ہمارے معاشرے میں تعلیم کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے ایک ہی زاویے تک محدود رہا ہے: بچے کو پڑھا لکھا کر سرکاری نوکری کے قابل بنانا۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم نے تعلیم کو شعور، کردار سازی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ”نوکری کی چابی“ بنا دیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ نہ جانے کیوں یہاں سرکاری ملازمت کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔
ایسا تاثر قائم ہو گیا ہے کہ اگر سرکاری نوکری مل جائے تو سب کچھ مل گیا، اور اگر نہ ملے تو جیسے زندگی ادھوری رہ گئی۔سرکاری نوکری بلاشبہ بہت سے لوگوں کے لیے استحکام، عزت اور سہولتوں کا ذریعہ ہے، مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ اتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اسے چھوڑ کر اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دیتے ہیں اور یہی فیصلہ انہیں زیادہ پرسکون، آزاد اور کامیاب بنا دیتا ہے۔
کچھ افراد تو یہاں تک اعتراف کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمت میں گزارے ہوئے برس اُن کی زندگی کے ضائع شدہ سال تھے۔ وجہ یہ ہے کہ نہ تو ہر انسان نوکری جیسی پابندی کے لیے پیدا ہوا ہے اور نہ ہر ذہن اپنے تخلیقی امکانات کو فائلوں اور دفتری ضابطوں کے اندر سمیٹ کر جی سکتا ہے۔ہمارے ہاں تعلیم کا مقصد کبھی ”اچھی شخصیت“ کی تعمیر نہیں رہا۔
ہم بچوں کو شعور دینے، سوچنے سکھانے اور اچھے برے کی تمیز پیدا کرنے کے بجائے انہیں امتحان، ڈگری اور آخرکار نوکری کے لیے تیار کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ڈگریاں تو بہت بنتی ہیں، مگر صلاحیتیں، مہارتیں اور اعتماد کم ہی نظر آتا ہے۔اس سوچ کو بہتر سمجھنے کے لیے تین کہانیاں دیکھ لیجیے۔ عارف بچپن سے یہی سنتا آیا کہ زندگی کی نجات سرکاری نوکری میں ہے۔ برسوں کی محنت کے بعد اسے گریڈ 16 کی پوسٹ مل گئی، مگر چند سال بعد اسے احساس ہوا کہ ترقی سست، ماحول جامد، اور تخلیقی آزادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ خود کو ہر روز اسی مقام پر کھڑا دیکھتا رہا۔ آخرکار اس نے ملازمت چھوڑ کر چھوٹا سا کاروبار شروع کیا اور آج اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ پہلے ہی آزادانہ کام شروع کر لیتا تو بہتر تھا۔
بشریٰ نے پرائیویٹ ادارے میں کام شروع کیا۔ تنخواہ مناسب تھی مگر ذہنی دباؤ، ٹارگٹس، روزمرہ کی دوڑ اور مسلسل مقابلہ بازی نے اسے تھکا دیا۔ چند سال بعد اس نے ڈیجیٹل کنٹنٹ رائٹنگ سیکھی اور گھر بیٹھے کام کرنا شروع کر دیا۔ اب وہ نہ صرف بہتر کماتی ہے بلکہ اپنی زندگی پر زیادہ اختیار بھی رکھتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ تنخواہ والی دوڑ نے اس سے کئی سال چھین لیے۔سجاد کی کہانی مختلف ہے۔ اس کی ڈگری عام تھی مگر اس نے ساتھ ساتھ ہنر سیکھے—گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔
ابتدا میں معمولی آمدن ہوئی، مگر کچھ ہی عرصے بعد کام چل نکلا۔ آج اس کا اپنا چھوٹا اسٹوڈیو ہے، جہاں وہ ملازم نہیں بلکہ ملازم رکھنے والا شخص ہے۔ وہ اکثر کہتا ہے کہ اگر وہ بھی نوکری کے پیچھے بھاگتا رہتا تو شاید آج تک اپنی صلاحیت کو پہچان ہی نہ پاتا۔ان تین راستوں سے یہ بات واضح ہے کہ نوکری چاہے۔
سرکاری ہو یا نجی—ہر انسان کے لیے موزوں نہیں۔ یہ زندگی کو ایک خاص آمدنی اور ایک خاص نظام کے اندر قید کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ اس میں مطمئن رہتے ہیں، مگر بہت سے افراد اپنی صلاحیت، تخلیقی ذہن اور کاروباری رجحان کو نوکری کی حدود میں دفن کر دیتے ہیں۔آج کے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف ڈگری پر اکتفا نہ کریں۔ دنیا بدل چکی ہے، روزگار کے طریقے تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب کامیابی اُن لوگوں کی ہے جن کے پاس ہنر، مہارت اور آزادانہ کام کرنے کی صلاحیت ہے۔
ڈیجیٹل سکلز، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈیولپمنٹ، مارکیٹنگ، ڈیٹا اینالیسز، فری لانسنگ‘ریسرچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت‘ یہ سب وہ راستے ہیں جو فرد کو ایک دفتر یا ایک تنخواہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے بلکہ اسے بااختیار بناتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
زندگی صرف نوکری کا نام نہیں۔ ہر نوجوان کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کس راستے پر چل کر اپنی اصل صلاحیت کو پہچان سکتا ہے۔ تعلیم اگر شعور نہ دے تو صرف ڈگری رہ جاتی ہے، اور اگر ہنر نہ ہو تو انسان نوکری کا محتاج بن جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان صرف نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کریں جو انہیں آزاد، باوقار اور خودمختار بنا سکیں۔
عاطف افتخار
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.