راولپنڈی(نمائندہ پنڈی پوسٹ)ممبر قومی اسمبلی و چیئرمین کوآرڈینیشن کمیٹی راولپنڈی انجینیئر قمر الاسلام راجہ نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرنے کی بجائے اس طرح کے فیصلے کرے گی تو آئین اور قانون کہاں جائینگے۔
عدالتوں کے جلد فیصلوں پر اعتراض نہیں البتہ فیصلوں میں آئین اور قانون کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔عدالت نے پی ٹی آئی کو وہ دیا جو اس نے مانگا ہی نہیں حکومت آئین شکنی نہیں کرے گی اور وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرے گی پی ٹی آئی کے پونے چار سالہ دور کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انجینئر قمر الاسلام راجہ نے ممبر قومی اسمبلی ملک ابرار احمد، کنوینیر ایجوکیشن ٹاسک فورس راجہ الیاس کیانی کے ہمراہ راولپنڈی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن شعبہ خواتین کی نازیہ الیاس کیانی،شبنم موسیٰ اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح لکھا ہوا ہے کہ ہر آزاد رکن اسمبلی تین دن کے اندر کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرے گا
اب جب رکن اسمبلی سنی تحریک میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں توعدالت کا انہیں پی ٹی آئی کے اراکین ڈیکلیئر کرنا سوالیہ نشان ہے حالانکہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق ہی نہیں تھی عدالت نے پی ٹی آئی کو وہ کچھ دیدیا جو اس نے مانگا ہی نہیں تھا کیس سنی تحریک کا تھا اور فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آیا یہ فیصلہ کس قانون کے تحت دیا گیا قوم کو سمجھ نہیں آ رہی اس فیصلے سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا
انہوں نے کہاکہ عوام توقع کر رہی تھی کہ بہتر فیصلہ آئے گا جس سے ملک میں استحکام پیدا ہو گا مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ ملک ابرار نے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا حکومت اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرے گی۔2013 میں ملک ترقی کر رہا تھا مگر پھر 2017 میں اس ترقی کو روک دیا گیا۔یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی قوتیں یکجا نہیں۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ماضی سے سبق سیکھا اور اب وہ سب کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں کیونکہ جب تک ملی یکجہتی نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کر سکے گا انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئین شکنی نہیں کرے گی اور وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرے گی۔