قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ قرب قیامت اللہ تعالیٰ زمین سے علم کو اٹھا لیں گے اور علم کتابوں کی شکل میں یا الماریوں سے نہیں اٹھایاجائے گابلکہ اہل علم کے دنیا سے جانے کی وجہ سے علم اٹھایاجائے گا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں بڑی تیزی سے علماء کرام فقہاء کرام دنیا فانی سے رخصت ہورہے ہیں یہ ایسا خلاء ہے جسے کبھی پر نہیں کیاجاسکتا۔

ان اہل علم میں سے ایک بہت بڑانام حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کابھی ہے جواس دار فانی سے رخصت ہوچکے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرائیل امین سے فرماتے ہیں میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو تو جبرائیل امین بھی محبت کرتے ہیں پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں فلاں شخص سے اللہ محبت کرتاہے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر اسکے لئے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
اس مقبولیت کاعملی مظاہرہ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ جھنگ کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور و معروف بزرگ عظیم روحانی شخصیت انسانی دلوں میں انقلاب برپا کرنے والے دھیمے لہجہ میں مخلوق خدا کو خدا کی طرف متوجہ کرنے والے علم وادب عمل وکردار رہبر وراہنما اصول وضوابط نظم وضبط کے عین مطابق زندگی گزارنے والے اخلاص وپیار محبت وشفقت حسن اخلاق سے متاثر کرنے والے پیر طریقت رہبر شریعت محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ہیں۔ جنہوں نے دنیا اور دنیاداری کی عیش و عشرت راحت واطمینان والی زندگی چھوڑ کر دین اور دین داری کو اختیار کرتے ہوئے فقیرانہ زندگی کوترجیح دی پھر اللہ تعالیٰ نے دنیاکو اور بڑے بڑے دنیا داروں کو حضرت کے قدموں میں لاکھڑا کیا
وہ حضرت کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب رہتے ایک ملاقات کے لئے گھنٹوں سفر کرکہ خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت کو اللہ نے وہ عروج بخشا وہ عزتیں عطاء فرمائیں وہ خوش قسمتی اور خوش نصیبی عنایت فرمائی کہ جو دنیا کے بہت کم لوگوں کو میسر ہے دنیانے وہ منظر بھی دیکھا جب انکی وفات کی خبر سامنے آئی تو دنیا بھر سے ان سے محبت وعقیدت رکھنے والے دیوانے پروانے پل بھر میں آنکھوں کے ضبط قابو کئے دل گرفتہ ہوکر حضرت جی کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جھنگ کی سرزمین پر پہنچے۔
یوں لگاگویا جنازہ میں شرکت کیلئے انسانوں کاسمندرامڈ آیا جھنگ کی تاریخ میں لاکھوں افراد کے شرکت کی وجہ سے جھنگ کی تاریخ کاسب سے بڑا جنازہ شمار ہوا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رح یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کی سرزمین پرکھرل خاندان میں پیدا ہوئے آپ نے بچپن میں ہی ایک دین دار اور معزز گھرانے میں پرورش پائی آپ کے والد محترم حافظ اللہ دتہ بھی حافظ قرآن نیک سیرت انسان تھے آپ کی والدہ تہجد گزار تھیں آپکے والدین جنہوں نے آپ کی دینی تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار اداء کیا حضرت پیر جی بہت ذہین تھے
آپ نے دو ماہ کے قلیل عرصہ میں چھ سپارے حفظ کرلئے آپکی ذہانت کو دیکھتے ہوئے آپکے استاذ محترم قاری صاحب نے آپکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا بیٹا آپ قرآن مجید حفظ کرسکتے ہواگر چاہوتو ایک سال میں حفظ مکمل ہو جائیگا اس سے آپکے دل میں مزید شوق پیدا ہوگیا آپ دینی اور عصری تعلیم ساتھ ساتھ جاری رکھتے ہوئے اعلی نمبروں میں کامیابی حاصل کی 1966ء میں آپ نے میٹرک کیااس کے بعد آپ نے70 کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس مکمل کیا الیکٹریکل انجینیرنگ میں گریجویشن مکمل کی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہب کے ساتھ آپکا لگاؤ بہت گہرا تھا
جسکی وجہ سے آپ نے حفظ قرآن مجید کی سعادت حاصل کرنے کے بعد درس نظامی میں بھی اعزازی اسناد حاصل کی زمانہ طالب علمی میں آپ کھیلوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے جن میں جمناسٹک کرکٹ فٹ بال اور تیراکی شامل تھے 2014میں آپ کانام نیاکی500بااثر ترین شخصیات میں شامل کیاگیا90 کی دہائی میں آپکی تنخواہ ماہانہ تیس لاکھ تھی لیکن آپ نے سب کچھ چھوڑ کر دین اسلام کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا دن رات محنت سے اپنے خطابات کے ذریعے سے تحریر اور تقریر سے لوگوں کو دین اسلام کے ساتھ جوڑا اپنی زندگی میں تبلیغ تصوف شریعت علم وعمل اور شریعت کے پیغام کو عام کرنے میں ہر وقت مصروف رہے آپ کے افکار نظریات عقائد خطابات تصانیف روحانیت کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا لوگ شرک وبدعات کو چھوڑ کرنور ہدایت سے فیض یاب ہوئے دین اسلام کی طرف متوجہ ہوئے گناہوں کی دلدل سے نکل کر توبہ تائب ہوئے آپ نے70 ممالک کے تبلیغی دورے بھی کئے عرب وعجم یورپ وایشیا میں دین اسلام اور عشق مصطفیٰ کا پیغام پہنچایا اور عام کیا آپ نے دوسو سے زائد کتب بھی تحریر کیں
جن میں چند ایک مشہور کتب میں خطبات فقیر،باادب بانصیب،تمنائے دل،زادحرم، قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز، عشق الٰہی،عشق رسول، موت کی تیاری،حیاء و پاکدامنی،سکون دل،اولاد کی تربیت،خواتین اسلام کے کارنامے شامل ہیں حضرت پیر صاحب طویل علالت کے بعد 14 دسمبر 2025ء کو 72 برس کی عمر میں اس دنیا فانی سے رخصت ہوتے ہوئے رب کے حضور پیش ہوگئے
آپکا جنازہ پنجاب کے شہر جھنگ کی مشہور و معروف دینی درسگاہ اسلامی و اصلاحی درس و تدریس کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ معہد الفقیر جھنگ میں اداء کیاگیا جہاں لاکھوں طلباء حفاظ کرام علماء کرام اور مریدین نے ملک بھر سے سفر کرکہ شرکت کی یوں دین اسلام کا یہ سپاہی عظیم روحانی وصوفی بزرگ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جھنگ کی سرزمین پر آرام فرما ہوگئے اللہ حضرت کی قبر پر رحمتوں کا نزول فرمائے آمین آپ کی دینی و علمی کوششوں کو قبول فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
تحریر ظفر رشید