سرکاری ادارے کیوں کمزور ہوئے؟ قصور صرف حکومت کا نہیں



کالم از: سحرش تبسم

آج صدر راولپنڈی  کے جی پی او کے سامنے سے گزرتے ہوئے اچانک ذہن میں ایک سوال آیا کہ آخر وہ سرکاری ادارے، جنہیں کبھی ریاست کی طاقت اور عوامی خدمت کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایک کرکے اپنی اہمیت کیوں کھوتے جا رہے ہیں؟ کچھ اداروں کی طاقت محدود کی جا رہی ہے، کچھ کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بات ہو رہی ہے اور کچھ پہلے ہی شدید مالی و انتظامی مشکلات کا شکار ہیں۔

پہلے پہل ہمیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس سب کی ذمہ دار حکومت ہے۔ حکومت نے ادارے ٹھیک سے نہیں چلائے، اس لیے اب انہیں پرائیویٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر ہم اس مسئلے کو ذرا گہرائی سے دیکھیں تو تصویر صرف اتنی سادہ نہیں۔

مثال کے طور پر ڈاک خانوں کا نظام ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت تھا جب جی پی او اور ڈاک خانوں کا عوامی زندگی میں بہت اہم کردار تھا۔ پنشن سمیت بہت سے معاملات کے لیے لوگ ڈاک خانوں کا رخ کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نظام میں جدید ٹیکنالوجی، بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں نے جگہ بنائی، جبکہ پرانے نظام میں موجود بعض خامیوں نے بھی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

پنشن کے نظام میں ایسے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں جہاں کسی پنشنر کے انتقال کے بعد بھی ریکارڈ بروقت درست نہ ہونے کی وجہ سے ادائیگیاں جاری رہیں۔ اگر کسی مرحوم کی پنشن طویل عرصے تک وصول ہوتی رہی اور متعلقہ اہلکاروں یا دوسرے افراد کی ملی بھگت سے یہ معاملہ چھپایا گیا تو سوال صرف حکومت سے نہیں بنتا؛ سوال اس نظام میں کام کرنے والے ہر ذمہ دار شخص سے بھی بنتا ہے۔

ریاست اربوں روپے کے نظام بنا سکتی ہے، قوانین بنا سکتی ہے، افسران تعینات کر سکتی ہے، مگر اگر ادارے کے اندر کام کرنے والا شخص اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا نہ کرے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو سکتا ہے۔

یہی بحث  جیسے بڑے اداروں کے بارے میں بھی کی جا سکتی ہے۔ پی آئی اے کی مشکلات کو صرف حکومت کی ناکامی قرار دینا شاید مکمل تصویر نہیں۔ سیاسی مداخلت، انتظامی فیصلے، مالی بوجھ اور دیگر عوامل اپنی جگہ، لیکن ادارے کے ہر ملازم کی کارکردگی بھی ادارے کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر ایک ادارے میں لوگ وقت پر کام نہ کریں، وسائل کا درست استعمال نہ ہو، احتساب کمزور ہو اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی جائے تو پھر ادارہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، آہستہ آہستہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔

سرکاری تعلیمی اداروں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج سرکاری اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے یا ان کے انتظام میں تبدیلی کی بات کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے صرف حکومت کی پالیسی کو ذمہ دار قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ جن سرکاری اسکولوں میں اساتذہ تعینات ہیں، وہاں تعلیمی معیار کیوں کم ہوا؟ طلبہ کی تعداد کیوں کم ہوئی؟ والدین سرکاری اسکول کے بجائے نجی اسکول کو ترجیح کیوں دینے لگے؟

یہاں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض سرکاری ملازمین خود اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں، جبکہ وہ سرکاری اسکولوں میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ ہر استاد کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے سرکاری اداروں میں بے شمار ایسے ملازمین بھی موجود ہیں جو پوری ایمانداری اور محنت سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ لیکن جہاں غفلت موجود ہے، وہاں سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔

اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے سرکاری اداروں کو ہمیشہ حکومت کی ملکیت سمجھا، اپنی ذمہ داری نہیں۔

ہم ٹیکس دیتے ہیں، سرکاری سہولیات استعمال کرتے ہیں، اداروں سے خدمات لیتے ہیں، مگر جب کوئی ملازم رشوت لیتا ہے، کوئی شخص جعلی پنشن وصول کرتا ہے، کوئی افسر اپنے فرائض میں غفلت کرتا ہے یا کوئی شہری سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتا ہے تو ہم اکثر خاموش رہتے ہیں۔

پھر جب ادارہ خسارے میں چلا جائے تو ہم کہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی۔

حکومت یقیناً ذمہ دار ہے۔ ناقص پالیسیاں، کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت، کرپشن اور احتساب کا فقدان کسی بھی ریاستی ادارے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن حکومت کے ساتھ ساتھ ادارے کے اندر موجود افراد اور بحیثیت معاشرہ ہماری اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔

اگر ایک سرکاری ادارہ عوام کے پیسوں سے چلتا ہے تو وہ دراصل عوام ہی کا ادارہ ہے۔ اس کے وسائل بھی عوام کے ہیں اور اس کی ملازمتیں بھی عوام کے ٹیکس سے پیدا ہونے والے وسائل سے چلتی ہیں۔

اس لیے کسی سرکاری ادارے کو ختم کرنا یا نجی شعبے کے حوالے کرنا ہمیشہ کامیابی کی علامت نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اسے بہتر بنانے کی کتنی کوشش کی؟ اس کے اندر احتساب کتنا مضبوط کیا؟ جدید ٹیکنالوجی کتنی لائی؟ غیر ضروری اخراجات کتنے کم کیے؟ اور سب سے بڑھ کر، کام نہ کرنے والے شخص کو جواب دہ بنایا یا نہیں؟

ہمیں حکومت سے بھی سوال کرنا چاہیے اور خود سے بھی۔

کیونکہ ریاست صرف وزیراعظم، وزیر، افسر یا حکومت کا نام نہیں۔ ریاست ہم سب سے بنتی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے سرکاری ادارے دوبارہ مضبوط ہوں تو ہمیں صرف حکومت بدلنے کی نہیں، نظام، رویوں اور ذمہ داری کے تصور کو بدلنے کی بھی ضرورت ہے۔

ادارے حکومتیں نہیں چلاتیں، ادارے لوگ چلاتے ہیں۔ اور جب لوگ اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرنا چھوڑ دیں تو بہترین ادارہ بھی ایک دن کمزور پڑ جاتا ہے۔

شاید آج ہمیں یہی سوچنے کی ضرورت ہے کہ سرکاری اداروں کی تباہی کا ذمہ دار صرف کوئی ایک فریق نہیں۔ حکومت کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، اداروں کے ملازمین کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور عوام کی بھی۔

ملک صرف حکومت سے نہیں چلتا، ملک ذمہ دار شہریوں اور ایماندار اداروں سے چلتا ہے۔