فضائی آلودگی — ایک سنگین خطرہ

فضائی آلودگی آج کے دور کا وہ مسئلہ ہے جس نے دنیا بھر میں انسانی صحت، ماحول اور معاشرتی زندگی کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہوا جسے زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، وہی آلودہ ہو کر انسان کے لیے زہر بنتی جا رہی ہے۔ شہروں کی تیز رفتار بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتوں کا پھیلاؤ، بے ہنگم ٹریفک، اور قدرتی ماحول کی مسلسل بربادی نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ صاف اور شفاف ہوا تک لوگوں کو میسر نہیں رہی۔ ایک وقت تھا جب لوگ صبح کی تازہ ہوا میں سانس لے کر تروتازہ محسوس کرتے تھے، مگر آج بڑے شہروں میں یہ بات ایک خواب جیسی لگتی ہے کیونکہ فضا میں گرد، دھواں اور مضر ذرات کی مقدار بڑھ چکی ہے جس سے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ہوا کی آلودگی انسانی جسم کو خاموشی سے متاثر کرتی ہے۔ سانس کی بیماریوں میں اضافہ، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، جلدی مسائل، دل کے امراض اور کمزور قوتِ مدافعت جیسے مسائل اب عام ہو چکے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں پر اس کا اثر زیادہ تیزی سے ہوتا ہے کیونکہ ان کا جسم بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے میں کمزور ہوتا ہے۔ اسکول جانے والے بچے جب آلودہ ماحول میں سانس لیتے ہیں تو انہیں کھانسی، دمہ اور الرجی جیسے مسائل لاحق ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح محنت کش طبقہ، جو روزانہ کھلے ماحول میں کام کرتا ہے، وہ بھی اس آلودگی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ یہ مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کو بھی براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ لوگ تھکن، چڑچڑاہٹ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ آلودہ فضا جسم میں تازگی پیدا کرنے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔

معاشی سرگرمیوں پر بھی فضائی آلودگی کا گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ بیماریاں بڑھنے سے لوگوں کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ہسپتالوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، ادویات پر خرچ بڑھ جاتا ہے اور لوگ اپنی توانائی کھو بیٹھتے ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی اس صورتحال کا سامنا کرتا ہے کیونکہ دھند، دھواں اور کم دکھائی دینے کے باعث ٹریفک میں رکاوٹ آتی ہے، سفر کا وقت بڑھ جاتا ہے، پروازیں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور سامان کی ترسیل سست پڑ جاتی ہے۔ یوں ملکی معیشت پر بھی اس مسئلے کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں خاص طور پر سردیوں کے موسم میں فضا مزید آلودہ ہو جاتی ہے۔ دھند اور دھوئیں کے ملاپ سے ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے عام زبان میں سموگ کہا جاتا ہے۔ یہ منظر نہ صرف دیکھنے میں پریشان کن ہوتا ہے بلکہ انسان کی صحت پر اس کے مضر اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ دن کے وقت بھی سورج کی روشنی دھندلے پردے کی وجہ سے دھیمی پڑ جاتی ہے، گاڑی چلانا مشکل ہو جاتا ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ سموگ اس بات کی علامت ہے کہ ہماری فضا کس قدر بھاری اور آلودہ ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود روزمرہ کے معمولات وہی رہتے ہیں اور لوگ اسی آلودہ فضا میں جینے پر مجبور ہیں۔

فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہم خود بھی ہیں۔ جب ہم بے دریغ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، کچرا جلا دیتے ہیں، درختوں کی کٹائی میں اضافہ کرتے ہیں یا ماحول کا خیال نہیں رکھتے تو ہم اسی ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں جس میں ہمیں زندہ رہنا ہے۔ فطرت نے انسان کو صاف ستھرا ماحول عطا کیا تھا مگر انسان نے ترقی کی چاہ میں اپنی ہی بقا کو خطرے میں ڈال دیا۔ فضا میں شامل وہ ذرات جو انسانی آنکھ کو نظر بھی نہیں آتے، وہی رفتہ رفتہ ہمارے جسم کے اندر جا کر بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ گاڑیوں کا بڑھتا ہوا دھواں، غیر معیاری ایندھن، بے قابو صنعتیں، تعمیرات کا بڑھتا ہوا دھواں اور جدید طرزِ زندگی کے نام پر ماحول کو نظرانداز کرنا وہ عوامل ہیں جو روز بروز اس مسئلے کو سنگین بنا رہے ہیں۔

حل کی بات کی جائے تو اس مسئلے کو کم کرنا ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ لوگ اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لائیں۔ مثال کے طور پر گاڑی کم استعمال کریں، کارپولنگ یا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں، گھر کا کوڑا جلانے کے بجائے مناسب طریقے سے ضائع کریں، چھوٹے پیمانے پر بھی شجرکاری کریں اور ماحول دوست عادات اپنائیں۔ اگر ہر فرد یہ سوچ لے کہ وہ ماحول کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے گا تو مجموعی طور پر معاشرہ بہتر سمت میں جا سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آلودگی کے ذرائع پر سختی سے قابو پائے، صنعتوں کو ماحولیات کے اصولوں کے مطابق چلانے کا بندوبست کرے، ناقص ایندھن پر پابندی لگائے، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنائے اور شہروں کی منصوبہ بندی اس طرح کرے کہ آلودگی کم سے کم ہو۔

تعلیمی اداروں میں بھی اس مسئلے کے بارے میں شعور پیدا کیا جانا چاہیے تاکہ بچوں کو بچپن سے ہی ماحول کی اہمیت کا احساس ہو۔ میڈیا پر آگاہی مہمات چلنی چاہییں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ فضائی آلودگی صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ان کی اپنی صحت اور مستقبل کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص روزانہ اس آلودگی کا شکار ہوتا ہے، اس لیے اس کے خلاف اقدامات کرنا بھی ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

آخر میں بات یہ ہے کہ صاف ماحول انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق سے محرومی انسان کی زندگی کو بحرانوں میں دھکیل سکتی ہے۔ اگر معاشرہ، حکومت اور فرد مل کر اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں عملی اقدامات کریں تو آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مستقبل کی نسلوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے آج ہی فیصلے کرنا ہوں گے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والے وقت میں ہمیں صرف صفائی اور آلودگی سے متعلق مسائل کا نہیں بلکہ صحت، معاشرت اور معیشت کے بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صاف ہوا صرف فطرت کی نعمت نہیں، بلکہ انسان کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، اس لیے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔