
روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ جسم اور روح دونوں کی تربیت کا ایک جامع نظام ہے۔ جہاں یہ عبادت انسان کو روحانی سکون عطا کرتی ہے، وہیں جسم کے اندرونی نظام خصوصاً معدہ اور نظامِ ہضم کو بھی نئی توانائی بخشتی ہے۔ سال بھر بے احتیاط غذا اور بے قاعدہ طرزِ زندگی کے باعث معدہ مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔
روزہ اسے ایک منظم وقفہ فراہم کرتا ہے، جو صحت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جدید طبی تحقیقات بھی اس امر کی تائید کرتی ہیں کہ متوازن انداز میں رکھا گیا روزہ نظامِ ہضم کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
معدے کا السر ایک تکلیف دہ مرض ہے جو معدے کی اندرونی جھلی میں زخم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بے وقت کھانا، زیادہ مصالحہ دار غذا اور ذہنی دباؤ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
روزہ معدے کو وقتی آرام دیتا ہے اور تیزابیت میں کمی لانے میں مددگار ہو سکتا ہے، جس سے معدے کی جھلی کو اپنی مرمت کا موقع ملتا ہے۔ اگر افطار اور سحری میں سادہ اور متوازن غذا لی جائے تو السر کے خطرات میں کمی ممکن ہے۔
معدے کی سوزش، گیس اور تیزابیت جیسے مسائل آج کل عام ہو چکے ہیں۔ مسلسل کھانے کی عادت اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا رجحان ہاضمے کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ روزہ رکھنے سے معدے کو آرام ملتا ہے اور اضافی کھانے سے بچاؤ ہوتا ہے۔ یہ وقفہ ہاضمے کے نظام کو خود کو منظم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہلکی غذا، سبزیوں اور مناسب پانی کے استعمال سے سوزش اور بدہضمی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
معدے کا کینسر ایک سنجیدہ بیماری ہے جو اکثر دیر سے تشخیص ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وقفے سے کھانے کا نظام جسم میں خلیات کی مرمت کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ روزہ جسم کے اس قدرتی نظام کو متحرک کرنے میں معاون ہو سکتا ہے، جس سے غیر ضروری خلیات کی افزائش میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی سنگین مرض کی صورت میں طبی مشورہ ضروری ہے۔
تیزابیت، قبض اور گیس جیسے مسائل میں بھی روزہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ جب معدہ غیر ضروری خوراک سے آزاد رہتا ہے تو اس کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ فائبر سے بھرپور غذا، پھل، سبزیاں اور مناسب مقدار میں پانی ہاضمے کو متوازن رکھتے ہیں۔ اس طرح روزہ ہاضمے کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
آنتوں کے مسائل میں بھی وقفہ دینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ روزہ آنتوں کو بحالی کا موقع دیتا ہے اور ان کی کارکردگی میں بہتری لا سکتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شدید بیماری لاحق ہو تو ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ روزہ ایک قدرتی معالج کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف روحانی پاکیزگی عطا کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ سحری اور افطار میں اعتدال اور سادگی اختیار کی جائے۔ یوں روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.