اب جب 2022 میں پنجاب میں مسلم لیگ ن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سردار عثمان بزدار کے خلاف تحریک اعتماد لائی جس کے بعد وہ مستعفی بھی ہوگئے تو بعد میں جب وزیراعلی کے امیدوار حمزہ شہباز شریف وزیراعلی پنجاب منتخب ہوئے تو انکو ایک بار پھر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا چیئرمین لگایا مگر حکومتی تبدیلی کے سبب یہ اس عہدے پر صرف کچھ وقت ہی رہ سکے۔
انجینئر قمر اسلام راجہ کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں بڑی بیٹی اسوی اسلام جبکہ بیٹا سالار اسلام راجہ ہے جو اپنے والد کی طرح تعلیمی میدان میں نمایاں پوزیشنز لیتے آرہے ہیں انجینئر قمر اسلام راجہ اس وقت مسلم لیگ ن پنجاب کے نائب صدر ہے اور مسلم لیگ ن کی مرکزی لیڈر شپ کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں جیل سے رہائی کے بعد عوامی رابطہ مہم میں تیزی دکھائی
جس کے بحث مسلم لیگ ن کو اپنے حلقے میں دوبارہ متحرک کرنے اور لیگی ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں انکی روز مرہ کی روٹین ہے کہ وہ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور گھر پر آئے لوگوں سے ملتے ہیں یا پھر اپنے حلقے میں لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں
انکے حوالے سے ایک بات مشہور ہے کہ انھوں نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں بھی اپنے ووٹرز سے رابطہ منقطع نہیں کیا بلکہ ہر اتوار کو اپنے آفس آتے اور پورا دن بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سنتے تھے انکے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ سٹیج پر بیٹھنے کے شوقین نہیں ہیں بلکہ عام عوام میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں انجینئر قمر اسلام راجہ سے انکے ووٹرز کی رسائی انتہائی آسان ہے یہ اپنے ووٹرز سے ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں
انتہائی سادہ مزاج طبیعت کے آدمی ہے اور ہر کسی سے خود رابطے میں رہتے اور انکا کہنا ہوتا کہ میرا کوئی بھی پی اے یعنی پرسنل سیکرٹری نہیں ہے جس نے بھی رابطہ کرنا وہ مجھ سے ڈائریکٹ میرے نمبر پر کرے اور انکا نمبر انکے ہر ووٹر کے پاس بھی موجود ہے