اردو اور پوٹھوہاری زبان کے شاعر،محقق، صحافی، کالم نگاراور پوٹھوہاری ادبی بیٹھک راولپنڈی کے بانی و چیئرمین فیصل عرفان 20دسمبر1982کو تحصیل گوجر خان کے ایک گاؤں بھنگالی گوجر میں خادم عرفان چوہان(م:26جون2009ء) کے گھرپیدا ہوئے،کل پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں آپکا نمبرچھٹا ہے،بھائیوں کے نام بالترتیب عباس خان چوہان،اسحق خان چوہان،سجاد عرفان چوہان،اعجاز خان چوہان ہیں۔

بھنگالی گوجر مندرہ چکوال روڈ پر مندرہ سے 19کلومیٹر مسافت پر بر لب سڑک واقع ہے،فیصل عرفان نے ابتدائی تعلیم کا آغاز گورنمنٹ مڈل سکول بھنگالی گوجر سے کیا،پہلی سے لیکر آٹھویں تک ہر جماعت میں اول آتے رہے،1998ء میں آٹھویں میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحان میں 767نمبر لیکر تحصیل گوجر خان میں ٹاپ کیا اور سرکاری وظیفہ کے حق دار قرار پائے،نویں جماعت میں گورنمنٹ ہائی سکول جاتلی میں داخلہ لیا،2000ء میں میٹرک (سائنس مضامین)582نمبر لیکر پاس کیا،
مڈل سکول کے اساتذہ میں ہیڈ ماسٹر راجہ غلام فریدمرحوم (مرادی)، راجہ محمد رفیق(مرادی)،قاضی شفیق الرحمن (بھنگالی کھینگر) اور ماسٹر عبدالمجید(بھنگالی گوجر) اور میٹرک میں ماسٹر ظفر (جاتلی)، ماسٹر شبیر(ڈھوک وہاب) اور ماسٹر آزادسے بہت زیادہ قربت رہی۔ ایف اے(جنرل سائنس) کا امتحان پرائیویٹ امیدوار کے طور پر 2003ء میں 571نمبر لیکر پاس کیا، 2006ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آبادسے بی اے اور 2009میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ہی ایم ایس سی ماس کمیونی کیشن(ابلاغ عامہ) کا امتحان پاس کیا۔
مشق سخن 1998ء میں ہی شروع ہوگئی تھی،مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر راجہ غلام فرید مرحوم کو کچی پکی شاعری سناتے رہتے تھے،پہلا مضمون”وطن کی خوشبو“کے عنوان سے 1999میں جب میٹرک کے طالبعلم تھے اس وقت گوجر خان سے شائع ہونے والے بچوں کے ایک رسالے ”ماہنامہ شاہین کائنات“میں شائع ہوا،اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز 2004میں اور پوٹھوہاری شاعری 2009ء کے لگ بھگ شروع کی،لیکن دونوں زبانو ں میں مستقل مزاجی سے شاعری نہیں کی۔
پوٹھوہاری شاعری میں باقاعدہ استاد تو کوئی نہیں البتہ حسن نواز شاہ،ذہین احمد، یاسر محمود کیانی،جنید غنی راجا اور راقم الحروف شکور احسن سے مشاورت کر لیتے ہیں،قریبی ادبی دوستوں میں حسن نواز شاہ اور راقم الحروف شکور احسن شامل ہیں۔پوٹھوہاری شاعری میں غزل اور نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور پسندیدہ پوٹھوہاری صنف نظم ہے۔،2010سے باضابطہ طور پر شعبہ صحافت سے منسلک ہوئے اور آجکل ایک قومی اخبارکے شعبہ نیوز میں بطور سب ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔
اکتوبر2014ء میں محمد یعقوب ساجد چوہان (جھنگی پھیرو/گوجر خان)کی صاحبزادی کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے،تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن کے نام حسب ذیل ہیں:
عائشہ بتول(پ:15ستمبر2015ء)
مریم بتول(پ:یکم مارچ2017ء)
علی موسیٰ چوہان(پ:24جولائی2018ء)
عنایا بتول(پ:30نومبر2020ء)
مطبوعہ کتب
پوٹھوہاری ضرب الامثال کی کتاب ”پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے“(مع اردو ترجمہ وتوضیحات)، جولائی 2019
پوٹھوہاری پہیلیوں کا پہلا انتخاب”پرجہھات مہھاڑی انّھیں“،دسمبر 2021
شادی بیاہ کے پوٹھوہاری لوک گیتوں کی کتاب”ہوشے“ دسمبر 2023
پوٹھوہاری لوریوں کا
اولین انتخاب:”چہھوٹے لارے“۔دسمبر2024
پوٹھوہاری ادب(قدیم جہتیں:جدید زاویے)۔دسمبر2025
زیر طبع کتب
1: ”دو اَم پکے دو نار“(پوٹھوہاری سِٹھنیاں)
2: ”زرسانگہ(پوٹھوہاری ناول)
3: ”بِتھ“(پوٹھوہاری نظموں کا مجموعہ)
4: تاریخ بھنگالی گوجر
5:”گوجرخان (شخصیات، مقامات ، واقعات،سوغاتیں)“
پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان راولپنڈی پر بطورشاعرادیب شرکت
1:چار جنوری2010ء بروز سوموار،رات ساڑھے دس بجے پی ٹی وی پرنوجوان شعراء کا ”نذر بے نظیر“خصوصی مشاعرہ ٹیلی کاسٹ ہوا،اس میں بطور شاعر شرکت کی اور اپنی نظم”کیسے نوحہ لکھوں“ سنائی۔
2:پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر سے 02فروری2010کو ٹیلی کاسٹ ہونیوالے پوٹھوہاری پروگرام”تہھرتی نیں تارے“میں بطور شاعر شریک ہوئے۔
3:ریڈیو پاکستان کے پوٹھوہاری ادبی پروگرام”سخن مشالاں“میں ایک بار سید آل عمران کیساتھ بطورشاعراور متعددبار عابد جنجوعہ کیساتھ بطور مہمان انٹرویو نشر ہوا۔
اردو اور پوٹھوہاری کلام جہاں جہاں شائع ہوتا رہاماہنامہ نیرنگ ِخیال راولپنڈی،سہ ماہی فراست بہاولپور،سہ ماہی ادبیات اسلام آباد،تجدیدِنولاہور،سہ ماہی ”پُرا“راولپنڈی،سہ ماہی ”پوٹھوہاری“ گوجر خان، قومی اخبارات کے رسائل وجرائدمیں کلام شائع ہوتا رہا ہے۔فیصل عرفان بلا شک وشبہ اس وقت خطہ پوٹھوہار کی ایک توانا آواز بن چکے ہیں، پوٹھوہاری زبان و ادب کیلئے ان کے تحقیقی کام کو ملک بھر کے علمی،ادبی اور تحقیقی حلقوں میں ستائش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،انکی مرتب کردہ پانچوں کتب پوٹھوہاری زبان کو انفرادی حیثیت دلانے کیلئے ایک مضبوط مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہیں،اگر یہ کہا جائے کہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر پوٹھوہاری زبان وادب کا مقدمہ پیش کرنے والوں میں فیصل عرفان کا نام سر فہرست ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔میں امید کرتا ہوں کہ نئی نسل کے پوٹھوہاری شعرا اور ادیب انکی پیروی کرتے ہوئے ماں بولی پوٹھوہاری کیلئے کچھ نیا کرنے کی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
شکور احسن
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.