ہم آج ایک پرفتن دور سے گزر رہیں ہیں،آج کے اس پرفتن دور میں زندگی کا ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے، ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنے گھر اور اپنی اولادیں ہیں، کس طرح اپنی اولاد کو اور اپنے گھروں کو اس فتنوں سے بچائیں، گھر اور اولاد کو بچانے کے لئے سب سے بڑی زمہ داری ماں کی ہے، آج کی ایک ماں کے لئے بے شمار چیلنجز ہیں، آج سے پچاس سال پہلے اگر غربت تھی، اس وقت ایک عورت کو خاوند کا ساتھ دینا تھا، گھر کے کام کاج میں اس کا ہاتھ بٹانا تھا،
لیکن دوسری طرف ایک مضبوط خاندانی نظام موجود تھا، ایک گھر میں تایا اور چچا کے بیٹے بیٹیاں جوان ہو جاتے تھے، ایک بچے کو ماں باپ کے علاؤہ دادا،دادی، پھوپھو، چچا، تایا نانا، نانی، ماموں، خالہ جیسے محسن سینے سے لگانے کے لئے موجود تھے، باہر کے فتنے نہیں تھے، بچہ دس سال کا ہوتا تھا، دادا دادی، چچا، تایا، ماموں اس کی انگلی پکڑ کر ساتھ چلاتے تھے وہ ان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا وہ زندگی کی دوڑ میں شریک ہو جاتا تھا،
زندگی سادہ تھی لیکن ہم ایک پرفتن دور سے گزر رہیں ہیں، اس لئے آج زندگی بہت مشکل ہوگی ہے، ایک نوجوان میاں
بیوی کو شادی کے پہلے دن سے سوچ سمجھ کر چلنا ہوتا ہے، پھر جب بچے پیدا ہوجاتے ہیں
دونوں میاں بیوی کی زمہ داریاں بڑ جاتی ہیں، پھر جب بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہے دونوں کی زمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، بالخصوص ماں کا رول گھر میں اور اولاد کی زندگیوں میں اہم ہوتا ہے، آج کا دور معاشی تنگدستی کا دور ہے، اگر مرد کی آمدن محدود ہے تو بچوں کی زندگیوں میں بہت ساری مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں، ان حالات میں بعض اوقات ماں کو بھی معاش کے لئے باہر قدم رکھنا پڑتا ہے، ان حالات میں ایک عورت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنا ضروری ہے، ایک طرف اس نے خاوند کے لئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں، اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اگر کہیں کوئی کمی محسوس ہو تو صبر و قناعت کے ساتھ خاوند کا ساتھ دینا ہے،
اس کو سہارا دینا ہے، اس کی دوسری بڑی زمہ داری اپنی اولاد کو باہر کے فتنوں سے بچانا ہے، ایک نوجوان ماں نے طے کرلیا کہ میں اپنے بچوں کو اپنے پروں میں رکھ کر پالوں گی، ان کو معاشرے کی بے رحم موجوں کے حوالے نہیں کروں گی، یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب وہ اپنے گھر کو ایک پُرسکون گھر بنائے، باہر کے فتنوں سے اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو بچائے، اس کے لئے ضروری ہے وہ اپنے خاوند کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے، اس کے لئے آسانیاں پیدا کرے، باہر کے فتنوں سے اپنے گھر اور بچوں کو بچائے، خاوند کی کمائی کے مطابق ایک سلیقہ شعار عورت کی طرح گھر چلائے، فضول اخراجات سے بچے، باہر کی منفی چیزوں کو گھر کے اندر نہ لیکر آئے، سچ بولے، حرام کا ایک لقمہ بھی گھر کے اندر نہ آنے دے، سود کی کمائی اور ہر طرح کی حرام کی کمائی سے اپنے گھر کو اور بچوں کو بچائے، اولاد کے سامنے منفی چیزوں کو زیر بحث نہ لائے، بچوں کو اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دے،
اگر ماں نے بچوں کے ساتھ دوستوں والا رویہ نہ اپنایا تو بچے پھر باہر سے دوست بنائیں گے، جو کہ ایک بڑی تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے ماں اگر وہ گھریلو عورت ہے، یا جاب کرتی ہے، اپنے خاوند کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھے، بچوں کو اپنے پروں میں چھپا کر رکھے، ان کو مشورہ میں شریک کرے، ان کے زمہ کام لگائے، ان کے سامنے منفی چیزوں کو ڈسکس نہ کرے، حرام سے بچے، ہر مہینے کچھ نہ کچھ بچت کرے، خاوند کے لئے آسانیاں پیدا کرے، خاندان کو فتنوں سے بچائے، اولاد کو رشتوں سے جوڑے، اپنی سوشل لائف کو محدود کرے،
پوری توجہ گھر اور بچوں کی زندگیوں کی طرف کرے، گھر کے ماحول کو دین دارانہ بنائے، خود نماز پڑھے، قرآن کا کچھ نہ
کچھ حصہ روزانہ تلاوت کرے، بچوں کو نماز کی تلقین کرے، یہ ایسا دور ہے کہ مسلسل ایک سے بڑھ کر ایک فتنہ پیدا ہو رہا ہے وہ فتنے ایسے ہیں جب یہ فتنے کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں اس کے بعد ان سے نکلنا بہت مشکل اور بسا اوقات نا ممکن نظر آتا ہے۔ یعنی ان فتنوں میں پھنس جانے کے بعد کے بعد حل تلاش کرنے سے بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی ان فتنوں کی پہچان کر لی جائے
اور ان سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔ان ہی فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ اولاد کے بگڑ جانے کا فتنہ ہے۔ظاہر ہے کہ اس کی اصل وجہ والدین کی اور خصوصا والدہ کی کوتاہی، لاپرواہی اور بے توجہی ہے۔ایک ماں پر واجب ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرے انہیں اچھے اخلاق وعادات سے مزین کرے اور ہر طرح کی برائی سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کرے، قدم قدم پر ان کی نگرانی کرے، ان کا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، آنا جانا کہاں کس کے ساتھ اور کب ہو رہا ہے ان سب چیزوں کی کڑی نگرانی ایک ماں کی ذمہ داری ہے۔جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
پس امام (امیرالمؤمنین) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہو گی۔“ صحیح البخاری/کِتَاب الْأَحْکَامِ/حدیث: 7138
لیکن افسوس کی بات ہے کہ عورتیں آج اس ذمہ داری کو بہت ہلکے میں لے رہی ہیں اور کچھ تو ذمہ داری سمجھ ہی نہیں رہی ہیں جبکہ اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے گھروں کی اور ان کے بچوں کی حفاظت کریں۔اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی عورتیں بہت ساری سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں لیکن اپنے گھر، خاوند اور بچوں کے حوالے سے ان کی جو زمہ داری بنتی ہے اس سے غفلت کا شکار ہو جاتی ہیں،عورت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا کل اثاثہ خود ان کے اپنے بچے ہیں اگر وہ ان کی صحیح تربیت کر لے گی تو وہی بچے معاشرے کے لیے مثال بنیں گے اور اگر ان کی تربیت سے غافل ہو گئی تو پوری محنت پر پانی پھیرنے کے لیے خود اس کے ہی بچے کافی ہوں گے
دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ مرد و عورت سب کے لیے ہے لیکن ایک عورت کے لیے اپنے بچوں کی تربیت سب سے بڑی ذمہ داری اور اصل ذمہ داری ہے۔اسی لیے عورتیں اپنے بچوں کے ساتھ رہیں، گھروں میں رہیں، ان کے ہر ہر فعل کی خبر گیری کریں تب دیکھیں آج بھی بڑے بڑے لوگ پیدا ہوں گے۔یہ بات تو سبھی جانتے ہی ہیں کہ بڑیں بڑے لوگوں کے بنانے میں اصل کردار ماؤں کا ہی ہے۔اسی لیے عربی میں ایک مقولہ مشہور ہے:
النساء مصانع الرجال
عورتیں مردوں کے کارخانے ہیں۔آج بھی بڑے بڑے لوگ پیدا ہو سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ مائیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ ہم دیکھتے ہیں، ہماری وہ بہنیں اور بیٹیاں جن کے زندگی کے ساتھی چلے گئے
لیکن انھوں نے اپنے خاوند کی گلشن کی حفاظت کی، اپنی زندگی اپنے خاوند کے گلشن کو بچانے کے لئے لگا دی تو وہ سرخرو ہوگئیں ہیں آج ان کے خاوند کے گلشن میں پھل اور پھول کھلے ہوئے ہیں، انھوں نے اپنا آرام اور سکون اپنے خاوند کے گلشن کو بنانے اور سنوارنے کے لئے قربان کیا اللہ نے ان کو صلہ دیا
کہ آج وہ بڑی باوقار انداز اپنی زندگی گزار رہی ہیں،شرط ایک ہی ہے ماں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لے، پھر طے کر کے اپنے بچوں کو معاشرے کا بہترین شہری بنانا ہے۔اللہ تعالٰی سبھی ماؤں کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسے نبھانے کی توفیق دے۔ آمین
خالد محمود مرزا
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.