
قلم کار کی زندگی محض الفاظ کا ہیر پھیر نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری جدوجہد کا نام ہے۔ وہ سماج میں جنم لینے والے مسائل کو محض دیکھتا ہی نہیں بلکہ انہیں محسوس کرتا ہے، ان کے پس منظر تک جاتا ہے اور پھر ذمہ داری کے ساتھ انہیں لفظوں کا جامہ پہناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک سچا قلم کار کبھی وقتی مفاد، ذاتی پسند یا کسی خاص طبقے کی خوشنودی کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔ اس کے نزدیک اصل مقصد حق کا اظہار اور سماج کی درست سمت میں رہنمائی ہوتا ہے۔
قلم کار کا رشتہ سماج کے ہر طبقے سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ امیر کی آسائشوں اور غریب کی محرومیوں دونوں کو یکساں شدت سے محسوس کرتا ہے۔
اس کی تحریر میں کہیں مزدور کے پسینے کی خوشبو ہوتی ہے تو کہیں کسان کے کھیتوں کی مٹی کی مہک۔ وہ یتیم کی آہ، بیوہ کی خاموش سسکی اور مظلوم کی بے بسی کو بھی اپنی تحریر کا حصہ بناتا ہے۔ یہی ہمہ گیری اسے عام فرد سے ممتاز بناتی ہے۔
سماج میں بگاڑ پیدا ہو تو سب سے پہلے قلم کار کا ضمیر بے چین ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے سچ کہنا چھوڑ دیا تو اندھیرا گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ قلم نے جبر، استحصال اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ کبھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، کبھی معاشی مشکلات کا سامنا کیا، مگر قلم کی حرمت پر سمجھوتہ نہ کیا۔
قلم کار کی زندگی میں تنہائی ایک مستقل ساتھی کی مانند ہوتی ہے۔ وہ ہجوم میں بھی اکیلا ہوتا ہے کیونکہ اس کی سوچ عام دھارے سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے، سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی بات بعض اوقات اسے ناپسندیدہ بھی بنا دیتی ہے۔ مگر ایک سچا قلم کار تنقید سے گھبراتا نہیں بلکہ اسے اپنے فکری سفر کا حصہ سمجھتا ہے۔
عصرِ حاضر میں جب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اظہارِ رائے کو آسان بنا دیا ہے، قلم کار کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اب ہر تحریر لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے ایک معمولی سی لغزش بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے میں ذمہ دار قلم کار وہی ہے جو تحقیق، توازن اور شائستگی کو اپنی تحریر کا لازمی جزو بنائے۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں قلم کا غلط استعمال بھی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ذاتی مفادات، گروہی وابستگی، سنسنی خیزی اور جھوٹی شہرت کے حصول نے بعض تحریروں کو مقصدیت سے محروم کر دیا ہے۔ ایسی تحریریں سماج کو جوڑنے کے بجائے مزید تقسیم کا شکار بنا دیتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک باکردار قلم کار کی پہچان واضح ہوتی ہے، جو ہر حال میں سچ کا دامن تھامے رکھتا ہے۔
قلم کار کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ تعمیری پہلوؤں کی نشاندہی بھی ہے۔ وہ صرف زخم نہیں دکھاتا بلکہ مرہم رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ اندھیروں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کی سمت بھی بتاتا ہے۔ اسی تعمیری سوچ کے باعث اس کی تحریر قاری کے دل میں امید جگاتی ہے اور مایوسی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی قلم کار کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس کی تحریریں نوجوان نسل کی فکری آبیاری کرتی ہیں۔ ایک اچھا مضمون، کالم یا کتاب کسی نوجوان کی سوچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قوموں کی تعمیر میں اساتذہ اور اہلِ قلم کا کردار بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
قلم کار کو اپنی تہذیبی، دینی اور قومی اقدار سے جڑا رہنا چاہیے۔ مغربی اثرات یا وقتی رجحانات کے زیرِ اثر اپنی شناخت کھو دینا قلم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک باشعور قلم کار وہی ہے جو جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے بھی اپنی روایات اور اقدار کا تحفظ کرے اور انہیں مثبت انداز میں پیش کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قلم کار کی خدمات کا صلہ اکثر فوری نہیں ملتا۔ بعض اوقات اس کی تحریریں برسوں بعد اپنی اثر پذیری دکھاتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ بہت سے اہلِ قلم کو ان کی زندگی میں نظرانداز کیا گیا مگر بعد میں انہی کے افکار نے قوموں کی سمت متعین کی۔
قلم کار کی زندگی صبر، استقامت اور قربانی سے عبارت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا قلم اگر دیانت دار رہا تو شاید وقتی مشکلات بڑھ جائیں، مگر اس کی تحریر زندہ رہے گی۔ یہی دوام ہی دراصل قلم کار کی اصل کامیابی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قلم کار سماج کا محض مشاہد نہیں بلکہ معمار بھی ہوتا ہے۔ وہ لفظوں سے سوچ بناتا ہے، سوچ سے شعور اور شعور سے تبدیلی کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ اسی لیے تعمیرِ معاشرہ میں قلم کار کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر قلم بیدار ہو تو قوم بیدار ہوتی ہے، اور اگر قلم سو جائے تو سماج جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.