فیصلوں پر قائم رہنا کیوں مشکل ہو گیا ہے؟

فیصلے انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہم روزانہ چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں، خواہ وہ کیریئر کے انتخاب ہوں، تعلیمی راستے ہوں، رشتے ہوں یا زندگی کے دیگر معاملات۔ ماضی میں فیصلے کرنا اور ان پر قائم رہنا ایک نسبتا آسان عمل سمجھا جاتا تھا۔ خاندان، معاشرت اور معاشی حالات نسبتاً مستحکم تھے اور لوگوں کو ایک لمبے وقت کے لیے کسی راستے پر قائم رہنے میں مدد ملتی تھی۔ مگر آج کا دور بالکل مختلف ہے۔ آج کے انسان کے سامنے مواقع کی بہتات ہے، ہر انتخاب کا متبادل موجود ہے، اور ہر فیصلے کی قیمت فوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر قائم رہنا بھی مشکل بنا دیتی ہے۔

یہ کہنا کہ صرف نوجوان آج فیصلوں پر قائم نہیں رہتے، حقیقت کے مطابق نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بدلتے حالات، سماجی دباؤ اور زندگی کی غیر یقینی صورتحال نے ہر عمر کے افراد کے لیے وابستگی اور مستقل مزاجی کو مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ نوجوان اس لیے زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ زندگی کے اہم موڑ پر ہوتے ہیں جہاں چھوٹے یا بڑے فیصلے ان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں کیریئر، تعلیم، ازدواجی رشتے اور ذاتی ترقی کے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ ان میں زیادہ واضح نظر آتا ہے۔

آج کا معاشرہ انتخاب اور آزادی کی اہمیت پر بہت زور دیتا ہے۔ ہر وقت یہ احساس دیا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ہر چیز کا بہتر متبادل موجود ہے۔ اگر کوئی رشتہ، نوکری یا موقع آپ کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو اسے بدل دینا جائز اور آسان سمجھا جاتا ہے۔ اس مسلسل بدلتے ماحول میں انسان کی عادت بنتی ہے کہ وہ کسی ایک راستے پر ٹھہرنے کے بجائے دروازے کھلے رکھے۔ بدلے میں یہ کیفیت کسی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے مگر طویل مدت میں اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس صورتحال کا تعلق بنیادی طور پر خوف اور غیر یقینی سے ہے۔ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ ان کا فیصلہ غلط ثابت ہو، کہ ان کی محنت یا رشتہ ناکام ہو جائے۔ اس خوف کے سبب لوگ اکثر کسی بھی چیز کے ساتھ مکمل وابستگی اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خوف ہر عمر کے افراد میں پایا جاتا ہے، مگر نوجوان اس مرحلے پر ہوتے ہیں جہاں زندگی کے اہم فیصلے سامنے ہوتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج نوجوان اور بالغ دونوں، ہر لمحے یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ کہاں کھڑے ہیں، کون کس طرح کامیاب ہو رہا ہے اور کیا مواقع موجود ہیں۔ یہ مسلسل تقابل انسان میں بےچینی پیدا کرتا ہے اور صبر، استقامت اور طویل المدتی وابستگی کی قدروں کو کمزور کر دیتا ہے۔ نوجوان چونکہ ابتدائی زندگی کے مراحل میں ہوتے ہیں اور ابھی اپنی شناخت اور راستے تلاش کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے یہ اثر ان پر سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔

معاشی اور سماجی دباؤ بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روزگار کے مواقع غیر یقینی، مہنگائی بڑھتی ہوئی، تعلیم کے تقاضے بدلتے ہوئے اور کل کی پیش بینی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ جب مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہو تو آج کسی رشتے، کیریئر یا منصوبے میں جُڑنا اور اس پر قائم رہنا خوفزدہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ دباؤ ہر عمر کے انسان پر اثر انداز ہوتا ہے، مگر نوجوان اس دباؤ کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی کے اہم مراحل ابھی شروع ہوئے ہیں۔

یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ نوجوان صرف دباؤ میں ہیں بلکہ وہ ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر فیصلہ فوری نتائج کا متقاضی ہوتا ہے۔ کامیابی، خوشی اور آزادی کے جو معیار معاشرت میں پیش کیے جاتے ہیں، وہ اکثر حقیقت سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس دباؤ میں مستقل مزاجی اور فیصلہ پر قائم رہنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

ہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عزم اور ذمہ داری کا مطلب آزادی کی کمی نہیں بلکہ حقیقی آزادی کا حصہ ہے۔ جو انسان کسی فیصلہ یا رشتے سے جُڑتا ہے، وہ دراصل اپنے اختیار کے ساتھ اس کے نتائج کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت اختیار کرتا ہے۔ آزادی اور عزم ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ فیصلہ کرنا اور اس پر قائم رہنا انسان کی شخصیت کو پختہ کرتا ہے اور زندگی کو ایک مقصدیت دیتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف فرد کی کوشش یا نوجوانوں کی تربیت تک محدود نہیں۔ خاندان، تعلیمی ادارے اور معاشرہ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ جب نوجوانوں کو مستقل مزاجی، صبر اور ذمہ داری کی تربیت دیتے ہیں، تو نوجوان بہتر فیصلے کرنے اور ان پر قائم رہنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ سماجی دباؤ اور غیر یقینی حالات جتنے بھی پیچیدہ ہوں، یہ تربیت نوجوانوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنے فیصلوں میں خود اعتمادی محسوس کریں اور خوف یا بےچینی کی وجہ سے راستہ نہ چھوڑیں۔

مزید یہ کہ نوجوان صرف ذاتی فیصلوں کے مرحلے میں نہیں بلکہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے چیلنجز سے بھی دوچار ہیں۔ آج کا دور نوجوانوں کو توقعات کے طوفان میں رکھتا ہے جہاں ہر فیصلے کا اثر ان کی تعلیم، کیریئر، مالی استحکام اور ذاتی ترقی پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اس مرحلے پر زیادہ دکھائی دیتے ہیں، مگر مسئلہ دراصل ہر عمر کے انسان کے لیے موجود ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ عزم، مستقل مزاجی اور کسی فیصلے پر قائم رہنے کی صلاحیت کسی نسل کی خاصیت نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں یہ صلاحیت سب کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ نوجوان اس مرحلے میں زیادہ نمایاں ہیں کیونکہ وہ زندگی کے اہم راستوں پر ہیں، مگر حقیقی حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرانا بلکہ انہیں اور خود کو حالات کی پیچیدگیوں میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔